انبالہ ہائیوے تک پہنچا کسانوں کا قافلہ، دہلی کی طرف بڑھ رہے ہزاروں ٹریکٹرس کے پہیے

دہلی کی طرف بڑھا پنجاب کے کسانوں کا قافلہ، پولیس نے انبالہ سے جانے کی دی اجازت
پنجاب کے کسان ‘دہلی چلو مارچ’ کے تحت راج پورہ بائپاس سے نکل چکے ہیں۔ پنجاب پولیس نے انھیں ہریانہ کے انبالہ سے دہلی کی طرف جانے کی اجازت دے دی ہے۔
دہلی چلو: ‘غیر جمہوری طریقے سے کسانوں کو روکا جا رہا’، جئے رام رمیش کا مرکز پر حملہ
کسان تنظیموں کے ذریعہ ‘دہلی چلو’ احتجاجی مارچ پر کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) جئے رام رمیش کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ”مودی حکومت کی طرف سے مکمل کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ (کسان) دہلی نہ آئیں۔ یہ مودی حکومت کی منشا کو ظاہر کرتا ہے کہ کس غیر جمہوری طریقے سے کسانوں کو روکا جا رہا ہے۔ جب وزیر اعظم نے تین زرعی قوانین کو واپس لیا تھا تو انھوں نے کسان تنظیموں سے کچھ وعدے کیے تھے جو پورے نہیں ہوئے۔”

دہلی چلو: کسان دہلی کی طرف قدم بڑھانے کو تیار، شمبھو بارڈر پر پہنچنے لگے ٹریکٹر
مرکزی حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان مذاکرہ ناکام ہونے کے بعد شمبھو بارڈر پر ٹریکٹر پہنچنے شروع ہو گئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے، وہ اپنا ‘دہلی چلو مارچ’ جاری رکھیں گے۔ مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے پوری دہلی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ 12 فروری سے 12 مارچ تک دفعہ 144 کا نفاذ رہے گا۔ پولیس کمشنر سنجے اروڑا کی طرف سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ اس دوران لوگوں کے اکٹھا ہونے، ریلیاں کرنے اور لوگوں کو لانے و لے جانے والی ٹریکٹر ٹرالیوں پر روک رہے گی۔
کسانوں کے ‘دہلی چلو’ مارچ کے پیش نظر دہلی کی سرحدوں پر سیکورٹی بڑھائی گئی
کسان تنظیموں کے ذریعہ ‘دہلی چلو’ مارچ کو لے کر دہلی میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ خصوصاً دہلی کی سرحدوں پر پولیس مستعد ہے۔ غازی پور بارڈر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کسانوں کو روکنے کے لیے راستہ بلاک کیا گیا ہے اور ٹریفک کی چکنگ بھی سخت کر دی گئی ہے۔ اس وجہ سے ٹریفک جام کا نظارہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

پاکستان میں عام انتخاب کے نتائج برآمد ہونے میں تاخیر کے بعد اب حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہو پائی ہے اس لیے حکومت کس کی بنے گی، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔ اس درمیان امریکہ کی وزارت خارجہ نے واضح بیان دیا ہے کہ وہ پاکستان میں برسراقتدار ہونے والی کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ میں وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے میڈیا کو بتایا کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں کوئی نئی حکومت بنی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب بھی اس پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ لیکن ایک بات واضح کرتا ہوں کہ پاکستان کی عوام جسے بھی منتخب کرے گی، ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com