شبِ قدر، فضائل و اعمال

شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کو یکسانیت کے اُصول پر پیدا نہیں فرمایاہے ؛ بلکہ مختلف جہتوں سے ان میں تفاوت اور ایک دوسرے پر فضیلت قائم رکھی ہے ، جیسے مادی دنیا میں ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک طرف شیر اور ہاتھی جیسے طاقتور جانور ہیں اور دوسری طرف ہرن اور بکری جیسے نازک و ناتواں حیوانات ، یا ایک طرف پہاڑ کی صلابت ہے اور دوسری طرف زمین کا بچھاؤ اور اس کی چاک دامانی کی صلاحیت ، اللہ تعالیٰ نے روحانی نظام بھی اسی انداز پر رکھا ہے ، کہ ان میں بھی ایک دوسرے پر فضیلت و برتری قائم رکھی گئی ہے ، یہ فضیلت شخصیات میں بھی ہے ، انسانیت کے سب سے مقدس گروہ انبیاء کرام ہیں ؛ لیکن انبیاء کے درمیان بھی تفاوتِ درجات موجود ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ(البقرۃ: ۲۵۳) یہ فرق اعمال میں بھی ہے ، عبادتیں بہت سی ہیں ، مگر ان سب میں اجر و ثواب برابر نہیں ، یہ فرق مقامات میں بھی ہے کہ یوں تو روایتوں میں زمین کا سب سے بہتر ٹکڑا اس حصہ کو قرار دیا گیا جس پر مسجدیں تعمیر کی گئی ہوں: خیر بقاع الأرض المساجد(مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر: ۹۱۱۹) لیکن مسجدوں میں مسجد حرام ، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کو جو درجہ و مقام حاصل ہے ، وہ دوسری مسجدوں کو حاصل نہیں ۔

مقام و مرتبہ کا یہ فرق زمانہ و اوقات میں بھی ہے ، رمضان المبارک کا مہینہ تمام مہینوں میں افضل ہے، خود رسول اللہ ﷺ نے اس مہینہ کو عظیم اور مبارک مہینہ قرار دیا ہے : ’’شہر عظیم شہر مبارک‘‘ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: ۳۶۰۸، صحیح ابن خزیمہ ، حدیث نمبر : ۱۸۸۷) پھر ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کے دن کو خاص فضیلت حاصل ہے؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کو تمام دنوں کا سردار قرار دیا ہے: سید الأیام یوم الجمعۃ (مسند أحمد ، حدیث نمبر: ۱۵۵۸۷) اورسال بھر کے دنوں میں سب سے افضل یوم عرفہ (۹؍ ذو الحجہ) کو قرار دیا گیا ہے کہ یہ دن حج کے رکن اعظم کے ادا کرنے کا اور دُعاء کی قبولیت کا ہے ، اسی طرح راتوں میں بھی کچھ راتوں کو خصوصی فضیلت حاصل ہے ، معتبر حدیثوں سے پانچ راتوں کا خصوصی مقام و مرتبہ معلوم ہوتا ہے ، شب عرفہ یعنی نو ذی الحجہ کی رات ، عید الفطر اور عید الاضحی کی رات ، شب براء ت یعنی پندرہویں شعبان کی رات اور شب قدر ؛ تاہم اس میں اختلاف نہیں کہ ان راتوں میں بھی شب قدر کو خصوصی فضیلت حاصل ہے اور کیوں نہ ہو کہ جس کتاب سے قیامت تک انسانیت کی فلاح و نجات متعلق ہے اور جو اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب ہدایت کا سب سے آخری اور مکمل ایڈیشن ہے یعنی قرآن مجید ، وہ اسی رات میں انسانیت کی طرف بھیجی گئی : اِنَّـآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ (سورۃ القدر: ۱)

اس رات کی فضیلت وعظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت خاص اس رات کے بارے میں نازل فرمائی ، ارشاد نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام جو انبیاء پر وحی لے کر اترا کرتے تھے وہ فرشتوں کے جلو میں اسی شب زمین پر تشریف لاتے ہیں اور اللہ کے جو بندے کھڑے یا بیٹھے ، خدا کی بارگاہ میں مشغول عبادت ہوتے ہیں ، اور اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں ، ان کے لئے دُعائے رحمت فرماتے ہیں:یصلون علی کل عبد قائم أو قاعد یذکر اللّٰه عز وجل (شعب الا یمان للبیہقی: ۳؍۳۴۳ ، حدیث نمبر : ۳۷۱۷) بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ فرشتے ذکر کرنے اورنماز پڑھنے والوں کو سلام بھی فرماتے ہیں ، مصافحہ بھی کرتے ہیں اور ان کی دُعاؤں پر آمین کہتے جاتے ہیں ۔ (فضائل الأوقات للبیہقی، ص: ۲۵۱)

خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے : لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ (قدر:۳) یعنی اس رات میں جو عبادت کی جائے گی ، وہ اجر و ثواب کے اعتبار سے ہزار مہینوں کی عبادت و ریاضت سے بھی بڑھ کر ہوگی ، ہزار مہینے سے مراد بے حساب اجر و ثواب ہے ، عربی زبان میں چوںکہ زیادہ سے زیادہ ہزار ہی کا عدد ہے ، غالباً اسی لئے قرآن مجید میں ہزار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، ورنہ اس سے بھی بڑھ کر اس رات کا درجہ ہے ؛ چنانچہ فرمادیا گیا کہ ہزار مہینوں سے اس رات کی عبادت کا اجر بڑھا ہوا ہے ، کس قدر بڑھاہوا ہوگا ، یہ پروردگار عالم کی عطاء و بخشش پر ہے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص شب قدر میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت کے لئے کھڑا ہوگا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے جائیںگے : من قام لیلۃ القدر ایماناً واحتساباً غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (صحیح البخاری، کتاب الایمان ، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان ، حدیث نمبر : ۳۴)

جہاں اس رات میں عبادت کا اجر بڑھ جاتا ہے ، وہیں یہ رات دعا کی قبولیت اوراستجابت کی بھی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس رات پروردگار عالم خود اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے : کیا تم میں سے کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی خطاؤں کو معاف کردوں؟ : ’’ھل من مستغفر أنا أغفر لہ؟ ہے کوئی روزی کا طلب گار کہ میں اس کو روزی عطا کروں : ’’ھل من مسترزق أن أرزقہ؟‘‘ ہے کوئی کسی مصیبت میں مبتلا شخص کہ میں اس کی اس مصیبت کو دُور فرمادوں ؟ ’’ھل من مبتل أنا أقضی حاجتہ؟ اللہ کی طرف سے یہ ندائے رحمت صبح تک ہوتی رہتی ہے ، جو اس آواز پر لبیک کہتا ہے ، اس کی دعا مقبول ہوجاتی ہے ؛ اس لئے یہ راتیں خاص طور پر اپنے پروردگار سے مانگنے اور اس کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ہیں ؛ اسی لئے جب اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر شب قدر مل جائے تو ہمیں کیا پڑھنا چاہئے ؟ آپ ﷺ نے ایک مختصر مگر جامع دُعا سکھائی: اللّٰہم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی(مسند أحمد ، حدیث نمبر : ۲۵۴۲۳) یعنی : ’’خداوندا ! بے شک آپ بہت معاف فرمانے والے ہیں ، نیز آپ معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں ؛ اس لئے میری خطائیں بھی معاف فرمادیجئے ، اگر چہ اس دُعا کے الفاظ مختصر ہیں ؛ لیکن اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ نہایت اہم دُعاء ہے ؛ کیوںکہ ایک خطا کار غلام کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی اور عافیت کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس کا آقا اسے معاف کردے ؛ اس لئے یوں تو ماہ مبارک اور اس کے اخیر عشرہ میں ہر طرح کی دُعاء کا اہتمام کرنا چاہئے ؛ لیکن یہ دُعاء خاص طور پر کرنی چاہئے ۔

نعمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو،یہ اسی کے لئے کار آمد ہے ، جو اس سے فائدہ اُٹھاسکے، اس سے زیادہ محروم اور کم نصیب کون ہوسکتا ہے جس پر نعمتوں کی بارش ہو اور اس کا دامن خالی رہ جائے؛ اسی لئے آپ ﷺ نے رمضان المبارک کی آمد پر اپنے رفقاء سے فرمایا کہ ایک ایسا مہینہ تم پر آچکا ہے جس میں ایک ایسی رات بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ، جو اس کی برکتوں سے محروم رہ گیا ، وہ گویا تمام ہی بھلائیوں سے محروم ہے اور جو شخص حقیقتاً محروم ہو ، وہی اس رات کے خیر سے محروم رہ سکتا ہے: ولا یحرم خیرھا إلا محروم (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام ، باب ما جاء فی فضل شہر رمضان ، حدیث نمبر: ۱۶۳۴)

ان محروموں میں یقیناً وہ لوگ شامل ہیں ، جو ان مبارک اوقات کو اللہ کی بندگی اور ذکر میں لگانے کی بجائے خرید وفروخت ، ہوٹلوں میں ذائقہ چشی، بازاروں میں ادھر سے اُدھر کی دوڑ دھوپ اور بے فائدہ کاموں میں گذار دیتے ہیں ، اور اس میں وہ بد نصیب بھی شامل ہیں ، جن کے لئے آج کی اس رات میں بھی دُعاء کی قبولیت اور مغفرت کا دروازہ بند رہتا ہے ، آپ ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’چار افراد وہ ہیں جن کی دُعا اس مبارک و مسعود شب میں بھی دروازۂ رحمت سے واپس کردی جاتی ہے اور خدائے رحیم و کریم کا قلم عفو اُن کو اپنے سائے سے محروم رکھتا ہے ، ایک وہ شخص جو عادتاً شراب پیتا ہو ، دوسرے : اپنے والدین کا نافرمان ، تیسرے : رشتوں کو توڑ دینے والا اور چوتھے : ’’کینہ پرور‘‘ (فضائل الاوقات للبیہقی، ص : ۲۹۱) آہ ! کیسے کم نصیب اوربدقسمت ہیں یہ لوگ کہ خدا کی نعمت بے کراں کا سمندر موجیں مار رہا ہے ، مگر اس کا قطرہ قطرہ ان گناہ گاروں اور نافرمانوں سے گریزاں ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ رحمت ربانی کا دروازہ کھلا ہوا ہے ، ہر بادہ خوار قدر شناس کے لئے موقع ہے کہ وہ داخل ہو ، جام عشق کے گھونٹ پیئے اور صہبائے محبت کا لطف اُٹھائے ؛ لیکن ضروری ہے کہ ہاتھ میں وفا کا دامن ہو ، محبوب کی محبت اور ساقی رحیم کی اُلفت سے اس کا دل معمور ہو اور عمل سے اس کی تصدیق ہو ، ایک صوفی شاعر کے بہ قول :

درِ مے خانہ وا ہے سب کے لئے

شرط لیکن وفا ہے سب کے لئے

. . .

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com