ہم کو ایک ساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہوگا، ملک میں اچھے اور سچے لوگوں کی کمی نہیں: مولانا سجاد نعمانی سکولر جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ مسلم لفظ سے پرہیز ختم کریں!

لکھنؤ: م(پریس ریلیز) عروف عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال امید افزا ہے۔ عوام نے پارلیمانی انتخابات میں مہنگائی، بے روزگاری، خواتین کی حفاظت، منی پور، کسانوں اور مزدوروں کے حقیقی مسائل پر ووٹ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صحیح سمت میں مل کر مزید کام کیا جائے تو نتائج برآمد ہوں گے۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ تمام مظلوموں کو انصاف فراہم ملے۔

مولانا سجاد نعمانی نے بتایا کہ ملک میں پہلی بار مساجد ائمہ اور مدارس اساتذہ نے ووٹر کارڈ بنوانے اور ووٹرز کو بوتھ تک لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی زمینی سطح پر مضبوط گرفت ہوتی ہے۔ اگر ہماری سول سوسائٹی ان کی طرح نکل کر کام کرے گی، تو مستقبل میں بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ مولانا نعمانی نے کہا کہ تعجب ہوتا ہے کہ کچھ لوگ مسجد ائمہ اور مدارس اساتذہ کو سول سوسائٹی سے الگ سمجھتے ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے؟ حقیقت میں یہی لوگ سب سے زیادہ عوام سے منسلک ہوتے ہیں۔

 مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ ملک کے اندر سنگھ پریوار اور بی جے پی کے بارے میں جو خوش فہمی تھی، بڑا اچھا ہوا کہ 10 سال کے تجربے کے بعد کم ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بھاجپا کو ہندوتوا پر ووٹ نہیں ہوا بلکہ 15 لاکھ روپے بینک اکاؤنٹ میں ائیں گے، دو کروڑ روزگار، کسانوں کی امدنی دوگنی وغیرہ وعدوں پر ووٹنگ ہوئی تھی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اکثر سننے میں آتا ہے کہ غیر مسلم بھائیوں اور بہنوں کے اندر بہت زیادہ ہندوتوا کا زہر گھس گیا ہے جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ میرے غیر مسلم بھائیوں سے اچھے تعلقات ہیں، وہ بھی ملک میں فرقہ واریت کے خلاف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب ملک کے کسان بھائی اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے، تب میں کسان تحریک میں شامل رہا۔ اس سے انہیں محسوس ہوا کہ ملک کے کسان تنہا نہیں ہیں۔ ہمیں سبھی کے حقوق کے لیے اواز اٹھانی پڑے گی۔

مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ ملک میں صرف مسلمانوں کے حقوق کا نہیں ہے بلکہ معاشرے کے تمام لوگوں کے حقوق کا معاملہ ہے، یہی قرآنی تعلیم ہے۔ اسلام صرف تقریر سے نہیں پھیلا بلکہ عمل اور سچ بولنے سے پھیلا ہے۔ اسلام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ ہمارے ملک میں ایک ویکیوم یا خلاء بنا ہوا ہے، جسے پورا کرنے کے ضرورت ہے۔ 80 کروڑ لوگوں کو مفت راشن دیا جا رہا ہے، جسے موجودہ حکومت فخر سے دیکھتی ہے جبکہ یہ سرکار کی ناکامی ہے۔ ادانی امبانی امیر ہو رہے ہیں اور ملک کی عوام مزید غریب ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں مسلمان کا نام لینے سے پرہیز کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی ہوں یا اکھلیش یادو کوئی بھی ‘مسلمان’ بولنے کو تیار نہیں۔ اقلیت کیا ہوتا ہے؟ کیا یہی ملک کے مسلمانوں کی پہچان ہے؟ مسلمان کا ووٹ چاہیے لیکن اسے برابری کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔مولانا سجاد نعمانی نے سخت الفاظ میں کہا کہ ملک کی بربادی میں ایک طرح جہاں ” طاقتوں کا حصہ ہے وہیں، خود کو ‘سیکولر’ کہنے والے بھی کم گنہگار نہیں۔ انتخابات کے وقت مسلمان ایک پارٹی کو اتار کر دوسری کو لانے کا کام کرتا ہے۔ اب یہ اسٹریٹجی کامیاب نہیں ہے۔ ایک ایسی لیڈرشپ ابھرے جس کی قیادت آپ کے ہاتھ میں ہو، جس میں دلت، obc، آدیواسی، لنگایت، سکھ عیسائی وغیرہ ہوں اور سبھی کی منصفانہ شراکت داری ہو۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com