الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اگر انسان کو کو ئی ایسی بات درپیش ہو جس میں صرف خیر ہو ، برائی کا پہلو نہ ہو ، اور اسے قبول کرنے اور نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہوتو اس وقت فیصلہ کرنا چنداں دشوار نہیں ، ہر عقل سلیم رکھنے والا شخص اس کو قبول کر ے گا ، اور اگر کوئی بات خالصتاً شر اور برائی کی ہوتو اس صورت میں بھی فیصلہ کرنا مشکل نہیں ، ہر سمجھدار آدمی اس سے گریز اور اجتناب کا راستہ اختیار کرے گا ؛ لیکن انسان کی قوت انتخاب کا امتحان اس وقت ہوتا ہے ، جب اس کے سامنے دو اچھی چیزیں رکھی گئی ہوں ، یہاں اس کو طے کرنا ہے کہ بہتر کون ہے اور بہترین کون ہے ، کون خوب ہے اورکون خو ب تر ہے ؟ اس سے بھی مشکل مر حلہ اس وقت درپیش ہوتا ہے ، جب دو برائیاں انسان کے سا منے ہوں ، اور بیک وقت ان دونوں سے نہیں بچا جاسکتا ہو ، انسان ایک برائی کو قبول کرنے پر مجبور ہو ، اس وقت انسان کی قو ت فیصلہ ، فہم وشعور ، زمانہ آگہی ، اور مصلحت شناسی کی اصل آزمائش ہوتی ہے ۔

 مختلف مصلحتیں اپنی طرف کھینچتی ہیں اور انسان کے دل کا جھکائو کبھی ایک طرف ہوتا ہے ، اور کبھی دوسری طرف ، معاشی ترقی کے اعتبار سے ایک صورت بہتر معلوم ہوتی ہے ، اور جان ومال کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے دوسری صورت قابل ترجیح محسوس ہوتی ہے ، ایک راستہ اختیار کرنے میں وقتی مصالح کی بہتری نظر آتی ہے ؛ لیکن مآل وانجام کے اعتبار سے اس سے غیرمعمولی نقصا ن کا اندیشہ ہوتاہے ، اور دوسرے راستہ میں انجام کے اعتبار سے نسبتاً اُمید کی کرن نظر آتی ہے ، ایسی صورت میں ترجیحات قائم کرنا اور نفع و نقصان کی ترازو میں تول کر یہ بات متعین کرنی ضروری ہوتی ہے کہ کون سی صورت کم نقصان کی ہے ؟ شریعت نے ہمیں غور وفکر کا یہی طریقہ سکھایا ہے ، حضرت عمار بن یاسر ؓکو کلمۂ کفر کہنے پر مجبو ر کیا گیا ، ان کے سامنے دوراستے تھے ، ایک صورت یہ تھی کہ کلمہ کفر کہہ کر جان بچا لیتے ، دوسری صورت یہ تھی کہ جان دے دیتے اور کلمہ کفر سے اپنی زبان کی حفاظت کرتے ، انھوں نے اجتہاد سے کام لیا کہ اگر جان چلی جائے گی تواگلے مر حلوں میں رسول اللہ ﷺ کی نصرت و اعانت کرنے سے محروم ہو جائیں گے ، اسلام کی دعوت واشاعت کا جو کام آئندہ کر سکتے ہیں ، وہ نہیں کرپا ئیںگے ، اوراگر کلمۂ کفر مجبوری کی حالت میں زبان سے نکال دیا تو چوںکہ ایمان کااصل تعلق قلب سے ہے نہ کہ زبان سے ؛ اس لئے –انشاء اللہ — پھر بھی دولت ایمان سے محروم نہیں ہوں گے ؛ چنانچہ حضرت عمارؓنے جان بچانے کوترجیح دی ؛ لیکن ان کا دل ایمان کے نور سے معمور تھا ؛ اس لئے بے چین ہو گئے ، روتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنی داستان درد سنائی ، رسول اللہ ﷺنے دریافت فرمایا کہ تمہارادل تو ایمان پر مطمئن ہے ؟ حضر ت عمار نے عرض کیا : بے شک آپ ﷺ نے فرمایا :پھر کوئی حرج نہیں ہے ؛ بلکہ اگر آئندہ بھی ایسی آزمائش آئے توزبان سے کلمہ کفر کہہ کر اپنی جان بچا لو ، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِيْمَانِ (النحل: ۱۰۶)

اسی طرح اگر کوئی شخص بھوک و پیاس کی وجہ سے ایسی صورتِ حال سے دوچار ہوکہ اگر کھائے اور پئے نہیںتو اس کی جان چلی جائے ، شریعت نے ایسے مضطرو مجبور شخص کے لئے جان بچا نے کی حدتک خنزیر جیسے حرام جانور یا مردار کا گوشت کھانے اورشراب پینے کی اجازت دی ہے، حرام شئے کا کھانا اور پینا ایک بر ائی اور دینی ضرر ہے ، زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ، جس کی حتی المقدور حفاظت کا حکم دیا گیا ہے ، اس کو کھو دینا بھی ایک ضررہے ، دینوی اعتبار سے تو یہ ضرر ہے ہی ، دینی اعتبار سے بھی یہ ضرر ہے ، ایک انسان سے اس کے بوڑھے والدین ، یتیم بھا ئیوں بہنوں ، کسب ِمعاش کی صلاحیت سے محروم بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کا حق متعلق ہے ، نیز وہ اللہ کی توفیق سے بہت ساری دینی خدمت بھی انجام دے سکتا ہے ؛ لیکن اگر انسان زندگی سے محروم ہو جائے تو متعلقین کی ضرور یات اور دین کی بہت ساری خدمات بظاہر پو ری نہیں ہوپائیں گی ؛ اس لئے اگر چہ دین کی اہمیت اس وقت ایک مسلمان کی جان ومال سے بڑھ جاتی ہے ، جب جان ومال کی قربانی کے بغیر دین کا بچا ئو ممکن نہ ہو ؛ لیکن جب دین کا تحفظ اس پر مو قوف نہ ہو تو عارضی طور پر بقد ر ضرورت شریعت کے کسی عمومی حکم کے مقابلہ انسانی زندگی کی حفاظت کو ترجیح دی گئی ہے ۔

احکام شریعت میں اس کی بڑی اہمیت ہے ؛ اسی لئے شریعت کے ماہرین نے مختلف قواعد مقرر کئے ہیں ، جو ترجیحات کے سلسلے میں اُمت کی رہنمائی کرتے ہیں ان میںسے بعض کا تذکرہ یہاں مناسب ہوگا :

=یتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام ۔

عمو می اور اجتماعی نقصان کو دُور کرنے کے لئے شخصی اور انفرادی نقصان کو گوارا کیا جائے گا ۔

=إذا تعارض المفسدتان روعی أعظمھا ضررا بارتکاب أخفھما ۔

جب دو برائیوں کا ٹکراؤ ہو تو کم تر برائی کا ارتکاب کرکے بڑی برائی کو دُور کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

=درء المفاسد أولی من جلب المصالح ۔

مفاسد کو دُور کرنا مصلحتوں کے حاصل کرنے سے بہتر ہے ۔

ان قواعد کو مختلف الفاظ اور تعبیرات میں فقہاء نے بیان کیا ہے ، ان کا تعلق صرف فقہی جزئیات ہی سے نہیں ہے ؛ بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں پیش آنے والے احوال سے بھی ہے ، خاص کر اس وقت اپریل ومئی ۲۰۱۴ء میں جو الیکشن سر پر کھڑا ہے ، اس میں اس بات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ مسلمان شعور سے کام لیں تائید و مخالفت میں ترجیحات قائم کریں ، مفید اور زیادہ مفید ، اور اس سے بڑھ کر نقصان دہ اور زیادہ نقصان دہ کے درمیان خط امتیاز کھینچیں اور پوری فراست ایمانی کے ساتھ الیکشن کے سلسلہ میں فیصلہ کریں ، اگر اس وقت مسلمانوں نے سمجھداری سے کام نہیں لیا تو ایسے نقصان کا اندیشہ ہے کہ شاید دُور تک اور دیر تک اس کی تلافی ممکن نہ ہو ۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بی جے بی کا ایجنڈا بالکل واضح ہے ، یہ ایسی پارٹی ہے جس کا ایجنڈہ آر ایس ایس کی طرف سے طے ہوتا ہے اور آر ایس ایس کی بنیاد ہی مسلمان سے نفرت پر ہے ، اس نے یکساں سول کوڈ لانے کے عزم و ارادہ کو مخفی نہیں رکھا ہے ؛ بلکہ یہ اس کے منشور کا حصہ ہے ، اقلیتی کمیشن یا اقلیتی بہبود کی وزارت ایک ایسا کڑوا گھونٹ ہے ، جس کو یہ بطیب خاطر حلق سے اُتارنے کو تیار نہیں ہیں ، شمال شرقی ریاستوں کو جو خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں ، اس پر تو اس کو کوئی اعتراض نہیں ہے ؛ لیکن کشمیر کے مسلم اکثریت ریاست ہونے کی وجہ سے وہی رعایت اس ریاست کے لئے بی جے پی کو قبول نہیں ہے ، یعنی بی جے پی کو اس ملک کا سیکولرزم پسند نہیں ہے ، وہ چاہتی ہے کہ اس ملک میں اکثریتی فرقہ کا اقتدار ہو ، اقلیتیں اکثریت کی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اور دوسرے درجہ کا شہری بن کر رہنے پر آمادہ ہوجائیں ، جو پارٹیاں بی جے پی کے بنائے ہوئے این ڈی اے اتحاد میں شامل ہیں ، ان کی شمولیت میں نقصان کا پہلو تو بالکل واضح ہے کہ انھیں کی تائید سے یہ فرقہ پرست جماعت کرسی اقتدار پر قبضہ کرسکتی ہے ، اور جب وہ اقتدار میں آئے گی تو ضرور ہی مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گی ، دوسرا پہلو ایک درجہ میں بہتری کا بھی ہے کہ معاون پارٹیوں کے دباؤ کی وجہ سے بہت سی دفعہ بی جے پی اپنے بعض غیر سیکولر ایجنڈے کو نافذ کرنے سے قاصر رہتی ہے ، جیسے واجپائی دور میں دستور میں تبدیلی کی بہت کوشش کی گئی ، مگر اتحادی پارٹیوں کی مخالفت کی وجہ سے کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ، یکساں سول کوڈ ، اور اس طرح کے دوسرے فرقہ وارانہ اہداف کو وہ جاری نہیں کرپائی ، یہاں تک کہ بعض ریاستوں کی مخالفت کی وجہ سے پورے ملک کی سطح پر گو کشی کی ممانعت کا قانون لانے میں بھی ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا ؛ لیکن بہر حال یہ اتحادی پارٹیاں اقتدار حاصل کرنے میں بی جے پی کے لئے سیڑھی کا کام کرتی ہیں ۔

افسوس کہ جو جماعتیں اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہیں ، ان کے بھی دو چہرے ہیں ، ایک : وہ خوبصورت ، سنوارا اور آراستہ کیا ہوا چہرہ ہے ، جس کو وہ الیکشن کے موقع سے مسلمانوں کے سامنے کھولتی ہے ، دوسرا : حقیقی چہرہ ہے ، جو اس تصور پر مبنی ہے کہ اگر بی جے پی سخت ہندو توا کی ترجمان ہے تو ہم بھی نرم ہندو توا پر قائم ہیں ، اگر بی جے پی نے رام مندر کے لئے تحریک چلائی ہے تو بعض سیکولر پارٹیوں نے بابری مسجد کا تالا کھلوایا اور دہلی میں تخت اقتدار پر بیٹھ کر مسجد کی شہادت کا تماشا دیکھا ہے اور یہ تو ابھی کل کی بات ہے کہ جب بے قصور مسلم نوجوانوں کو اُترپردیش کی حکومت نے رہا کرنے کے سلسلہ میں کوشش کی تو مرکز کی کانگریس حکومت نے اس کا تعاون نہیں کیا، ۲۰۰۴ء سے انسداد فرقہ وارانہ فسادات کابل سرد خانے میں پڑا رہا اورکانگریس کا وعدہ ’’وعدۂ محبوب‘‘ثابت ہوا ، قومی پارٹیوں کے علاوہ ہندوستان میں اس وقت مقامی پارٹیوں نے بھی بڑی اہمیت حاصل کرلی ہے ، فطری طور پر ان کی زیادہ توجہ ریاستی مسائل پر ہوتی ہے ۔

ان حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت دشوار ہوگیا ہے کہ وہ کس پارٹی کو اپنا ووٹ دیں ؟ اگرچہ اب ووٹروں کے لئے ایک اختیار یہ بھی رکھ دیا گیا ہے کہ وہ ’’کوئی نہیں‘‘ پر اپنی مہر لگاسکتے ہیں ؛ لیکن اس اختیار سے فائدہ اُٹھانا اقلیت کے لئے سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا اور اس کا فائدہ فرقہ پرست طاقتوں کو ہوگا ؛ اس لئے اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ ووٹ دینے کے سلسلہ میں اپنی ترجیحات قائم کریں ، انھیں صرف یہی نہیں دیکھنا ہے کہ کون بہتر ہے اور کون زیادہ بہتر یا کون بد تر ہے اور کون زیادہ بدتر ؟ بلکہ ان کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ کون فرقہ پرست اُمیدوار کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اور کون اُمیدوار اگرچہ اچھا ہے اور اگرچہ اس کی پارٹی کا منشور بھی نسبتاً اچھا ہے ؛ لیکن اس میں فرقہ پرست اُمیدوار کو شکست دینے صلاحیت نہیں ہے ، ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اگر مسلمان اپنے ووٹ کا استعمال کریںگے ، تبھی وہ فرقہ پرست طاقتوں کو بام اقتدار پر چڑھنے سے روک سکیں گے ۔

کچھ لوگ مختلف نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی طرف سے مسلمانوں کے استحصال کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے ہیں کہ ایک بار بی جے پی کا یا نریندر مودی کا تجربہ کرلینے میں کیا حرج ہے ؟ — مگر یہ محض جذباتیت اور جوش بلاہوش کی بات ہے ، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص آگ میں کود نے یا زہر کھانے کا تجربہ کرے ، بی جے پی کا اقتدار ناآزمودہ نہیں ہے ، جنتا پارٹی دور حکومت میں مسلمانوں نے اس کا طرز عمل دیکھا ہے اور اٹل بہاری واجپائی (جن کو بی جے پی کا سب سے زیادہ سیکولر لیڈر سمجھا جاتا تھا) کے اقتدار کا بھی مسلمانوں نے تجربہ کیا ہے ، آج پولیس، فوج ، یہاں تک کہ عدالتی ڈھانچہ میں بھی جو فرقہ پرست عناصر شامل ہیں ، نیز تعلیم ومیڈیا کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی جو کوشش کی جارہی ہے ، یہ ان ہی حکومتوں کا کارنامہ ہے ، پھر مسلمانوں نے اُترپردیش میں کلیان سنگھ کی حکومت کو دیکھا ہے ، جس میں عین دوپہر کے وقت کھلے عام بابری مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی اور انھوں نے گجرات میں مودی کی حکومت کا تجربہ بھی کیا ہے ، جس میں مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور کوئی دیکھاوے کے طور پر بھی ان کے آنسو پونچھنے کے لئے آگے نہیں بڑھا ؛ اس لئے یہ تجربہ جانتے بوجھتے سانپ کے منھ میں اپنی انگلی ڈالنا ہے ۔

البتہ ہندوستان کے موجودہ حالات اور ملی مفادات کے پس منظر میں چند ترجیحات قائم کی جاسکتی ہیں :

  ان میں سے پہلی ترجیح یہ ہے کہ فرقہ پرست پارٹی کے نمائندوں کو شکست دی جائے اور جو اُمیدوار اس کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہو ، اس کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا جائے ، خواہ وہ کسی پارٹی کا اُمیدوار ہو ، یہاں تک کہ وہ آزاد ہی اُمیدوار کیوں نہ ہو ، نیز چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ؛ کیوںکہ یہاں اصل مقصود فرقہ پرست عناصر کو شکست دینا ہے ۔

  دوسری ترجیح یہ ہے کہ جہاں کوئی مسلم جماعت موجود ہو اور واقعی اس کے کامیاب ہونے کی اُمید ہو ، وہاں اس کے حق میں ووٹ کا استعمال ہو ، مسلم جماعت ہی کا نمائندہ ہو ؛ لیکن بظاہر اس کے جیتنے کا امکان نہ ہو تو اس کے حق میں ووٹ کا استعمال اپنے حق کو ضائع کرنا ہے ، اور بالواسطہ فرقہ پرست طاقتوں کو فائدہ پہنچانا ہے ، مسلم جماعتوں کو بھی چاہئے کہ جہاں مسلم ووٹ کم ہوں یا جہاں ان کے اُمیدوار کھڑا کرنے کی وجہ سے مسلم ووٹ کے بٹ جانے کا اور فرقہ پرست جماعتوں کے کامیاب ہونے کا اندیشہ ہو، وہاں اپنا اُمیدوار کھڑا نہ کریں ، ایسی جگہوں سے اُمیدوار کھڑا کرنے سے دو نقصان ہوتا ہے ، ایک یہ کہ مسلم ووٹ کی تقسیم کی وجہ سے فرقہ پرستوں کو فائدہ پہنچ جاتا ہے ، دوسرے : مسلمانوں اور اکثریتی فرقہ کے درمیان تعلقات میں ہم آہنگی باقی نہیں رہتی ، نفرت کے جذبات اُبل پڑتے ہیں اور ایسے مقامات پر مسلمانوں ہی کو نقصان اُٹھانا پڑتا ہے ، یہ بھی ضروری ہے کہ مسلم جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف اُمیدوار کھڑا نہ کریں ، جہاں ایک جماعت پہلے سے کامیاب ہوتی چلی آرہی ہے یاجہاں اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں وہاں دوسری مسلم جماعتیں اپنا اُمیدوار کھڑا کرنے سے باز رہیں ؛ بلکہ اسی جماعت کو تقویت پہنچائیں — بظاہر مسلم جماعتوں کے نمائندوں کا معتدبہ تعداد میں پارلیمنٹ تک پہنچنا دشوار نظر آتا ہے ؛ لیکن کم تعداد میں سہی ، ان کی موجودگی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان جماعتوں کے نمائندے اپنے ضمیر کی آواز پر اظہار خیال کرسکتے ہیں ، ورنہ جو مسلمان سیکولر پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں ، وہ اپنی پارٹی کے نقطۂ نظر سے ہٹ کر رائے نہیں دے سکتے ؛ بلکہ یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ اکثر اوقات ان کو اپنے ضمیر کو خواب آور گولی کھلانی پڑـتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ یو پی اے حکومت میں پوٹا کے مماثل قانون پاس ہوا ، رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون پاس ہوا ، قانون وقف ۲۰۱۰ء پاس ہوا ؛ لیکن کانگریس کے کسی مسلمان ممبر کی زبان نہیں کھل سکی ؛ اس لئے ایسے مسلمان نمائندوں کو ریاست اور مرکز کی سطح پر ایوان قانون میں موجود ہونا چاہئے جو اپنے ضمیر کی آواز پر اور ملی مفاد کی بنیاد پر اظہار خیال کرسکیں ؛ مگر ظاہر ہے کہ ایسے نمائندہ کو اسی علاقہ میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ، جہاں مسلم آبادی کا ارتکاز ہو ، جیسے : آسام ، کیرالہ ، شہر حیدرآباد اور ملک کے مختلف علاقوں میں خاص خاص حلقہ ہائے انتخاب ۔

  جہاں مسلمانوں کی کوئی سیاسی جماعت نہ ہو ، فرقہ پرست جماعت کے مقابلہ کئی سیکولر جماعتیں ہوں ، اور کسی جماعت نے مسلمان کو اُمیدوار بنایا ہو اور وہ فرقہ پرست اُمیدوار کو شکست دے سکتا ہو تو اسے ترجیح دی جائے ؛ کیوںکہ مرکزی اور ریاستی قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی تعداد ان کی آبادی کے لحاظ سے بہت ہی کم ہے ، اور دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے ، اکثریتی فرقہ کی یہ سوچ بنتی جارہی ہے کہ مسلمان چاہے کسی پارٹی سے کھڑا ہو ، اسے ووٹ نہیں دیا جائے ، ان حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مسلمان اُمیدوار کی مدد کریں ، جس کے کامیاب ہونے کا امکان ہو ، جو ادارے ملک وقوم کی قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہوں ، وہاں مسلمانوں کی کوئی آواز باقی نہ رہے ، اس سے بڑھ کر کوئی بات افسوس کی نہیں ہوسکتی ۔

  جہاں مسلمان اُمیدوار نہ ہوں ، یا ہوں ؛ لیکن ان کے کامیاب ہونے کی توقع نہ ہو ، وہاں دو باتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے : ایک تو اس پارٹی کا منشور جس سے وہ کھڑا ہوا ہے ؛ کیوںکہ موجودہ قانون میں وہپ جاری ہونے کے بعد ہر ممبر اپنی پارٹی کے نقطۂ نظر کا پابند ہوتا ہے ، دوسرے خود اس اُمیدوار کے شخصی حالات کو بھی دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنے علاقہ کے لوگوں کا کتنا بہتر نمائندہ ثابت ہوسکتا ہے ۔

ووٹ ایک امانت ہے اور اس کا صحیح استعمال نہ صرف ہماری سماجی ذمہ داری ہے ؛ بلکہ مذہبی فریضہ بھی ہے ، نیز ووٹ ایک ہتھیار بھی ہے جس سے جمہوری طریقہ پر انقلاب لایا جاتا ہے ، ناپسندیدہ حکمرانوں کو اقتدار سے نکال باہر کیا جاسکتا ہے ، اور اچھے لوگوں کو حکومت سونپی جاسکتی ہے ؛ اس لئے اس کا استعمال ضرور کرنا چاہئے اور سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے ، پہلے اچھی طرح حالات کا تجزیہ کرنا چاہئے ، کسی بھی پارٹی کے جیتنے اور ہارنے کے عواقب پر غور کرنا چاہئے ، ماضی کے تجربات کو سامنے رکھنا چاہئے ، مستقبل کے اندیشوں اور توقعات کے درمیان موازنہ کرنا چاہئے ، یہ بات بھی ذہن سے اوجھل نہیں ہونی چاہئے کہ اس وقت امریکہ اور اسرائیل ہندوستان میں اپنے سیاسی عزائم رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ اقتدار میں آئیں جن کا ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہو ، وہ ان کی پالیسیوں کے مطابق فیصلے کریں ، یہاں تک کہ داخلہ پالیسی ، اقتصادی نظام ، دفاعی سودے اور خارجہ پالیسی کے معاملہ میں بھی ان کی خواہش ہے کہ ترقی پذیر ممالک ان کی قائم کی ہوئی حدود سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں ۔

 یہ ساری ترجیحات شریعت کے اس حکم پر مبنی ہے کہ ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو وہ برائی کو روکنے اور ظلم کا پنجہ تھامنے کی کوشش کرے ، اس وقت ملک سیاسی اعتبار سے ایک دو راہے پر ہے ، اگر مسلمان جذبات کی رو میں بہہ گئے ، ہوش پر جوش کا غلبہ ہو گیا ، اورفیصلہ کرنے میں غلطی ہوگئی، تو بقول شاعر :

لمحہ گزر گیا تو سمجھئے صدی گئی

۰ ۰ ۰

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com