پٹنہ: (ملت ٹائمز / ایجنسیاں) حجاب تنازعہ کی وجہ سے ملک بھر میں سرخیوں میں آنے والی آیوش ڈاکٹر نصرت پروین کو نتیش حکومت نے ایک مرتبہ پھر ملازمت جوائن کرنے کا موقع دے دیا ہے۔ محکمۂ صحت، حکومتِ بہار نے جوائننگ کی آخری تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے اب 7 جنوری مقرر کر دی ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 15 دسمبر کو منتخب ڈاکٹروں میں تقرری نامے تقسیم کیے تھے۔ اسی تقریب کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نصرت پروین کا حجاب ہٹاتے ہوئے نظر آئے، جس کے بعد یہ معاملہ پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا تھا۔
ڈاکٹر نصرت کو ابتدائی طور پر 20 دسمبر 2025 تک اپنی ڈیوٹی جوائن کرنی تھی، تاہم حجاب تنازعہ کے بعد انہوں نے جوائننگ نہیں کی۔ بعد ازاں حکومت نے انہیں 31 دسمبر تک کی مہلت دی، مگر اس تاریخ تک بھی انہوں نے ملازمت جوائن نہیں کی۔ اب محکمۂ صحت نے ایک بار پھر نرمی دکھاتے ہوئے جوائننگ کی مدت 7 جنوری تک بڑھا دی ہے۔
ادھر پٹنہ کے سرکاری میڈیکل کالج و ہاسپٹل کے پرنسپل ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن نے جمعہ کو دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر نصرت پروین کے اہل خانہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ جلد ہی ڈیوٹی جوائن کریں گی۔ ان کے مطابق اہل خانہ نے یہ بھی کہا تھا کہ نصرت ہفتہ (3 جنوری) کو جوائن کریں گی، تاہم اب تک ان کی جوائننگ کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر نصرت پروین کا معاملہ اب محض محکمۂ صحت تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سیاسی بیانات اور الزامات کے درمیان ڈاکٹر نصرت اور ان کا خاندان مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
بہار کے گورنر عارف محمد خان بھی ڈاکٹر نصرت کو ملازمت جوائن کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے انہیں تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کی پیشکش کر کے معاملے کو مزید سیاسی رنگ دے دیا ہے۔
اب سب کی نظریں 7 جنوری پر مرکوز ہیں کہ آیا ڈاکٹر نصرت پروین اس آخری مہلت میں اپنی ڈیوٹی جوائن کرتی ہیں یا نہیں۔






