کیف/واشنگٹن/کاراکاس: (ملت ٹائمز/ایجنسیاں) وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے جہاں عالمی سطح پر شدید ہلچل مچا دی ہے، وہیں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا ردِعمل خاص توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقدام پر براہِ راست کسی کا نام لیے بغیر ایسا طنزیہ بیان دیا ہے جسے ٹرمپ کی پالیسی کی بالواسطہ حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کے بعد جب زیلنسکی سے وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:
“اگر اس طرح آمروں سے نمٹنا ممکن ہے، تو امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔”
اگرچہ زیلنسکی نے کسی رہنما کا نام نہیں لیا، تاہم مبصرین کے مطابق ان کا اشارہ واضح طور پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب تھا۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکہ نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس پر اچانک فوجی حملہ کیا، جس کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورِس کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں کو منشیات اسمگلنگ اور منشیات سے منسلک دہشت گردی کے الزامات میں مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔
امریکی محکمۂ انصاف کا دعویٰ ہے کہ مادورو کی حکومت بدعنوان اور ناجائز ہے، جبکہ مادورو پر 2020 سے منشیات اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ دوسری جانب وینزویلا کے سرکاری حلقوں نے ان الزامات کو سیاسی انتقام اور خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوجی آپریشن محض 30 منٹ تک جاری رہا، جس دوران کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے سنے گئے۔ اس تیز رفتار کارروائی کے فوراً بعد عالمی طاقتوں کا ردِعمل سامنے آنا شروع ہو گیا۔
روس نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ایک خودمختار ملک کے قانونی طور پر منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرے۔ چین نے بھی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ کسی بھی تنازع کو فوجی طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
ادھر بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ وینزویلا کا انتظامی کنٹرول کسی بھی طریقے سے سنبھالنے اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر کو عالمی منڈی میں فروخت کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس نے اس فوجی کارروائی کے اصل مقاصد پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
زیلنسکی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی یوکرین جنگ اور عالمی طاقتوں کی صف بندی کے باعث شدید کشیدگی کا شکار ہے، اور ناقدین کے مطابق یہ بیان عالمی سیاست میں نئی صف بندی اور متنازعہ امریکی پالیسیوں کی بالواسطہ تائید کی علامت بن سکتا ہے۔






