ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت

خورشید عالم داؤد قاسمی

ابو عبیدہ، جن کا اصل نام حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت (ابو ابراہیم) بتایا جاتا ہے، تقریباً دو دہائیوں تک حماس کے عسکری بازو القسام بریگیڈز کے ترجمان رہے۔ یہ عظیم اور باوقار شخصیت مسلسل اسرائیلی قابض افواج کے نشانے پر تھی۔ کئی مرتبہ قابض فوج نے انھیں شہید کرنے کی کوشش کی؛ مگر ہر بار ناکامی اس کا مقدر بنی۔اسرائیل فوج نے 31/ اگست 2025 کو یہ اعلان کیا کہ اس نے القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کو 30/ اگست کے حملے میں ختم کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد حماس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں عوام سے کہا گیا کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ تاہم اس کے بعد وہ مانوس آواز، جو ابو عبیدہ کے نام سے القسام بریگیڈز کے ترجمان کی حیثیت سے وقفے وقفے سے سنائی دیتی تھی، خاموش ہو گئی۔ دن گزرتے گئے، پھر ہفتے بیت گئے، مگر القسام کا وہ ترجمان، اپنے مخصوص انداز میں، چہرے پر لال رومال باندھے، نقاب پوش دوبارہ منظرِ عام پر نہ آ سکا۔ عوام کا تجسس بڑھتا گیا اور ہر زبان پر یہی سوال تھا کہ وہ دلیر ترجمان آخر کہاں ہے؟

نام باقی، چہرہ بدل گیا:

طویل وقفے کے بعد، 29/ دسمبر 2025 کو القسام بریگیڈز کے نئے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک مفصل بیان جاری کیا۔ اس بیان میں جہاں القسام کے متعدد قائدین کی شہادت کی خبر دی گئی، وہیں اس میں القسام کے سابق ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخصیت تقریباً دو دہائیوں تک ابو عبیدہ کے نام سے القسام بریگیڈز کے ترجمان کی حیثیت سے بیانات جاری کرتی رہی، اس کا اصل نام حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت اور کنیت ابو ابراہیم تھی۔ وہ 30 /اگست 2025 کو ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ موجودہ ترجمان کا اصل نام بھی کچھ اور ہے، تاہم تنظیمی حکمت عملی کے مطابق اسے بھی ابو عبیدہ ہی کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے۔ چناں چہ اسی نئے ابو عبیدہ نے اپنے پیش رو ترجمان، حذیفہ سمیر الکحلوت (ابو ابراہیم) کی شہادت کی خبر دنیا کے سامنے رکھی۔

شہادت کی خبر اور پس منظر:

حذیفہ سمیر الکحلوت طویل عرصے سے قابض اسرائیل کے نشانے پر تھے۔ متعدد مرتبہ ان پر حملے کی کوشش کی گئی؛ مگر ہر بار وہ محفوظ رہے اور دشمن اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ بالآخر 30/ اگست 2025 کو دستیاب معلومات کی بنیاد پر اسرائیلی قابض افواج نے ایک ایسا مہلک فضائی حملہ کیا جس میں نہ صرف وہ عمارت تباہ کر دی گئی؛ بلکہ الکحلوت خاندان کے تمام افراد بھی شہید ہو گئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق، اسی روز کسی مخبر نے اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کو یہ اطلاع دی کہ حي الرمال کی ایک مخصوص عمارت میں حذیفہ سمیر الکحلوت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس اطلاع کے بعد فوجی قیادت کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ابو عبیدہ ایک مخصوص فلیٹ میں موجود ہیں، پوری عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ نتیجتاً اس حملے میں ابو عبیدہ کے اہلِ خانہ اور ان کے خاندان کے تمام افراد شہید ہو گئے۔

دو دہائیوں پر محیط القسام کی ترجمانی:

ابو عبیدہ کی شہادت کے اعلان کے بعد عوام کو اس حقیقت کا یقین ہو گیا کہ وہ شخصیت، جو تقریباً دو دہائیوں تک غیر معمولی ہمت و حوصلے، فہم و فراست اور دانائی کے ساتھ القسام بریگیڈز کی ترجمانی کرتی رہی، اب شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہو چکی ہے۔ حذیفہ سمیر الکحلوت نے سن 2002 میں باضابطہ طور پر القسام بریگیڈز میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی تحریری و تقریری صلاحیت، سنجیدگی اور معاملہ فہمی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، انھیں سن 2004 میں القسام بریگیڈز کا ترجمان منتخب کیا گیا۔ انھوں نے جون 2006 میں بحیثیت ترجمان اپنا پہلا باضابطہ بیان جاری کیا، جس میں حماس کے رفح شہر کے مشرق میں کیے گئے آپریشن کا اعلان کیا تھا۔ اس آپریشن میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور ایک فوجی گیلاد شالیط کو قیدی بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد جب بھی حالات نے تقاضا کیا، ابو عبیدہ ہی القسام بریگیڈز کی آواز بن کر سامنے آئے اور اہم مواقع پر بیانات جاری کرتے رہے۔

آواز، اسلوب اور اثر:

اللہ تعالیٰ نے ابو عبیدہ کو ایک بلند، پراثر اور رعب دار آواز سے نوازا تھا۔ وہ فصیح و بلیغ عربی میں خطاب کرتے۔ ان کے بیانات عموماً قرآنی آیات سے مزین ہوتے تھے۔ ان کی آواز میں ایک طرف درد و کرب کی کیفیت ہوتی، تو دوسری طرف عزم و جلال کی گھن گرج سنائی دیتی تھی۔ وہ اکثر اپنے بیانات کا اختتام اس جملے پر کرتے تھے: “إنه لجهاد نصر أو استشهاد”۔ طوفانُ الاقصیٰ کے بعد ان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ان کے بیانات میں نہ مبالغہ ہوتا تھا اور نہ ہی جذباتی بڑھکیں؛ وہ سادہ اور واضح انداز میں حقائق بیان کرتے تھے۔ عوام شدت سے ان کے خطاب کے منتظر رہتے، انھیں شوق سے سنتے، حتیٰ کہ بچے بھی ان کے مخصوص اندازِ بیان کی نقل اتارتے تھے۔ جب بھی وہ منظرِ عام پر آتے، القسام کے فوجی لباس میں ملبوس ہوتے اور سرخ عربی رومال اس انداز سے چہرے پر باندھتے کہ ان کی شناخت پوشیدہ رہے؛ مگر ان کی آواز خود ان کی پہچان بن چکی تھی۔ چہرے پر رومال باندھنے کی وجہہ سے الملثّم یعنی نقاب پوش کے لقب سے وہ یاد کیے جاتے تھے۔

شہادت کے بعد شناخت کا انکشاف:

حذیفہ سمیر الکحلوت ابو ابراہیم (ابو عبیدہ) کی شہادت کے باضابطہ اعلان کے بعد، ان کی تصاویر جاری کی گئیں اور پہلی مرتبہ ان کا اصل نام عوام کے سامنے لایا گیا۔ اس کے بعد ان کے بھائی کا بیان بھی سامنے آیا، جس میں انھوں نے حذیفہ سمیر الکحلوت کی شخصیت، زندگی اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں سے لوگوں کو آگاہ کیا۔

عسقلان سے جبالیہ تک ایک خاندان کی ہجرت:

حذیفہ سمیر الکحلوت کے والدین کا تعلق تاریخی شہر عسقلان سے تھا۔ یہی وہ شہر ہے جس سے علمِ حدیث کے عظیم اسکالر، صحیح البخاری کے معروف شارح علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کا تعلق رہا ہے۔ آج عسقلان قابض اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ دیگر بے شمار عسقلانی خاندانوں کی طرح، حذیفہ سمیر کا خاندان بھی سن 1948 میں اسرائیلی ظلم و جبر کے نتیجے میں، اپنے گھر، کھیت اور آبائی شہر چھوڑنے پر مجبور ہوا اور غزہ آ کر جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں پناہ لی۔

حفظ قرآن اور اعلی تعلیم:

حذیفہ سمیر الکحلوت نے 11/فروری 1984 کو آنکھ کھولی۔ان کی پرورش شمالی غزہ کے جبالیہ کیمپ میں ہوئی۔ انھوں نے نہایت کم عمری میں حفظِ قرآنِ کریم مکمل کر لیا۔ انھوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم UNRWA کے زیر انتظام اسکولوں میں حاصل کی۔ انھوں نے سن 2002 میں اعلیٰ تعلیم کے لیےجامعہ اسلامیہ، غزہ میں داخلہ لیا، جہاں سے سن 2013 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ماسٹرز کی ڈگری کے لیے انھوں نے “الأرض المقدسة بين اليهودية والنصرانية والإسلام” (ارض مقدس یہودیت، نصرانیت اور اسلام کے درمیان) کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا، جو ڈاکٹر احمد جابر العصمي کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ یہ تحقیقی مقالہ 645 صفحات پر مشتمل ہے اور ان کی علمی گہرائی اور فکری سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔

خاندانی زندگی اور شہادت:

حذیفہ سمیر الکحلوت ایک باوقار ازدواجی زندگی گزار رہے تھے اور چار بچوں کے والد تھے۔ جس وقت ان پر حملہ کیا گیا، اس وقت ان کی اہلیہ اور تین بچے ان کے ساتھ موجود تھے۔ وہ سب اسی حملے میں شہید ہو گئے۔ ان کا بڑا بیٹا ابراہیم اس وقت وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ اس حملے کی زد میں نہیں آیا اور وہ اس وقت محفوظ ہے۔ اللہ پاک اس بچے کو اپنے والد کا سچا جانشیں بنائے!

ایک زبان جو دشمن کے لیے ہتھیار سے زیادہ خطرناک:

حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت کی زندگی دراصل ایک فرد کی نہیں؛ بلکہ ایک فکر، ایک آواز اور ایک عہد کی داستان ہے۔ وہ پناہ گزین کیمپ کی تنگ گلیوں سے اٹھ کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی آواز بنے، جن کے الفاظ میں نہ صرف مظلومیت کا درد تھا؛ بلکہ مزاحمت کا شعور، استقامت کا یقین اور انجام کی بصیرت بھی شامل تھی۔ ان کی زبان دشمن کے لیے کسی ہتھیار سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔ انھوں نے کیمرے کے سامنے آ کر نہ چہرہ دکھایا، نہ نام بتایا، مگر پوری دنیا کو بتا دیا کہ اصولوں کے لیے جینا اور حق کے لیے مر جانا کیسا ہوتا ہے۔ ان کی شہادت نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی کہ مزاحمت افراد کے ختم ہونے سے ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ نام، وہ آواز اور وہ پیغام نئی نسلوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ابو عبیدہ کا نام اب ایک شخص کا نام نہیں رہا؛ بلکہ وہ عزم، وقار، سچائی اور قربانی کی علامت بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ جب ظلم اپنی پوری وحشت کے ساتھ نازل ہوا، تب بھی کچھ لوگ ایسے تھے جو قرآنی آیات سے مسلح، ایمان سے لبریز اور شہادت پر راضی ہو کر کھڑے رہے۔ ابو عبیدہ شہید ہو گئے؛ مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے اور ان کا پیغام آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا۔

اللہ تعالیٰ شہید حذیفہ سمیر الکحلوت اور ان کے اہلِ خانہ کی شہادت کو قبول فرمائے، انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی قربانی کو امت کے لیے مشعلِ راہ بنائے! آمین! ∙∙∙∙

(مضمون نگار آزاد صحافی، کالم نویس وار “فلسطین: قبضہ اور مزاحمت” کے مصنف ہیں)

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com