عبدالعزیز
بعض افراد کے افکار کے اثرات ان کی زندگیوںمیں نظرآنے لگتے ہیں، دور یا قریب اثرات پھیلنے لگتے ہیں۔ چراغ سے چراغ جلتے ہیں، لیکن بعض ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کے افکار و خیالات ان کی انتھک کوششوں کے باوجود ان کی زندگیوں کے بعد دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر منظورعالم ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہیں کہ ان کی زندگی ہی میں ان کے کاموں اوران کے افکار و خیالات کے اثرات ایک حد تک نظرآتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب سعودی عرب میں ملازمت ملنے اور کرنے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ موصوف اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر وطن عزیز واپس چلے آتے ہیں تاکہ بیداریِ ملت کے لئے کام کریں اور تھنک ٹینک (غور و فکر کامرکز) قائم کرکے ملت کے باصلاحیت اور اصحاب فکر کو ملت کی ترقی اور بیداری کے کاموں سے کسی نہ کسی پہلو سے جوڑ کر بدلتے ہوئے حالات میں روشن امکانا ت پیدا کریں۔
ڈاکٹر صاحب تحریکات اسلامی کے دانشوران اور جید علما کرام سے بیرون ملک رہتے ہوئے ربط و ضبط بڑھاچکے تھے۔ ان کی صحبتوں اور میل جول سے ان پر روز روشن کی طرح یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ و علیہ وسلم کے بعد تقریباً چار صدیوں تک تحقیق و اجتہاد ‘ حریت فکر و نظر اور آزادانہ طلب حق کی وہ اسپرٹ اور جذبہ امت مسلمہ میں جو آن بان و شان کے ساتھ قائم رہی اس کو آنحضرت صلی اللہ و علیہ وسلم اپنے متبعین میں تعلیم و تربیت کے ذریعہ پیدا کرگئے تھے۔اس کے بعد امرا، حکام اورعلما و مشائخ کے استبداد نے روح اجتہاد تحقیق کو ختم کرکے رکھ دیا۔سوچنے سمجھنے والے دماغوں سے سوچنے سمجھنے کا حق اوردیکھنے والی آنکھوں سے دیکھنے کا حق اور بولنے والی زبانوں سے بولنے کا حق سلب کرلیاگیا۔ درباروں سے لے کر مدرسوں اورخانقاہوں تک ہر جگہ مسلمانوں کو غلامی کی باقاعدہ تربیت دی جانے لگی۔ دل و دماغ ‘ روح و جسم کی غلامی ان پرپوری طرح مسلط ہوگئی۔ دربار والوں نے اپنے سامنے رکوع اور سجدہ کرانے کی غلامانہ ذہنیت پیدا کی۔ مدرسے والوں نے خداپرستی کے ساتھ اکابر پرستی کا زہر دماغوں میں اتارا۔ خانقاہ والوں نے بیعت کے مسنون طریقہ کومسخ کرکے غلامی کا وہ طوق مسلمانوں کی گرد ن میں ڈالا جس سے زیادہ سخت اور بھاری طوق انسان نے انسان کے لئے کبھی ایجاد نہ کیاہوگا۔ پھر جمود کی سیاہ رات طاری ہوتی چلی گئی۔
اسی دور میں علامہ اقبال نے آنکھیں کھولیں اوراپنے کلام اور شاعری کے ذریعہ ملت مسلمہ کو جگانے اور مغرب کی ذہنی غلامی سے آزاد کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ رب العالمین سے دعائیں کیں کہ
تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
اب مناسب ہے کہ تیرا فیض عام ہو ساقی
تو میری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
تیرے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!
یہ وہ زمانہ تھا جب مولانا مودودی ؒ اپنے رسالہ ’ ترجمان القرآن‘ کے ذریعہ مسلمانانِ ہند کو ہرطرح کی غلامی سے آزاد کرکے خدائے واحد کی غلامی کادرس دے رہے تھے۔ مولانا مودودی ؒ سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد اپنے رسالے ’ الہلال ‘ اور ’البلاغ‘ کے ذریعہ مسلمانوں کو خواب غفلت سے جھنجھوڑ چکے تھے اور قرآن مجید کے حوالوں سے تعقل و تفکر کی دعوت دے رہے تھے۔ مسلمانوں کو بار بار کہہ رہے تھے کہ انسان کے لئے حقیقت شناسی کی راہ یہی ہے کہ خدا کی دی ہوئی عقل و بصیرت سے کام لے اور اپنے وجود کے اندر اور باہر جو کچھ بھی محسوس کرسکتا ہو۔ اس میں تدبر و تفکر کرے۔اس کے لئے وہ قرآن مجید کی وہ تمام آیتیں بطور حوالے پیش کرتے تھے جس میں قرآن کے طریق استدلال کا اولین مبدا تعقل و تفکرکی دعوت ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم نے دور حاضر کے جن دانشوروں سے بالمشافہ اور بہ نفس نفیس فائدہ اٹھایا ان میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی‘ ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی اور ڈاکٹر عبدالحق انصاری اور تحریک اسلامی کے دیگر دانشوران ملت شامل ہیں۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ڈاکٹر منظور عالم کے ذہن و دماغ پر کافی اثر ڈالا۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اپنی کتاب’ مقاصدشریعت‘ میں رقم طراز ہیں :
”زندگی ایک اکائی ہے جس میں دوئی ممکن نہیں ’ لوگ دینی معاملات میں مقلدمحض بن کر رہیں لیکن دنیوی امور میں نئے نئے راستے نکالیں‘ ایسا ہونا مشکل ہے۔ ذہن بیدار ہوگا ‘ نئے سوالات اٹھائے گا ‘ مروجہ طریقوں پر نظرثانی کرنا چاہے گا تو اس کی جولان گاہ پوری زندگی ہوگی۔ امت کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ ابتدائی چار صدیوں میں مسلمانوں نے دنیا میں ترقی کی اور دین میں بھی ‘ جس کا زندہ ثبوت ہمارے دینی علوم کا ذخیرہ ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا‘ یہی وہ دور تھا جس میں غور و فکر اور تبادلہ آراء بے روک ٹوک جاری تھا اور سارے مسلمان اس عمل میں شریک تھے“ (صفحہ216)
ڈاکٹر منظورعالم نے عام لوگوں میں بیداری آئے ‘ عام لوگ غور و فکر کی عادت ڈالیں اوربے روک ٹوک تبادلہ خیال کریں اور سارے مسلمان کسی نہ کسی حیثیت سے شریک ہوںاس کئے لئے انہوں نے ملی کونسل جیسی ملک گیر تنظیم قائم کی اور اس کا سربراہ ایک ایسی شخصیت کو مقرر کیا جو ملک بھر میں علم و دانش میں بے مثال تھی اور علما میں بھی مقبول و معروف تھی یعنی قاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحب۔ ان کی قیادت و سیادت کی وجہ سے ملک بھر کے علما کسی نہ کسی حیثیت سے کونسل سے قریب ہوگئے یاشامل ہوگئے۔ کئی ریاستوں میں اس کی شاخیں قائم ہوئیں اور ملت میں اس کے اچھے اثرات مرتب ہوئے اور ہورہے ہیں۔ اس میں علما ‘ دانشور اور سماجی کارکن اورعام لوگ بھی شامل ہیں۔
مولانا مجاہدالاسلام صاحب جب مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر ہوئے تو میرے خیال سے مسلم پرسنل بورڈ کا وہ سب سے اچھا دور تھا اورسب سے اچھا کام بھی ہوا۔ ان کی صدارت میں بنگلور اور بمبئی میں اجلاس ہوئے۔ ان دونوں اجلاس میں راقم نے بھی شرکت کی۔ عین اجلاس کے موقع پرآر ایس ایس کے سرسنگھ چالک سدرشن نے آگرہ میں آر ایس ایس کے اجلاس میں مسلمانوں کو گھر واپسی کی دعوت دے ڈالی۔ مولانا نے اس کے جواب میںمسلمانوں کوان کی حیثیت بتائی اور انہیں داعی اسلام کی حیثیت سے ملک کے باشندوں کو حق و صداقت کی دعوت دینے کی نہایت مدلل اور جامع انداز سے اپیل کی۔ اسی اجلاس کا ماحصل سابق چیف جسٹس احمدی صاحب کی ایک گھنٹہ کی تقریر تھی۔موصوف نے ملک کے دستور کی روشنی میں تقریر کی۔ مجھے پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ قانونی نقطہ نظر سے انتہائی دانشورانہ تقریر ہورہی ہے۔ یہ ڈاکٹر منظور عالم کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ایسے ماہرقانون کو جو ملک کی سب سے بڑی عدالت کا چیف جسٹس رہ چکا ہو اسے بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی اور انہوں نے دعوت منظور کی اور نہایت دانش ورانہ کردار کا مظاہر ہ کیا۔ اس کا ملک کے میڈیا اور دانشوران ملک پر اچھا اثر پڑا۔
ڈاکٹر منظور صاحب نے مسلم پرسنل لا بورڈ کو اپنی کوششوں سے جلا بخشا۔ فقہ اکیڈمی بھی ڈاکٹر صاحب کی کوششوں سے قائم ہوئی۔ عصری اجتہادی مسائل پر اکثر و بیشتر اس اکیڈمی کے ذریعہ سمینار اور سمپوزیم ہوتے رہے اور ہورہے ہیں۔ قاضی صاحب نے اس اکیڈمی کے ذریعہ بھی ہندستان بھر کے علما کو ایک ساتھ تبادلہ خیالات کرنے کا ایک عمدہ اور اچھا پلیٹ فراہم کیا۔
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈی (آئی او ایس): میرے خیال سے آئی او ایس ڈاکٹر صاحب کا بہت بڑا کارنامہ ہے اس پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہے اوراس کے اثرات پر بھی بہت کچھ روشنی ڈالی جاسکتی ہے اور جن بڑی بڑی شخصیتوں کو ڈاکٹر صاحب نے اس ادارہ سے جوڑا ان کو مذاکرات اور سمینار میں عصر حاضر کے مسائل و موضوعات پر اظہار خیال کرایا اس میں قومی اور بین الاقوامی شخصیتیں بھی شامل ہیں۔انسٹیٹیوٹ کی کئی ریاستوں میں شاخیں ہیں۔کلکتہ میں ڈاکٹرخلیل عباس صدیقی صاحب نے بہت اچھے انداز سے اس کام کو جاری رکھا۔ انہوں نے کئی کتابیں انسٹیٹیوٹ کی طرف سے انگریزی میں لکھیں جن کادیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا۔
انسٹیٹیوٹ کے بنگال چیپٹر نے مدرسوں اور مسجدوں کا بھی سروے کرایا اس پر کتابیں لکھی گئیں جو دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ڈیٹا(Data)جمع کرنے کا ایک ایسا کا م انسٹیٹیوٹ نے کیا جو شاید کسی اور مسلم ادارے نے نہیں کیا۔ یہی ایک کام اتنی تفصیل اور اتنے اچھے سے کیاگیا کہ جب سچر کمیٹی نے مسلمانان ہند کی معاشی ‘ تعلیمی اور سماجی حالت کو اعدادو شمار میں جاننا اور لکھنا چاہا تو آئی ا و ایس نے زبردست مدد کی۔ کمیٹی کے ایک ممبر جناب ابو صالح شریف صاحب نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ ڈاکٹر منظور عالم صاحب کا ادارہ اگر وجود میں نہیں ہوتا اوراس کا ڈیٹا کی بنیاد (Database) پر کام ہمارے سامنے نہیں ہوتا تو ہمیں سچر کمیٹی کی رپورٹ مرتب کرنے میں مزید وقت درکار ہوتا اور مشکلات کا سامنا کرناپڑتا۔
ڈاکٹر صاحب نے پبلی کیشن کا کام بھی کیا۔تقریباً ہر سلگتے موضوع پر پانچ سو سے زائد کتابیں لکھوائیں اور اسے بہتر طریقہ سے چھپوایا اور ایسا اہتمام کیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کتابوںکو پڑھ سکیں۔
تھنک ٹینک (Think Tank): پالیسی سازوں کویہ ضرورت ہوتی رہتی ہے کہ وہ جس معاشرہ میںرہ رہے ہیں اور فلاحی و رفاہی کام یا فکری کام انجام دے رہے ہیں ان کے بارے میں ان کے پاس قابل فہم‘ قابل عتبار اور قابل رسائی اور مفید معلومات ہوں تاکہ وہ کام بہتر طریقہ سے انجام دے سکیں اور بہتر سے بہتر نتائج حاصل کرسکیں۔اس طرح کی بڑھتی ہوئی ضروریات نے آزادانہ پبلک پالیسی ریسرچ کے اداروں کے قیام اور پنپنے کے مواقع فراہم کئے ہیں جنہیں عام طور پر تھنک ٹینک کہتے ہیں۔
ہندستان کے مسلم معاشرہ میں ڈاکٹر منظورعالم صاحب نے تھنک ٹینک کے تصور کو نہ صرف پیش کیا بلکہ اسے قائم کیا اور ملک کی چیدہ چیدہ شخصیتوں کو اپنے اپنے فیلڈ یا شعبہ کے ماہر ہیں انہیں ایک ساتھ مل بیٹھنے ‘ تبادلہ آرا کرنے کے مواقع فراہم کئے۔ آئی او ایس کی جانب سے جو سمینار اور سمپوزیم منعقد ہوتے ہیں ان میں بھی ملک کی بڑی بڑی جانی مانی شخصیتیں شریک ہوتی ہیں۔ ان کے مذاکرات اور سمینار میں پیش کردہ خیالات اور افکار کوکتابی شکل میں مرتب کیا جاتا ہے۔ جن کی حیثیت دستاویز کی ہوتی ہے۔غور و فکر کے اس مرکز سے آزادانہ غور وفکر کا سلسلہ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک قائم ہوا جسے ہر ایک کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنا اور سراہنا چاہئے۔ آج جو ہمارے میں ملک میں میڈیا کا طرز عمل ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔اس کی خطرناکی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ فتویٰ کا موجودہ طرز بھی بہت اچھا نہیں ہے بلکہ یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ صرف مفتیان کرا م سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ دین حق کی دفاع کیلئے مسلم دانشوروں اور صحافیوں کی خدمات درکار ہیں ان کی مشترکہ اور اجتماعی کوششوں سے پیش آمدہ مسائل پراسلامی نقطۂ نظر سے غور و فکر کے عمل سے شریعت کی وکالت ناگزیر ہے۔یہ اچھے اور بہتر انداز سے اسلام کا دفاع کرسکتے ہیں۔
راقم کو ایک واقعہ اچھی طرح یاد ہے جو غالباً قاضی مجاہدا لاسلام صاحب نے بتایا تھا۔ شاہ بانو کا معاملہ درپیش تھا علما اور دانشوران ملت پر مشتمل پچیس افراد کے ایک وفد نے حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی قیادت میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کی۔ قائد وفد نے گفتگو کا آغاز کیا مگر موصوف کا انداز گفتگو ایک خاص لب ولہجہ میں تھا جس کی وجہ سے وزیراعظم کے پلے کچھ نہیں پڑرہا تھا۔ مولانا قاضی مجاہدا لاسلام قاسمیؒ نے مولانا علی میاں سے گزارش کی کہ جناب سید شہاب الدین صاحب کو گفتگو کی زحمت دی جائے تو مناسب ہوگا۔ سید شہاب الدین صاحب نے بیس تیس منٹ میں انگریزی زبان میں مسلم عورتوں کا اسلام میں حقوق ‘ مقام اور مرتبہ پرروشنی ڈالی۔ گفتگو ختم ہوتے ہی مسٹر راجیو گاندھی نے فرمایا کہ جب اسلام میں مسلم مہیلاؤں کے حقوق اور مقام و مرتبہ یہ ہیں تو پھر آپ لوگوں کی تجویزقابل عمل ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔
ڈاکٹر منظور صاحب کا ادارہ اس کیلئے کوشاں ہے۔ جب قاضی مجاہد الاسلام صاحب مسلم پرسنل لا بورڈ کے صد ر تھے تو مسلم پرسنل لا یا اسلام کا دفاع بہتر انداز سے ہوتا تھا۔ اس میں ڈاکٹر منظورعالم صاحب کی خدمات بھی شامل رہاکرتی تھیں۔ بدقسمتی سے اس وقت اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اس سے ماضی قریب میں اسے جو نقصان ہوا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔






