Tag: تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
-
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
سیمیں کرن چند مرد چوک میں کھڑے کافی دیر سے محلے میں دفتر جانے والی عورتوں کو موضوع سخن بناے کھڑے تھے ۔زیادہ تر کا یہ کہنا تھا کہ یہ گمراہ آزاد خیال عورتیں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے کا سارا ڈھانچہ متزلزل ہے بلکہ دھڑن تختہ ہوچکا۔ بس چلتا تو شاید ان پہ…