Tag: نظم اویسی بول رہا ہے

  • نظم اویسی بول رہا ہے

    نظم اویسی بول رہا ہے دلت مسلم کے دل کا پیار جگا دو بڑھ کے اب بھی یار گرا دو نفرت کی دیوار بنا دو جنگل کو گلزار سمئے پٹ کھول رہا ہے اویسی بول رہا ہے یہ فرضی سیکولر سرکار کرے نفرت کا کاروبار مسلماں غربت سے دوچار دلت پر ٹوٹے اتیاچار سمئے پٹ…