امریکہ،اسلامی سربراہ اجلاس اختتام پذیر۔دہشت گردی کے خلاف ایک اور نئی فوج کی تشکیل کا اعلان  50 سے زیادہ اسلامی اور عرب ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت کی شرکت

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پہلا غیر ملکی سعودی عرب کا سہ رزہ سفر مکمل ہوگیاہے ،اس موقع پر سعودی عرب نے غیر معمولی ضیافت کی ،کئی اہم معاہدے طے پائے گئے ،عرب اور مسلم ممالک کے سربراہان مملکت سے ٹرمپ نے خصوصی خطاب اور بہت کچھ ہوا،ٹرمپ کے اس سہ روزہ سفر کی مکمل تفصیلات پڑھیئے ملت ٹائمز کی اس خصوصی رپوٹ میں 

 

ریاض(ملت ٹائمز؍ایجنسیاں)
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے امریکا اور مسلم دنیا کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
شاہ سلمان نے الریاض میں منعقدہ امریکا ، عرب ،اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کریں گے۔اسلام امن اور رواداری کا دین تھا ،ہے اور رہے گا‘‘۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ شاہ سلمان ایسے زبردست میزبان کا مہمان بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔انھوں نے شاہ عبدالعزیز آل سعود کے ورثے کو جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ’’ میں امریکا سے محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں ،اسی وجہ سے میں نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔ امریکا مشرق وسطیٰ کے خطے اور پوری دنیا میں امن ،سلامتی اور خوش حالی چاہتا ہے‘‘۔
امریکی صدر نے کہا: ’’ یہ خصوصی اجتماع مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن کا آغاز بن سکتا ہے۔ہم یہاں لیکچر دینے نہیں آئے ہیں۔ہم یہاں شراکت داری کی پیش کش اور ہم سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں آئے ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ دنیا کو دہشت گردی کے ہولناک حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن عرب دنیا سیزیادہ اس نے دہشت گردی کا سامنا نہیں کیا ہے۔ یہ مختلف عقیدوں، فرقوں یا تہذیبوں کے درمیان جنگ نہیں ہے بلکہ یہ سفاک دشمنوں کے ساتھ لڑائی ہے‘‘۔
شاہ سلمان نے اس موقع پر دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی بندش کی غرض سے امریکا کے ساتھ ایک سمجھوتا طے پانے کا اعلان کیا۔دونوں رہ نماؤں نے خطے میں ایران کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایرانی رجیم نے خمینی انقلاب کے بعد دہشت گردی کو فروغ دیا ہے‘‘۔شاہ سلمان نے اس سربراہ اجلاس سے قبل اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ عرب اسلامی امریکی سمٹ سے دہشت گردی کے خلاف مضبوط عالمی اتحاد تشکیل پائے گا۔انھوں نے اس سربراہ اجلاس میں شریک ہونے والے اپنے ’’ بھائیوں‘‘ اور دوستوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ہمارے خطے اور پوری دنیا پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ایک نئی فورس کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر34 ہزار فوجیوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
عرب میڈیا کے مطابق ریاض میں اسلامی، عرب ، امریکی سربراہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت منعقد کی گئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 55 مسلمان ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔اس موقع پر انسداد دہشت گردی کے لیے ایک فورس کی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔ کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ آئندہ سال مشرق وسطیٰ میں نیا اسٹریٹیجک اتحاد تشکیل دیا جائے گا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ اتحاد میں شامل ممالک کے دفاعی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔سربراہ کانفرنس میں عرب ملکوں، مسلمان ممالک اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل اعتماد شراکت کو یقینی بنانے، علاقائی امن و سلامتی، استحکام اور ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
عرب اور مسلمان قیادت نے ریاض کی میزبانی میں انسداد دہشت گردی مرکز کے قیام کا خیر مقدم کیا اور یقین دلایا کہ دہشت گردی کیفکری اورمالی سوتے خشک کرنے، رواداری اور بقائے باہمی کے فلسفے کو عام کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
اسلامی سربراہ قیادت نے کانفرنس کے دوران ایران کی خطے کے ممالک میں معاندانہ مداخلت، پڑوسی ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور دہشت گردی کی پشت پناہی کی شدید مذمت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے ایرانی مداخلت روکنے کے لیے تمام اقدامات کو بروئے کار لانے کا عزم ظاہر کیا۔
کانفرنس کے آخر میں جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا، عرب ممالک اور مسلمان ملک ایک ہی صفحے پر ہیں۔ آج کی یہ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا عہد کرتی ہے۔ ریاض کانفرنس کو امریکا اور مسلمان ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا باب قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام عرب اور مسلمان ریاستیں امریکا کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے فکری، نظریاتی اور مالیاتی سوتوں کو خشک کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں گی اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ وسائل مہیا کیے جائیں گے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ہر شکل کو بری طرح کچل دیا جائے گا۔ مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن، استحکام اور ترقی کے لیے آئندہ سال ایک نیا اتحاد تشکیل دیا جائے گا۔سربراہ کانفرنس میں فرقہ واریت کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے سے بھی اتفاق کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی فورس کو موثربنانے کے لیے مسلمان اور عرب ممالک میں اس کے مراکز قائم کیے جائیں گی۔ وزارت سطح کی کمیٹیاں اس فورس کی تشکیل کار کردگی پر نظر رکھیں گی۔ دہشت گردی کا شکار ممالک بالخصوص شام اور عراق میں دہشت گردی کچلنے کے لیے تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب کی میزبانی میں اسلامی، عرب اور امریکا سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 55 ممالک کی سربراہ قیادت نے شرکت کی۔


مرکزاعتدال و انسداد انتہا پسندی‘ کیسے کام کرے گا؟
اہداف کے حصول کے لیے جدید وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا

سعودی عرب کی میزبانی میں گذشتہ روز ہونے والی اسلامی، عرب امریکا سربراہ کانفرنس کے اہم اقدامات میں ’انسداد انتہا پسندی اور دہشت گردی‘ کے کے لیے ’مرکز اعتدال‘ کا قیام بھی شامل ہے۔مرکز اعتدال کا صدر دفتر ریاض میں ہوگا تاہم اس کے ذیلی دفاتر دوسرے ممالک میں بھی قائم کئے جائیں گے۔ یہ مرکز دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فکری سوتوں اور نظریاتی و فکری دھاروں پر ضرب کاری لگائے گا۔ اس مرکز کے قیام کے ذریعے انتہا پسندانہ رحجانات رکھنے والے افراد اور تنظیموں کو مانیٹر کرنے اوران کے خلاف کارروائی کی سفارش کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ ’مرکز اعتدال‘ سے عالمی سطح پر رواداری اور برداشت کے کلچر کو عام کرنے کے لیے فکری،ابلاغی اور ڈیجیٹل وسائل کا بھرپور اور غیرمسبوق استعمال کیا جائے گا۔’مرکزاعتدال‘ اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے جدید فکری، ابلاغی اور ٹیکنالوجی کے وسائل کے استعمال پر توجہ مرکوز کرے گا۔
انتہا پسندانہ بیانیے کی نشاندہی، اس کے تجزیے اور روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے گی۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر انتہا پسندانہ مواد کی نشاندہی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کم سے کم وقت میں کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے انتہائی سرعت کے ساتھ صرف چھ سیکینڈ میں انتہا پسندانہ بیانات اور تبصروں کی نشاندہی کی جاسکے گی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کیلیے یہ غیر مسبوق طریقہ غیرمعمولی طور پر موثر خیال کیا جا رہا ہے۔
اعتدال مرکز عربی زبان کے علاوہ کئی دوسری عالمی زبانوں میں کام کرے گا۔ ڈیجیٹیل میڈیا فورمز کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بیانات کی نشاندہی، ان کے ذرائع، دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں، جنگجوؤں کی بھرتیوں اور انہیں فنڈز کی فراہمی جیسے اہم اہداف کا پتا چلایا جائے گا۔
’مرکزاعتدال و انسداد انتہا پسندی‘ اپنی نوعیت کی پہلی عالم گیر کوشش ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف فکری اور ابلاغی محاذ پر دنیا کو ایک فورم پر اکٹھا کیا ہے۔
اعتدال مرکز کی گورننگ باڈی 12 ممالک کے ارکان اور تنظیموں کے سربراہان پر مشتمل ہوگی جو مکمل طور پرآزادانہ طریقے سے کام کریں گے۔ مرکز کے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے غیر جانب داری،لچک مستعدی اور شفافیت کو بنیادی اصولوں میں شامل کیا گیا ہے۔


سعودی عرب۔ امریکا میں طے پائے15 کلیدی معاہدے
سعودی عرب اور امریکا کے درمیان 280 ارب ڈالر کے غیرمعمولی نوعیت کے معاہدوں اور غیر مسبوق اقتصادی تعاون کی یاداشتوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان نئے معاہدوں کے دونوں ملکوں کی معیشت پر اثرات آئندہ چند برسوں کے دوران ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ دوطرفہ معاہدوں کے نتیجے میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاض میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ضمنی طور پران معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر دونوں حکومتوں کی اعلیٰ شخصیات اور کاروباری کمپنیوں کے سربرہان بھی موجود تھے۔ اقتصادی اعتبار سے اہم ترین معاہدوں میں ’بلاک اسٹون‘ اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے درمیان طے پایا معاہدہ شامل ہے۔ توقع ہیکہ پیش آئند برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان باہمی معاہدوں کا حجم 3 کھرب 50 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا۔
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے 15 اہم معاہدے
سعودی تیل کمپنی ارامکو کا امریکی کمپنیوں سے 50 ارب ڈالر کا معاہدہ
جنرل الیکٹرک نے صنعت و معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے 15 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔
ریتھین عریبک سعودی دفاعی نظام اور سعودی عرب میں اسمارٹ اسلحہ کو اپ گریڈ کرے گی۔
اکسن موبیل اور ساپک کی جانب سے پیٹرو کیمیکل منصوبوں میں شمولیت کی منظوری۔
لاکھ ہیڈ مارٹن سعودی عرب کو ’S70‘ ماڈل کے 150 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر فراہم کرے گا۔
جنرل ڈائنامیکس آرمرڈ فورسز کے زیراستعمال گاڑیوں کی تیاری میں معاونت، ڈیزائن اور آباد کاری میں مدد کرے گی۔
روان کمپنی کے ساتھ طے پائے معاہدے میں امریکا سمندر میں قدرتی وسائل کی تلاش اور کھدائی میں سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
نابوزر اپنے منصوبوں کو وسعت دیتے ہوئے تیل کے کنوؤں کی کھدائی کے لیے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
ارامکو انٹرنیشنل اویلویل کا چھ ارب ڈالر کا معاہدہ۔
ویڈز فورڈ تیل فیلڈ، ہاؤسنگ کے لیے سامان اور سروسز کی فراہمی پر دو عرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
ڈاؤ کیمیکل سعودی عرب میں پولیمر پرڈکشن یونٹ قائم کرے گا اور اپنے دیگر منصوبوں کو وسعت دے گا۔
مکڈیرماٹ اور ارامکو کے درمیان 2.8 ارب ڈالر کا معاہدہ جس میں ہاؤسنگ اور سروسز شامل ہیں۔
ھینیویل ارامکو کے ساتھ تین اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ امریکی فضائی کمپنی اور امریکی کمپنی بوئنگ کے درمیان معاہدہ
جاکوبز انجینیرنگ کی جانب سے تیل کے منصوبوں کے لیے 250 ملین ڈالر کی منظوری۔


ٹرمپ کو سعودی رقص اور کھانے کی اشیاء کے بارے میں کیا بتایا گیا ؟
سعودی عرب کی تاریخ کے ایک اہم موقع پر مملکت کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے اپنے مہمان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک مختلف انداز سے ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔
شاہ سلمان اور صدر ٹرمپ کے ریاض میں واقع “شاہ عبدالعزیز تاریخی مرکز” میں داخل ہونے کے ساتھ ہی وہاں سعودی عرب کے معروف رقص “العرض (تلواروں کے ساتھ مخصوص رقص) کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں جس میں طبل کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
شاہ سلمان نے اپنے مہمان ٹرمپ کو بتایا کہ یہ جنگ کا رقص ہے۔ سعودی فرماں روا اور امریکی صدر نے اپنے طور رقص میں شرکت بھی کی۔ ٹرمپ نے رقص کی حرکات کرنے کی کوشش کی جب کہ شاہ سلمان اس موقع پر گائے جانے والے اشعار دْہرا رہے تھے۔
بعد ازاں اس تاریخی محل کے اندر داخل ہونے پر مہمانوں کو کھانے کی بعض عوامی اشیاء4 کے ساتھ سعودی قہوہ بھی پیش کیا گیا۔
شاہ سلمان نے صدر ٹرمپ کو کھانے کی بعض اشیاء4 کے نام بھی بتائے جن میں عوامی مقبول مٹھائی “کلیج” ، کھجور سے تیار کی جانے والی مٹھائی “معمول” اور دودھ سے تیار کردہ “اقط” شامل تھا۔


ٹرمپ کا تاریخی دورہ.. ریاض اور اسلامی دنیا کا خیر مقدم
ریاض میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ عرب اسلامی سربراہ اجلاس کا عرب اور اسلامی دنیا کی جانب سے بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے۔
ایران نے اپنے ملک میں نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد سے خطے میں فرقہ واریت پھیلانے پر کام شروع کر دیا جس کے سبب خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ اسی سبب ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے وجود سے نالاں نظر آتے ہیں اور ان کی انتظامیہ نے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیا۔ریاض میں ہونے والی سربراہ کانفرنسوں میں دہشت گردی کو اْس کی تمام صورتوں سمیت اور دیگر ملکوں کے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران کا کردار زیر بحث آئے گا۔
تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی نے سربراہ اجلاس اور ٹرمپ کی شرکت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ” تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا کے ساتھ عرب اور اسلامی ممالک کا سربراہ اجلاس ہو رہا ہے۔ یہ ٹرمپ کا پہلا بیرونی دورہ بھی ہے۔ ہمیں اس امر کو اْسی طرح سمجھنا ناگزیر ہے جیسا کہ اس کو سمجھنے کا حق ہے”۔
عرب اور اسلامی دنیا کے عوام امید کر رہے ہیں کہ ریاض کانفرنسوں سے واشنگٹن کے ساتھ رابطے پر قائم تعلقات کی نئی راہ پیدا ہو گی۔ ان کانفرنسوں کے انعقاد کے لیے سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دو ماہ تک بھرپور کوششیں مبذول کیں۔ اس سے قبل انہوں نے دو کامیاب اتحاد بھی تشکیل دیے۔ پہلے ایک عرب اور پھر اس کے بعد دوسرا اسلامی اتحاد۔ ان اتحادوں کے مشن کا واشنگٹن کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا۔ مقصد ایک ہی کہ مزید خوش حال عوام کے واسطے دنیا کو زیادہ محفوظ اور پْر امن بنایا جائے۔


امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ کو دیا گیا سعودی عرب کا شاہ عبدالعزیز میڈل
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مہمان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا ہے۔
امریکی صدر کو سعودی عرب کا اعلیٰ سول اعزاز دینےکے لیے الریاض میں الیمامہ محل میں سربراہ ملاقات سے قبل منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف ، نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امریکا کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ ، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور دوسرے اعلیٰ امریکی اور سعودی عہدے دار بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز سے منسوب مملکت کا یہ اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے جو نمایاں شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔اس سول اعزاز کا باقاعدہ اجرائ شاہ فیصل شہید نے 20 مارچ 1971ئ کو کیا تھا لیکن اس سال سے پہلے بھی یہ وقتاً فوقتاً مختلف شخصیات کو دیا جاتا رہا تھا۔ابتدا میں اس اعزاز کو عظیم زنجیر بدر کا نام دیا تھا۔
حال ہی میں یہ تمغا سابق امریکی صدر براک اوباما ،سابق فرانسیسی صدر فرانسو اولاند ، مصر ی صدر عبدالفتاح السیسی ، چینی صدر شی جن پنگ سمیت مختلف نمایاں عالمی سیاسی شخصیات کو دیا گیا ہے۔