میرٹھ میں مدرسہ کا طالب علم ہجومی تشدد کا شکار !




 میرٹھ: (فیروز خان ) ریاست اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں ماب لنچنگ کی واردات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایک ہفتے میں دو ماب لنچنگ کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

تین دن قبل میرٹھ کے قصبہ شاہ جہاں پور میں ایک مسلم نوجوان کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ کل ایک اور مسلم نوجوان شرپسند عناصر کے تشدد کا شکار بنا۔

میرٹھ کے دہلی روڈ پر مدرسہ کا ایک طالب علم محمد عمر کو ہجوم نے طالبہ سے چھیڑ خانی کے الزام میں بری طرح پیٹا، جس کی بناء پر وہ شدید زخمی ہوگیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شرپسند ہجوم مسلم نوجوان کو پیٹ رہا تھا جبکہ وہاں موجود عوام تماشہ دیکھنے اور ویڈیو بنانے میں مشغول تھی اور کسی نے بھی شرپسند عناصر کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

تفصیلات کے مطابق دہلی جانے والی ایک بس میں متاثرہ طالب علم محمد عمر سوار تھا، وہ بجنور سے دہلی اپنے گھر واپس لوٹ رہا تھا، بس جب میرٹھ پہنچی تو ایک طالبہ نے اس پر چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا اور اپنے رشتہ داروں کو فون کرکے بلالیا، جب بس باغپت بس اسٹینڈ پہنچی تو طالبہ کے رشتہ داروں اور وہاں پر موجود کچھ شرپسند عناصر نے طالبہ کے ساتھ چھیڑ خانی کا الزام لگاتے ہوئے مسلم نوجوان کو بس سے باہر کھینچ کر بری طرح سے مارنا پیٹنا شروع کردیا، مارپیٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

اس معاملے میں میرٹھ کے ایس پی اکھلیش نارائن نے کہا کہ ‘معاملے کی تفتیش جاری ہے جو لوگ قصوروار پائے جائیں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، مسلم نوجوان کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی ہے ۔ آج متاثرہ طالب علم کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ‘ماب لنچنگ کے خلاف پولیس مسلسل کارروائی کر رہی ہے اور اس میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔’

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *