آسام میں بے قابو مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ، چند افراد زخمی






آسام میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اسی بیچ آج آسام کے لالن گاؤں علاقے میں پولیس نے احتجاجی افراد پر فائرنگ کی جس میں چند افراد زخمی ہونے کی خبر ہے۔

ریاست آسام سمیت شمال مشرق ریاستوں میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

آسام کے ایک سینیئر پولیس اہلکار کے مطابق احتجاجی افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے جواب میں پولیس نے فائرنگ کی، جس میں چند افراد زخمی ہونے کی خبر ہے۔

آسام میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کولکاتہ سے جانے والی تمام پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ریاست آسام میں شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کے خلاف جاری احتجاج و مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے فوج نے کئی حصوں میں فلیگ مارچ کیا ہے اور حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے پانچ ہزار سے زائد نیم فوجی دستہ کے جوانوں کی 24 ٹکڑیوں کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل بدھ کو مظاہرین نے تقریباً سوا چھ بجے نافذ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشنوں پر توڑ پھوڑ کی اور ڈبرو گڑھ میں وزیر اعلی سروانند سونووال کی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا۔مظاہرین نے کئی مقامات پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کی رہائش گاہوں پر حملے کیے اور سونووال کی رہائش گاہ پر پتھراؤ بھی کیا۔ رپورٹوں کے مطابق گوہاٹی کے لچت نگر علاقہ میں پولیس کی فائرنگ میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر آج کی شام سات بجے تک انٹرنیٹ خدمات بند کر دی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *