مالیگاؤں/اورنگ آباد: ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں آج دوپہر 12 بجے مالیگاؤں بار ایسوسی ایشن کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
شہر کے تمام ہندو مسلم وکلاء نے جے بھارت جے دستور ہند کے نعرے لگاتے ہوئے مالیگاؤں تعلقہ کورٹ سے ریلی کا آغاز کیا اور کلکٹر آفس پر پہنچ کر احتجاجی میمورنڈم پرانت آفیسر کو دیا۔
اس احتجاج میں سینئر وکیل شیواجی دیورے، ایس ایس نکم، اکر وکیل، عظیم خان، واصف شیخ، سواپنل وانکر کے علاوہ سینکڑوں ہندو مسلم وکلاء نے شرکت کی۔
اس موقع پر سینئر وکیل اور مالیگاؤں بار ایسوسی ایشن کے صدر اعظم خان نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انھوں نے کہا کہ این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون دونوں دستور ہند کے خلاف ہے۔ یہ ایک طرح سے ملک میں بد امنی اور نفرت کو پیدا کر رہا ہے۔ ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے ختم کرے۔
ایڈوکیٹ خالد یوسف نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون ملک اور دستور ہند کے خطرناک ہے۔ اس سے بہتر ہے حکومت روزگار، معاشیات اور تعلیم کی طرف دھیان دیں۔ ملک کی ترقی کے لیے ضروری اقدامات کریں ناکہ ملک کہ شہریوں سے ان کی شہریت کا مطالبہ کریں۔
ایڈوکیٹ توصیف شیخ نے کہا کہ این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون دونوں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپا نے کے لیے نت نئے قانون اور ہربے اپنا رہی ہے۔
مہاراشٹر کے معروف شہر اورنگ آباد میں بھی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف اورنگ آباد بار اسوسی ایشن نے بھی احتجاج کیا۔
اورنگ آباد بار اسوسی ایشن کے وکلاء نے ذات پات اور مذہب سے اوپر اٹھ کر این آر سی کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا، اس موقع پر ضلع کلکٹر آفس پہنچے وکلاء کے نمائندہ وفد نے ضلع کلکٹر کے توسط سے صدر جمہوریہ اور وزیراعظم کو مطالباتی مکتوب روانہ کیا ۔
اس مکتوب میں این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، وکلاء کا کہنا ہیکہ موجودہ حکومت نے دستور ہند کو نشانہ بنایا ہے ، این آر سی سے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے، قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ میں یہ ایکٹ ٹک نہیں پائے گا اور اس کے خلاف ہر محاذ پر آواز اٹھائی جائے۔

Leave a Reply