پٹنہ: (ملت ٹائمز / فضل المبین) بہار کے سابق وزیر اعلی اور ہندوستانی عوام مورچہ کے قومی صدر جیتن رام مانجھی نے اپنے کیشن گنج کا دورہ ردّ کر دیا ہے اور جھارکھنڈ کے نو منتخب وزیر اعلی ہیمنت سورین کے حلف برداری تقریب میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتاتے چلیں کہ مانجھی کے اویسی کی ریلی میں شرکت کے فیصلے نے بہار میں حزب اختلاف عظیم اتحاد کے لیڈران کو پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ جیتن رام مانجھی کی – ہم – بھی عظیم اتحاد کا حصہ ہے ۔ جبکہ مہاگٹھ بندھن نے اویسی کی پارٹی کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا تھا ۔ آج ملت ٹائمز کے نمائندہ فضل المبین سے خصوصی گفتگو میں جناب مانجھی نے بتایا کہ ہفتے کے روز سورین نے انھیں حلف برداری کی تقریب میں آشیرواد دینے کے لئے مدعو کیا ہے ، لہذا ہم نے فیصلہ لیا کہ رانچی جائیں کیونکہ مختلف سیاسی شخصیات جو این ڈی اے کی مخالفت کر رہی ہیں ان کا اس تقریب میں آنا متوقع ہے ۔ مانجھی نے کہا ، “سورین کی کال کے بعد میں نے سوچا کہ جھارکھنڈ کا بہار سے گہرا رشتہ ہے اور اس تقریب کی سیاسی اہمیت ہوگی کیونکہ اس تقریب میں بہت سے وزرائے اعلیٰ اور سیاسی رہنماؤں کے اس میں شامل ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ لہٰذا میں نے کشن گنج جانے کے بجائے رانچی جانے کا فیصلہ لیا ہے. “
واضح ہو کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر حیدرآباد کے ممبر آف پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی ریلی میں شامل ہونے کے مانجھی کے فیصلے سے مهاگٹھبدھن میں سخت مخالفت جاری تھا۔ آر جے ڈی اور کانگریس نے اویسی کی پارٹی کو بی جے پی کی بی ٹیم کہا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مانجھی نے تنازعہ کو حل کرنے کے لئے یہ فیصلہ لیا ہے۔ اس سے قبل مانجھی جمعہ تک کشن گنج جانے کے بارے میں اٹل تھے کیوں کہ انہیں لگتا تھا کہ انہیں ہر محاذ پر سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہم اسٹیج کن کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں بلکہ ہم سی اے اے اور ان آر سی جیسے قانون کے خلاف ہر لڑائی لڑنے والے کے ساتھ ہیں۔
مانجھی نے کہا کہ: وہ راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالو پرساد یادو سے رانچی ملنے کی کوشش کریں گے ، اور موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کریں گے ۔

Leave a Reply