لکھنؤ کے ایک سیشن کورٹ نے جمعہ کو کانگریس لیڈر صدف جعفر، سابق آئی پی ایس افسر ایس آر داراپوری، سماجی کارکن پون امبیڈکر سمیت کچھ دیگر لوگوں کی ضمانت عرضی منظور کر لی ہے۔ یہ سبھی گزشتہ 14 دنوں سے شہریت قانون مخالف مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے تھے۔ خبروں کے مطابق عدالت میں پولس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان لوگوں کے خلاف ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس میں وہ تشدد کرتے ہوئے نظر آئے ہوں۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ ڈویژن بنچ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران گرفتار سماجی کارکن اور کانگریس لیڈر صدف جعفر کے خلاف درج ایف آئی آر رد کرنے کی گزارش والی عرضی پر آج سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت سے دو ہفتہ کے اندر اس سلسلے میں جواب طلب کیا ہے۔

Leave a Reply