نئی دہلی: (ملت ٹائمز) دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے آج دہلی فساد میں تباہ ہوئے مکانات اور دوکانوں کی ازسر نو تعمیر کے لئے 50لاکھ روپئے جاری کئے۔امانت اللہ خان نے یہ رقم دہلی وقف بورڈ کے تحت بنائی گئی ریلیف کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے حوالے کئے جو فساد میں تباہ ہوئے کاروبار،مکانات کی مرمت اور ازسر نو تعمیر کا کام دیکھے گی۔اس کمیٹی میں معروف سماجی خدمتگار ہلال بھائی،خالد بھائی،و دیگر لوگ شامل ہیں۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے کہا کہ کل ہم نے مسجد کمیٹی کو 5لاکھ روپئے کی رقم جاری کی تھی جو ان مساجد اور مذہبی عبادتگاہوں کی مرمت اور ازسر نو تعمیر کاکام دیکھے گی جنھیں فساد میں نقصان پہونچاہے۔امانت اللہ خان کے مطابق ایسی کل مساجد،مدرسے اور مذہبی مقامات کی کل تعداد اب تک 19بتائی جارہی ہے جس کی لسٹ ان کے پاس ہے۔انہوں نے آگے کہاکہ دہلی وقف بورڈ فسادات کے بعد روز اول سے ہی متاثررین کی راحت رسانی اور بازآبادکاری میں سرگرم ہے۔پہلے مرحلہ میں فسادزدگان کی مدد کے لئے ہم نے عید گاہ مصطفی آباد میں ایک وسیع کیمپ لگایا جسمیں قیام و طعام اور تمام بنیادی ضرورتوں کا انتطام کیا گیا اور اب ایک منظم منصوبہ کے تحت تمام متاثرین کی بازآباد کاری کے لئے ہم لوگ کوشاں ہیں جس کے لئے ایک ریلیف کمیٹی بنادی گئی تھی اور اسکی ذیلی کمیٹیاں بناکر کام کو تقسیم کردیا گیا۔امانت اللہ نے مزید کہاکہ گوکل پوری مارکیٹ میں جلی ہوئی دوکانوں کی جو تفصیل سامنے آئی ہے اسمیں کل 224دوکانیں ہیں،اسی طرح شیو وہار کی میں کافی مکانات جلائے گئے ہیں اس کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر مکانات جلائے گئے ہیں ان کی ازسرنو تعمیر کے لئے یہ رقم جاری کی جارہی ہے جس کے تحت کل سے کام شروع ہوجائے گا۔امانت اللہ خان نے آگے کہاکہ ہماری کوشش یہ ہے کہ کم سے کم فساد متاثرین کے مکانات اور دوکانیں جس حال میں تھیں انھیں اس حال میں متاثرین کے حوالے کردیا جائے اور متاثرین کو ان کے گھروں میں بسانے اور ان کے کاروبار کو دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کی جائے جس کے لئے ہم نے ایک ماہ کا وقت رکھا ہے۔امانت اللہ نے مزید کہاکہ ہماری کوشش یہ ہے کہ حکومت سے جو تعاون متاثرین کو ملے اس کے علاوہ الگ سے ہم لوگوں کے تعاون سے ان کی مدد کرسکیں جس سے انھیں فساد کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دوبارہ زندگی شروع کرنے میں مدد مل سکے۔امانت اللہ خان کے مطابق تقریبا 350مکانات ہیں جنھیں فساد میں نقصان پہونچایا گیا اور 500سے 550دوکانیں ہیں جن میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے،یہ تصویر ہمارے سروے میں نکل کر سامنے آئی ہے۔حتمی اعداد وشمارجمع کرنے کی ہم کوشش کر رہے ہیں۔امانت اللہ خان نے مزید بتایا کہ انہوں نے پولیس انتظامیہ سے بھی بات کی اور ان سے کہاکہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ لوگ اپنے علاقوں میں واپس جاسکیں اور اگر وہ لوگ انھیں رکھنے پر راضی نہ ہوں اور متاثرین کے لئے خوف ودہشت کا ماحول ہو تو ہم متاثرین کو کہیں اور بسانے کی کوشش کریں گے۔امانت اللہ خان نے بتایا کہ ہندوستان کی تارخ میں پہلی مرتبہ اتنے جامع پیمانے پر فسادمتاثرین کی بازاباد کاری اور راحت رسانی کی جارہی ہے ہے اس لئے لوگوں سے بھی تعاون اور دعاکی اپیل ہے۔اس موقع پر دہلی وقف بورڈ کے ممبر اور رلیگل کمیٹی کے ہیڈ ایڈوکیٹ حمال اختر نے دہلی پولیس پر بڑا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ہم نے متاثرین سے جو درخواستیں لی ہیں پولیس نے ابھی تک ان پر ایف آئی آر نہیں کی ہے اور شکایتیں لینے میں بھی وہ آنا کانی کر رہی ہے۔حمال اختر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دہلی پولیس کا رویہ متاثرین کے تئیں غیر ذمہ دارانہ اور غیر پروفیشنل ہے۔انہوں نے آگے کہاکہ اگر پولیس ایف آئی آر نہیں کرے گی تو ہم لوگ عدالت کا رخ کریں گے۔غور طلب ہیکہ دہلی وقف بورڈ میں لوگ نقد اور سامان کے ذریعہ تعاون کر رہے ہیں جو اب تک 20لاکھ کے قریب ہوچکاہے۔

Leave a Reply