افطار اور سحری کے درمیان 7 سے 8 گھنٹے کا فاصلہ ہوتا ہے لہذا افطار کے وقت جلد بازی میں نہیں بلکہ آرام سے اور چبا کر کھائیں، مچھلی اور چکن کے ساتھ سلاد اور سبزی ضرور لیں اور ریڈ میٹ کھانے سے گریز کریں
لکھنؤ: کورونا وبا کے درمیان رمضان المبارک کا مقدس مہینہ بھی جاری ہے۔ ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کے سبب لوگوں کو گھروں میں رہ کر ہی عبادتیں کرنی پڑ رہی ہیں۔ غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے دوران احتیاط برتنا انتہائی ضروری ہے اور روزے داروں کو اپنے کھان – پان پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’روزے دار کو سحری کے وقت ہائی پروٹین مثلاً پنیر سینڈویچ، سبزیوں کا ٹوسٹ، بھرواں پراٹھے، ابلے ہوئے انڈے اور آملیٹ لینے چاہئیں۔ لیموں کی شکنجی میں تھوڑا سا شہد بھی ڈال لیں، تاکہ پانی کی کمی دور ہو جائے اور جسم توانا رہے۔
ڈاکٹر سنیتا نے کہا کہ افطار اور سحری میں 7 سے 8 گھنٹے کا فاصلہ ہوتا ہے، لہذا روزہ افطار کے وقت جو بھی کھائیں اسے کھانے میں جلد بازی نہ کریں، بلکہ آرام سے اور چبا کر کھائیں۔ افطار میں ہمیں اسٹیمڈ، گرلڈ، روسٹیڈ شکل میں غذا لینی چاہیے۔ افطار کے وقت کھجور کے بعد فروٹ چاٹ، فروٹ جوس یا اسٹیم اسپراؤٹ کا خشک میوہ سے کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سنیتا نے کہا، ’’ رات کے کھانے کے بعد فوری نہ سو جائیں بلکہ 5-10 منٹ تک چہل قدمی ضرور کریں۔ اگر آپ رمضان کے دوران کھانے میں ان سب چیزوں کا خیال رکھیں گے تو آپ صحتمند رہیں گے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جو بھی رہنما ہدایات جاری کی گئی ہیں، ان پر ضرور عمل کریں۔ ‘‘

Leave a Reply