حافظ محمد ایوب: ؒاجالے ان کی یادوں کے

عمر فاروق قاسمی

  مکمل یہ تویاد نہیں کہ ہجری یا عیسوی کلینڈر کا کون سا سَال رہا ہوگا اور نہ ہی حتمی طور سے صفحۂ یاد داشت پر یہ بات محفوظ ہے کہ راقم الحروف نے اپنی زندگی کے کتنے ماہ وسن گزارے ہوں گے، البتہ درازگیِ زمانے کے باوجود اتنا یاد ہے کہ مکتبی زندگی گزارنے کے بعد مضمون نویس مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ مدھوبنی میں اپنے استاذِ محترم حافظ محمد ابو ظفر رحمۃ اللہ علیہ کے پاس حفظِ قرآن کا آغاز کرچکا تھا، چونکہ حافظ محمد ابو ظفر صاحب میرے والد کے ہم نام تھے اس لیے وہ شروع ہی دن سے تفریحاً کہا کرتے کہ تیرا باپ میں ہوں اور اسی نسبت سے وہ مجھے بیٹا کہ کر پکارا کرتے تھے اس لیے اور اس لیے بھی کہ وہ مزاحیہ قسم کے انسان تھے، تفریح بہت زیادہ کرتے تھے، میرے اوپر ان کا استاد والا رعب قائم نہ ہوسکا، دوسرے اس وجہ سے بھی کہ وہ انتظامی امور کی وجہ کر زیادہ تر مہتمم ِمدرسہ مولانا ابرار احمد قاسمی کی معیت میں عازم سفر رہا کرتے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقریباً ڈیڑھ دو سال میں صرف ڈھائی پارہ ہی حفظِ قران کر سکا تھا۔ موقع کا فائدہ اٹھا کر میں بھی”گُلّی ڈنڈا“ اور کرکٹ کبڈی وغیرہ میں اپنا وقت ضائع کردیتا تھا۔ بچپن میں کہاں اس قدر شعور کہ اس طرح تو میری زندگی کا انمول حصہ ضائع ہورہا ہے، بلکہ ہر دن اس موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کب حافظ صاحب کا سفر ہو اور ہم اسے غنیمت سمجھ کر اپنے “ّمقصد اصلی ” کی طرف لوٹ جائیں۔کیوں کے ہم اور ہمارے”یارانِ باصفا“ کھیل کود ہی کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے۔ گارجین سے چرا کر، چھپا کر دوچار گولی جیت لی، کبڈی میں دوچار ڈالیوں اور کرکٹ میں دوچار وکٹوں یا رنوں سے ساتھیوں کو شکست دے دی یہی ہمارا متاع حیات اور مقصد زندگی تھا، اس لیے ہمارے گارجین اور سرپرستوں نے یہ فیصلہ لیا کہ حافظ محمد ایوب صاحب رحمہ اللہ کے درجہ میں مجھے منتقل کردیا جائے، وہ خود کو انتظامی امور سے دور رکھتے تھے اس لیے ان کا ناغہ نہیں ہوتا تھا، ان کے حوالے سے طلبہ و اساتذہ بلکہ گاؤں و اطراف میں بھی مشہور تھا کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر بہتر اور مناسب انداز میں توجہ دیتے ہیں، چنانچہ مجھے حفظ کے اس نئے کلاس میں منتقل کردیا گیا۔ یہیں سے میری زندگی میں تبدیلی کا دور شروع ہوتا ہے۔ غالباً سورہ آل عمران سے ان کے یہاں سبق شروع ہوا یہاں تک کہ انھی کے پاس حفظ قرآن کی تکمیل ہوئی۔ مجھے یہ اچھی طرح یاد ہے اس موقع پر ایک مختصر سی تقریب ہوئی تھی اور میرے ساتھ میرے ایک اور ساتھی حیدر علی کنور کا بھی قرآن ختم ہوا تھا اور دونوں کا پر گرام ایک ساتھ ہوا تھا۔ بہر کیف ان کے پاس آنے کے بعد ہی مجھے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جس کھیل کود کو میں اپنی زندگی کی پونجی سمجھ رہا تھا وہ اصل زندگی نہیں ہے، شاہراہ علم پر چل کر ہی اخروی یا دنیوی منزلیں مل سکتی ہیں۔

 حافظ صاحب اپنے فرائض کی ادائیگی کے تئیں انتہائی ایمان دار تھے، تعلیمی امور سے متعلق اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتے، ادھر گھنٹے کی آواز گونجی اُدھر درسگاہ میں آپ کے قدم پہنچ جاتے،تقریباً پندرہ دنوں پر وہ اپنے گھر مومن پور جایا کرتے، ضرورت پڑجانے وہ ہفتہ میں بھی گھر تشریف لے جاتے؛ لیکن سنیچر کو عموماً پہلے گھنٹے میں پہنچ جاتے، کبھی کبھار ہم لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوکر سمجھتے کہ آج ناشتہ بعد آئیں گے، اس لیے بہت خوش ہوجاتے کہ چلو آج کا یاد کیا ہوا سبق کل کام آجائے گا کہ اچانک وہ آدھمکتے اور یوں ہم لوگوں کے سارے منصوبوں پر پانی پھر جاتا۔ ناشتے سے پہلے سبق سنتے ناشتے کے بعد سبقاً پارہ اور بعد نماز ظہر آموختہ سنتے۔ جوبھی سنتے انتہائی توجہ اور غور سے سنتے، سنانے کے درمیان طالب علم کے لیے کسی بھی لفظ اور جملوں کو ”ہضم“ کرجانا آسان نہیں تھا، تلفظ اور حرکت و اعراب کی غلطیوں کو چھپا لینا کسی کے بس کی بات نہیں تھی، متشابہات پر پوری توجہ مرکوز رکھتے، ایک خاص انداز میں ہلتے اور جھولتے ہوئے کان سنانے والے کی آواز کی طرف مرکوز رکھتے، جیسے ہی کوئی غلطی سمجھ میں آتی ہے سر کو ایک مخصوص انداز میں حرکت دے کر متنبہ کرتے۔ ظہر کے بعد آموختہ سننے کا وقت جب ختم ہونا چاہتا اور یہ سمجھ میں آجاتا کہ اب سب کا آموختہ سننا ممکن نہیں تو یاد داشت کے حامل دَور کے طلبہ کابھی استعمال کرتے، جس دن آموختہ یاد نہیں ہوتا ہم جیسے طلبہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جان بوجھ کر پیچھے رہ جاتے تاکہ وہ دَور کرنے والے کے طلبہ پاس بھیج دیں، کیوں کہ یہاں چائے وائے کی” رشوت” یا بات چیت یا اگر وہ جسمانی اعتبار سے کمزور ہے تو محض ڈرا دھمکانے ہی سے مسئلہ حل ہوجاتا؛ لیکن حافظ صاحب ہم لوگوں کی چالاکی کو اکثر سمجھ جاتے، اور پیچھے رہ جانے والے طالب علم کا خاص طور پر خود سے آموختہ سنتے اور آگے رہنے والے کو دَور والے کے پاس بھیج دیتے۔ یوں زیادہ ترہم لوگوں کی چالاکی دھری کی دھری رہ جاتی۔

 تربیت کے معاملے میں بھی ان کا طرز آمرانہ کی جگہ مشفقانہ ہوتا، چھڑی وہ ضرور رکھتے ضرورت پڑنے پر ایک دو چھڑی لگاکر اس کا استعمال بھی کرتے؛ لیکن ضرب و تادیب میں وہ اعتدال کو باقی رکھتے، ہاں ڈنڈے کی جگہ باتوں کا استعمال ضرور کرتے؛ لیکن بہت گرم باتیں بہت نرم لہجے میں اس طرح کہ جاتے کہ طلبہ بدمزہ بھی نہ ہوتے اور گفتگو کمان سے نکل کر نشانے پر پہنچ جاتی۔ تاثیری اعتبار سے ان کی گفتگو تیر سے زیادہ اثر انگیز ہوتی، البتہ ان کی تیز و تند باتوں کا زخم زیادہ دیر تک ہرا نہیں رہتا، جیسا کہ بہت سارے اساتذہ کی عادت ہوتی ہے گفتگو میں ” رے چھَوڑا”رے کتّا کا بچہ ”رے بلائی کا بچہ ”حرامی یا حرامی کا بچہ” اور” سور کا بچہ ”جیسی زبان سے ہمیشہ گریز کرتے، البتہ کبھی کبھار چھوٹے بچوں کو ” عقل چوس ”کہ دیا کرتے۔ طلبہ کی عزت نفس کا ہمیشہ خیال رکھتے۔ تنبیہ تو ضرور کرتے؛ لیکن ذلیل کرنے والی عادت نہیں تھی، کبھی کسی طالب علم سے کوئی غلطی ہوگئی بہت سارے اساتذہ کو دیکھا ہے کہ اس ایک غلطی کا طعنہ و ہ سالوں تک دیا کرتے ہیں ”یہ لڑکا ایسا ہے“،”یہ لڑکا ویسا ہے“۔حافظ صاحب اس معاملے میں بہت کشادہ ظرف تھے۔ بہت سارے اساتذہ کو دیکھا کہ طالب علم کی معمولی غلطی کی وجہ سے سالوں کینہ سے ان کا دل ابل رہا ہوتا ہے۔ حافظ صاحب اس سے مبرا اور پاک تھے، عفو ودر گزر ان کی زندگی کا حصہ تھا۔

 یوں تو وہ اپنے درجے کے طلبہ کی خصوصی نگرانی کرتے ہی، اس کے ساتھ ساتھ پورے مدرسے کے طلبہ کی تربیت پر بھی خاص نگاہ رکھتے، پنج وقتہ نماز کے وقت وہ چھڑی لے کر تمام کمرے میں گھوم جاتے، فجر میں تو کئی کئی مرتبہ چکر لگاتے، ہم جیسے بدمعاش طلبہ کمرے سے نکل کر غسل خانے اور ٹیوب ویل کی طرف چلے جاتے،کبھی مسجد سے آگے جاکر گپ شپ میں مشغول ہوجاتے تو کبھی دور ہی سے مخصوص انداز میں کھانسی (طلبہ کو متنبہ کرنے کے لیے اس کھانسی کا استعمال وہ اکثر کیا کرتے تھے) کر کے متنبہ کرتے تو کبھی خفیہ انداز میں اچانک پیچھے سے آدھمکتے اور معمولی انداز میں دوچار چھڑی لگا کرمسجد کی جانب گامزن کردیتے۔ طلبہ سے چھٹکارا ملنے کے بعد وہ فوراً مسجد پہنچتے، سنن ونوافل کے ساتھ نماز باجماعت کی پابندی ہمیشہ ان کی عادت رہی ہے۔

 جب میں عربی درجے میں آگیا تو بھی ان کی محبت برقرار رہی، کبھی کبھار عربی درجات میں ہم طلبہ کے درمیان بھی آکر بیٹھ جاتے اور ہم لوگوں کے تکرار و مذاکرے کو بغور سنتے، بطور امتحان ہم لوگوں سے متعلقہ کتابوں کے حوالے سے کچھ سوالات بھی کردیتے، ہم لوگ کبھی درست جواب دے کر مطمئن کردیتے تو بہت خوش ہوتے اور کبھی منطقیانہ انداز میں اِدھر ُادھر کی اڑا کر جواب دیتے تو یہ کہ کر طنز کرتے ہوئے نکل جاتے کہ ”مولوی ہو نا، منطق نہ پڑھتے ہو” ہم لوگ فاتحانہ انداز میں مسکرا دیتے؛ مگر دل میں سوچنے لگتے کہ ہماری تاویل بیجا پکڑا گئی۔

 ادارے کی خدمت کا نام زبان پر چاہے جتنی مرتبہ بھی آئے عموماً اداروں کے ملازمین ادارے میں ملازمت ہی کرتے ہیں۔ خدمت اور سیوا محض زبان پر ہوا کرتی ہے، بہت ایمان دار آدمی ہے تو وہ اپنی متعلقہ ذمہ داری کو ہی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دے دیتا ہے، باقی غیر متعلقہ چیزوں سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے؛ لیکن حافظ صاحب واقعی خدمت کرتے تھے، مدرسہ کا کوئی سامان کہیں گرا پڑا ملا فوراً اس کو محفوظ ٹھکانے پر پہنچواتے، وہ اپنی روٹینی زندگی کے علاوہ بھی مدرسے کو بہت کچھ دیتے، طلبہ کو قوم کی امانت کے ساتھ اللہ کی امانت تصور کرتے۔

 اداروں کی زندگی میں اساتذہ کی چپقلش بھی بہت دیکھی ہے، یہاں تک کہ چپقلش کی خبر طلبہ کے درمیان بھی پھیل جاتی ہے، بہت سے لوگ اپنی صلاحیت اور کارکردگی سے عزت کمانے کے بجائے دوسروں کو نیچا دکھا کر اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حافظ صاحب اس سے ماورا تھے، وہ کسی استاد سے نہ تو حسد کرتے اور نہ ہی کس استاد کے حوالے سے ان کی چپقلش سمجھ میں آتی وہ اپنے کام سے مطلب رکھنے والے انسان تھے، وہ جوکچھ کرتے اللہ اور اس کو راضی کرنے کے لیے کرتے شاید اسی لیے وہ طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی نظر میں بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

 علم وعمل کے پیکر حافظ محمد ایوب صاحب اس جہان فانی میں بھارت کی آزاد ی سے تقریباً پانچ سال قبل 1942ء میں آئے، مدھوبنی ضلع میں پنڈول بلاک کی مومن پور بستی ان کی جائے پدائش ہے والد گرامی کا نام عزیزالحق تھا، ابتدائی تعلیم گاؤ ں کے مکتب ہی میں حاصل کی ۔ اسی مکتب سے حفظ قران کا آغاز کیا تھا ۔پھر مدرسہ عظمتیہ کلکتہ میں داخلہ لیا اور وہیں حفظِ قران کی تکمیل بھی ہوئی۔ غالباً عربی درجات کی تعلیم بھی حاصل کی تھی کیوں کہ ہم لوگوں سے درجات عربی میں کچھ ایسے سوالات کرجاتے جو عربی خواں ہی کرسکتا ہے۔ البتہ یہ تحقیق نہیں ہے کہ انھوں نے عربی درجات کی تعلیم کہاں اور کتنی حاصل کی۔ تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے کے بعد کرڈیگ گملا جھارکھنڈ کی کسی مسجد میں چند سال تک امامت کے فرائض انجام دیئے ۔ ان کی صلاحیت کا اندازہ لگانے کے بعد جش پور اڑیسہ کے لوگوں نے تدریسی خدمت انجام دینے کے لے اپنے یہاں مدعو کرلیا۔ چند سال وہاں رہے۔ اس کے بعد مدرسہ قمر العلوم بنڈیگا اڑیسہ کے مہتمم قاری مصطفی صاحب نے اپنے یہاں آنے پر اصرار کرنا شروع کردیا ۔ چناچہ ان کے اصرار سے مجبور ہوکر آپ وہاں تشریف لے گئے۔ کچھ عرصہ وہاں رہے۔ اس کے بعد مدرسہ تجوید القران سمڈیگا کے مہتمم حضرت مولانا ابرار صاحب قاسمی نے اپنے یہاں طلب کیا۔ چند سال یہاں زندگی گزاری۔ کچھ دنوں بعد مولانا ابرار احمد صاحب مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ میں بہ حیثیت مہتمم بحال کردیئے گئے، چوں کہ مولانا ابرار احمد قاسمی ان کے طرز تدریس کی خوبیوں سے واقف تھے اس لیے انھوں نے ایک یا دو سال یہاں رہنے کے بعد حافظ صاحب کو یہاں بلا لیا ۔ غالباً یہ ١٤٠٠ھ کا سن تھا۔ اس وقت سے ایک لمبا عرصہ یہیں گذارا یہاں تک کہ جب جسم نے سائیکل چلانے سے انکار کردیا تو 37 سالہ زندگی گزار کرسنہ ١٤٣٧ھ کے شوال میں آپ نے استعفی دے دیا۔ اور اپنے وطن مومن پور لوٹ گئے۔ وہاں حافظ حارث صاحب نے آپ کو نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر اپنے ادارے مدرسہ محمدیہ میں بہ حیثیت استاد بحال کرلیا۔ وفات سے کچھ دنوں قبل تک وہیں تدریسی خدمت انجام دیتے رہے۔ یہاں تک صاحبِ فراش ہو گئے۔ غالباً ایک ماہ تک صاحب فراش رہے۔ 2 نومبر 2022ء کو صبح تقریباً چھ بجے سے آٹھ بجے تک بے ہوش رہے تقریباً آٹھ بجے کے قریب بے ہوشی دور ہوئی، اٹھ کر بیٹھے۔ پانی مانگا، رشتے داروں سے کہا کہ لباس بدل دو مجھے جانا ہے، لباس بدل دیا گیا۔ پھر لیٹے پھر پانی مانگا اس کے بعد دس منٹ تک کلمہ کا ورد زبان پر جاری رہا اسی درمیان ان کی روح پر واز کرگئی۔ اور یوں کلمہ جاری کر اکر پوری زندگی قرانی خدمت کا صلہ حق تعالی نے عطا کردیا۔ ہر مسلمان کی یہ آخری تمنا ہو تی ہے،کہ خاتمہ بالخیر ہو۔ اور موت کے وقت کلمۂ طیبہ اور کلمۂ شہادت اس کی زبان سے جاری رہے۔ حافظ صاحب کی یہ تمنا پوری ہوگئی اور یوں مومنانہ موت پاکر وہ زندگی کے اپنے عظیم مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

رابطہ : 9525755126

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com