سنگھ پریوارکی اردو دشمنی طشت ازبام

سنگھ پریوارکی اردو دشمنی طشت ازبام

زین شمسی
ملت ٹائمز
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے 5-7فروری تک دہلی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اردو صحافت کے 200سال کے موضوع پر عالمی سمینار کا انعقاد کیا، جس کا افتتاح وزارت فروغ انسانی وسائل کی وزیر اسمرتی ایرانی کو کرنا تھا، لیکن عین وقت پر انہوں نے اپنا پروگرام رد کر دیا۔اخبارات میں آئی رپورٹوں کے مطابق روہت ویمولا کی خودکشی کی وجہ سے دہلی یونیورسٹی میں ان کی آمد کے خلاف کچھ طلبا کا احتجاج بتا یا گیا ،لیکن عینی شاہد کا کہنا ہے کہ طلبا کی تعداد اتنی کم تھی کہ منتظمین ہی مظاہرین سے نمٹ لیتے اور اگر واقعی احتجاج ہی ایک بہانہ تھا تو اس پروگرام کو کسی دوسری جگہ پر منعقد کرانے کی ہدایت دی جاتی۔این سی پی یو ایل کے ذرائع بتاتے ہیں کہ صرف اسمرتی ایرانی کی وجہ سے ہی یہ پروگرام دہلی میں رکھا گیا ،ورنہ عالمی کانفرنس کا انعقاد حیدر آباد میں ہونا تھا۔وزیر نے صاف طور پر کہا تھا کہ وہ اس دن فرصت میں ہیں اور اگر اس دن سمینار ہوا تو وہ حاضر ہوں گی، لیکن وقت گزرتا گیا اور اسٹیج پر ان کی کرسی خالی رہ گئی۔ صرف وہی نہیں کتھیریا بھی نہیں آئے ،ان کی مخالفت کون کر رہا تھا۔اسمرتی ایرانی کے اس تعصبانہ اقدام پر این سی پی یو ایل کے وائس چیئر مین ،جو خود وزارت کے ہی ترجمان ہوتے ہیں، انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیج سے ہی وزیر تعلیم کی اس نفرت بھرے اقدام کو جم کر کوسا۔ انہیں نے جرآت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ اسمرتی ایرانی کا یہ قدم خالص اردو دشمنی کا اظہار ہے۔ہم نے ان کی وجہ سے ہی پروگرام میں تبدیلی کی ورنہ یہ پروگرام ممبئی میں ہونے والے پروگرام کے بعد آخر میں حیدر آباد میں ہونا تھا۔ظاہر ہے کہ وی سی جو خود آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہیں ،انہوں نے اس وقت اردو کی حمایت کرتے ہوئے اسمرتی ایرانی کو اردو دشمن قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر مظاہرہ کی وجہ سے اسمرتی ایرانی نہیں آئیں تو انہوں نے اب تک کتنے پروگرام اس وجہ سے منسوخ کئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں یونیورسٹی میں احتجاج کا خوف تھا وہ یہ پروگرام لکھنو میں یا امیٹھی میں ہی منعقد کرانے کے لیے کہہ سکتی تھیں،لیکن انہوں نے کھلے عام اردو کی بے عزتی کی ہے۔ایک ایسا شخص جو خود ہی بی جے پی اور سنگھ کے قریب رہا ہو۔ ان کی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسمرتی کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے دوسرے لیڈران بھی جنہوں نے پروگرام کی شرکت کی حامی بھری تھی وہ بھی پروگرام سے ندارد رہے۔ جتندر سنگھ اور مختار عباس نقوی نے بھی اردو کے اس جشن میں شامل ہونامناسب نہیں سمجھا۔
اسے اردو صحافت کا المیہ کہیے یامحدود ذہنیت کی عکاسی کہ گزشتہ روز سے اردو اخبارات اورسوشل میڈیا میں اس پروگرام کے سلسلہ میں جو رپورٹ یا پوسٹ آئی ، اس میں اس طرف کسی نے اشارہ نہیں کیا۔پروگرام میں ہمیں کیوں نہیں بلایا گیا، بس اسی پر مرکوز آرٹیکل لکھے گئے اور زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا گیا کہ پروگرام میں صحافیوں کی شرکت نہ کے برابر تھی۔ میں نے پروگرام کو بہت نزدیک سے دیکھا اور تمام اخبارات اور پوسٹ کابغور مطالعہ بھی کیا۔ ایک نہایت فضول سا الزام یہ لگایا گیا کہ اردو کے پروگرام میں ہندی میں وشو اردو سمیلن کیوں لکھا ہوا تھا۔کچھ لوگوں نے وہ تصاویر فیس بک پر بھی لگائی جو پروگرام کے وقت اسکرین پر چل رہی تھی۔یہ ایک بچکانہ تبصرہ تھا۔ ڈائس پر ہندی ،اردو اور انگریزی تینوں زبانوں میں عالمی کانفرنس درج تھا۔قومی اور مادری زبان کے ساتھ انگریزی زبان میں اگر کسی پروگرام کی اطلاع دی جائے تواس میں اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔دوسرا الزام یہ عائد کیا گیا کہ ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے یہ کیوں کہا کہ اردو والے تخریبی ذہن رکھتے ہیں۔ اگر 200سال میں اردو صحافت تخریبی کام کرتی رہی ہے تو اس کا جشن منانے کا کیا جواز ہے۔ دراصل سیاق و سباق کو گھول میل کر کے پیش کیا گیا۔ ان کا کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ اردو صحافت تخریبی کام کرتی رہی ہے۔ انہوں نے اشارتاً ان لوگوں کے بارے میں یہ بات کہی تھی جو اردو کا گینگ چلاتے ہیں اور کسی بھی پروگرام کو خراب کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ تیسرا الزام یہ عائد کیا گیا کہ اس تقریب میں صحافی نہیں تھے ، بلکہ بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے پروفیسران کا غلبہ تھا۔ ان کا یہ الزام بھی جھوٹا سچ ہے۔ایک بڑے اخبار کا دعویٰ کرنے والی کم سطحی رپورٹ نے تو ڈائریکٹر کی اس بات کی تصدیق کر دی کہ اردو والے تخریبی کام کرتے ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ جس اسٹیج پر صحافیوں کی کمی کا رونا ریاگیا ہے اسی اسٹیج پر شاہد لطیف جیسے سنجیدہ صحافی موجود تھے ،جن کی صحافتی خدمات کے سامنے کوئی بھی بونا نظر آئے گا۔کہا گیا کہ کسی صحافی کو نہیں بلایا گیاپھر کہا گیا کہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسروں کو بھی دعوت نہیں دی گئی۔گویا اپنے ہی موقف سے انکار۔
خلاصہ کلام یہ کہ ار دو کے کسی بھی پروگرام کو آخر اس نظریہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے کہ اس پروگرام میں مجھے کیوں نہیں بلایا گیا۔صحافیوں کو یہ نظر کیوں نہیں آیا کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار نے اس پروگرام میں شرکت نہ کر کے اردو کا مذاق بنایا۔
اردو صحافت کے 200سال ہونے کے بعد بھی اردو اخبارات کا اس طرح کا رجحان واقعی صدمہ پہنچانے والا ہے۔ اس کانفرنس کی بخیہ ہی اتارنی تھی ایسے کئی زاوئے تھے ،این سی پی یو ایل نے کئی مواقع دئے تھے ،جسے اجاگر کرنے کی ضرورت تھی اور یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ مہنگے پروگرام کا مقصد اور ہدف کیا ہونا چاہیے تھا۔
پہلی بات جو میری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ اس پروگرام نے یہ ثابت کر دیا کہ سرکار اپنے ایسے کسی ادارے کی حوصلہ افزائی کرنے کے موڈ میں نہیں ہے ،جس کا تعلق اقلیتوں سے ہو یا اردو سے ہو۔ کیا سرکار کا رویہ ہندی کے ساتھ بھی یہی ہوتا، جو اس نے اردو کے ساتھ کیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر اور وائس چیئر مین کی تقرری سرکار نے ہی کی ہے اور ان کی ہی دعوت کو ٹھکراکر وزارت فروغ انسانی وسائل نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں۔یہ پروگرام یہی اشارہ دیتا ہے۔
سب سے بڑی کمی جو اس پروگرام میں نظر آئی اور جس کی طرف کچھ اخبار نویسوں نے اشارہ دیا کہ اس میں صحافیوں کی تعدا د بہت کم تھی۔یہ پورا سچ نہیں ہے۔ صحافیوں کی تعداد تو تھی ،لیکن ورکنگ جرنلسٹوں کو نہیں بلایا گیا۔صحافت کی پریشانیوں سے ورکنگ جرنلسٹ آگاہ رہتے ہیں۔ کالم نگار نہیں اور وہ بھی نہیں جو اردو صحافت کی تاریخ پر کتابیں لکھتے ہیں۔یہ ایک اچھا موقع تھا جب اردو صحافت کے مسائل ،ایڈیٹنگ سے لے کر پرنٹنگ تک اور سرکولیشن سے لے کر اشتہارات تک لوگوں تک یا یوں کہیں کہ سرکار تک پہنچائے جا سکتے تھے۔غیر ممالک سے اچھے خاصے مندوبین تھے ،لیکن کم و بیش انہوں نے ایک جیسے مقالہ پڑھے ۔انہیں مقالہ کا عنوان پہلے سے بھیجنا چاہیے۔
اردو صحافیوں کا مذاق اس طرح اڑایا گیا کہ تیسرے سیشن میں کچھ ثقافتی پروگرام رکھے گئے۔ پہلے دن طلعت عزیز کی غزل سرائی تھی انہیں 5-6لاکھ روپے دے دئے گئے، دوسرے دن مشاعرہ منعقد ہوا ،گھٹیا ترین شاعر کو جسے کبھی کہیں نہیں سنا گیا اور نہ ہی ان کی شاعری شاعری کہنے لائق ہے انہیں بھی10ہزار روپے سونپ دئے گئے۔ کچھ شاعروں کو 15سے 25ہزار تک بانٹ دئے گئے۔تیسرے دن ڈرامہ میں اردو ہوں کا انعقاد کیا گیا، اس گروپ کو بھی 2سے ڈھائی لاکھ روپے دے دئے گئے۔ مارے گئے وہ لوگ جو اردو صحافت پر مقالہ پڑھنے دور دور سے آئے تھے، انہیں 3ہزار میں نمٹا دیا گیا۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ 200 سال ہونے کے بعد بھی اردو صحافت کی کیاحیثیت ہے۔گویا جس موضوع پر سمینار ہو رہا ہے ، اسی کو حاشیہ پر رکھ دیا گیا۔جلد بازی میں نمٹائے گئے اس اہم کانفرنس میں ڈسپلن اور لائحہ عمل کی پوری طرح کمی تھی۔
اچھا ہوتا کہ این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر اسٹیج سے اعلان کرتے کہ وہ ہر سال کونسل کی طرف سے ایک سے تین صحافیوں کو ایوارڈ دیں گے، یایہ اعلان کرتے کہ دہلی اور دیگر شہروں میں ماس کمیونکیشن کے طلبا کو اسکالر شپ دلانے کی کوشش کریں گے۔ یہ بھی اعلان کیا جا سکتا تھا کہ اخبارات کی اشاعت میں خرچ ہونے والے پیسوں میں آدھی سبسڈی کونسل اٹھائے گی۔جس طرح نیوز ایجنسی یو این آئی کو سبسڈی دی جاتی ہے ،اسی طرح پریس میں بھی سبسڈی دی جائے گی۔ یہ اعلان بھی کیا جا سکتا تھا کہ ایک سال میں تمام اخبارات میں شائع کالم میں سے بہترین 100مضامین کو کونسل کتابی شکل دے گی۔ تب اس اجلاس کاکوئی مثبت پہلو نظر آتا ،ورنہ تقاریر ، مباحثے ،اور اجلاس کی جھڑی بھی لگ جائے تب بھی اس کا کوئی آؤٹ پٹ نہیں نکلنے والا۔

قومی اردوکونسل کا عالمی اردو کانفرنس کئی سوالات
کیا ہونا چاہیے
ماس کمیونکیشن کے طلبا کو اسکالرشپ دی جاسکتی تھی
اردو صحافت میں نمایں کارکردگی کرنے والوں کو انعامات و اعزازات کا اعلان کی جا سکتا تھا
اخبارات کی چھپائی کے لیے سبسڈی کی تجویز وزارت کو پیش کی جا سکتی تھی
ورکنگ جرنلسٹ کا پینل بنا کر اردو صحافت کے مسائل پر بحث کی جا سکتی تھی
کیا ہوا
وزارت نے اپنے ہی زیر تحت آنے والے ادارے کو نظر انداز کر دیا
صدارت کی کرسی پر صحافیوں سے زیادہ غیر صحافی شخصیتیں موجود رہیں
مقالہ نگاروں کو3000اور شاعروں کو 10ہزار سے زاید رقم دی گئی ،گویا صحافت کے سمینار میں بھی شاعروں کی اہمیت تسلیم کی گئی۔
(مضمون نگارمعروف صحافی اور روزنامہ خبریں کے جوائنٹ ایڈیٹر ہیں )

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *