کیا ہماری بہنیں محفوظ ہیں؟ ایک جھنجوڑ دینے والا واقعہ

کامران غنی صبا، پٹنہ
گزشتہ روز بس سے اسکول جاتے ہوئے میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔اس ملاقات نے مجھے اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ میرے ہاتھ میں اردو کا اخبار تھا۔ نوجوان نے مسکراتے ہوئے مجھ سے اخبار طلب کیا۔ ’’معاف کیجیے گا، میرے پاس اردو کا اخبار ہے۔‘‘ میرے جواب پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ’ کوئی بات نہیں میں تھوڑی بہت اردو پڑھ لیتا ہوں۔‘مجھے لگا شاید یہ نوجوان مسلمان ہے، کیوں کہ بہت سارے مسلم نوجوان بھی اچھی طرح اردو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔ اس سے پہلے کہ مزیدمیں اس سے کچھ دریافت کرتا اُس نے خود ہی کہنا شروع کیا ’’ میری گرل فرنڈ مسلمان ہے اور اُس نے ہی مجھے اردو لکھنا پڑھنا سکھایا ہے۔‘‘مجھے اس کی بات پر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی البتہ میں نے مزید وضاحت کے لیے براہ راست بات کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔’’آپ ہندو ہیں؟‘‘ میرے اس سوال پر وہ تھوڑی دیر تک مسکراتا رہا پھر کہنے لگا کہ میں خاندانی طور پر ہندو اور نظریاتی طور پر ’ناستک‘ (ملحد) ہوں، البتہ اب مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔
’’آپ اپنی مرضی سے مسلمان ہونا چاہتے ہیں یا آپ کی گرل فرنڈ کا حکم ہے۔‘‘
’’نہیں۔۔ اُس نے ایسا کبھی نہیں کہا ،ہاں مجھے اسلام کے بارے میں بتاتی ضرور ہے، لیکن شاید وہ خود بھی اپنے مذہب کے بارے میں بہت کم ہی جانتی ہے۔‘
اب وہ نوجوان خود ہی اپنے بارے میں تفصیل سے بتانے لگا۔ اس نے بتایا کہ وہ ’کانپور‘ کا رہنے والا ہے اور اپنے کسی دوست کی شادی میں بہار آیا ہوا ہے۔ نوجوان بہت زیادہ پڑھا لکھا نہیں لگ رہا تھا لیکن اُس کی باتوں میں سنجیدگی اور ٹھہرائو تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اسلام کے متعلق جاننا چاہتا ہے لیکن اس خوف سے اپنی خواہش کا برملا اظہار نہیں کرتا کہ اس کے گھر والے اور سماج کے لوگ اسے جینے نہیں دیں گے۔ اس نے بتایا کہ اترپردیش کا ماحول بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ ہندوتنظیموں کا اثر و رسوخ دن بدن بڑھتا جا رہاہے۔ نئی حکومت بننے کے قبل سے ہی ہندو تنظیموں خاص طور سے ’’بجرنگ دل‘‘ اور ’’ہندو یووا واہنی‘‘ کے کام کرنے کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اُس نوجوان نے بتایا کہ ہندو تنظیموں کی پوری کوشش مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کو ان کے دین سے بدظن کرنا ہے۔ اس کے لیے ان تنظیموں نے بہت ہی مضبوط لائحۂ عمل بنایا ہے۔ شادی شدہ عورتوں کو ’طلاق‘، ’گھریلو مظالم‘ اور آزادی کے نام پر ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلمان عورتوں سے پیسے دے کر، نقاب پہنا کر اسلام مخالف بیانات رکارڈ کروائے جا رہے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے۔مسلم لڑکیوں کو ورغلانے کے لیے بہت ہی خطرناک منصوبے کے تحت کام ہو رہا ہے۔ اس کے لیے باضابطہ نوجوان لڑکوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انہیں خاص طور سے اردو زبان سکھائی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے اندر جلد متاثر ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ لہذا جب وہ غیر مسلم لڑکوں کی زبان سے اردو زبان کے الفاظ اور اشعار سنتی ہیں تو فطری طور پر متاثر ہوتی ہیں اور یہیں سے ان کی بربادی کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ ہندو تنظیموں کی جانب سے ایک مسلمان لڑکی کو گمراہ کرنے کے عوض دو لاکھ روپے کی پیش کش کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی جاتی ہے کہ چھ مہینے سے سال بھر کے اندر اندر لڑکی کو اس حالت میں لا کھڑا کرنا ہے کہ وہ یا تو خود کشی کر لے یا سماج میں منھ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے۔
نوجوان کی باتوں نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ میں نے اپنے حوصلے کو جمع کرتے ہوئے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے سوال کیا کہ ’’ آپ کے پاس ایک اچھا موقع ہے، آپ دو لاکھ روپے کی پیش کش کیوں ٹھکرا رہے ہیں؟‘‘ ۔ میرے اس سوال پر وہ انتہائی سنجیدہ ہو گیا، کہنے لگا۔ ’’بھائی جان! ظلم ہندو کرے یا مسلمان، ظلم ظلم ہی ہوتا ہے ،اوپر والا ظلم کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرتا۔‘‘
نوجوان کی منزل آ چکی تھی۔ وہ آداب، سلام اور مصافحہ کر کے بس سے اتر چکا تھا۔ اس کے جانے کے بعد میں سوچتا رہا کہ کیا اِن منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمارے پاس بھی کوئی منصوبہ ہے؟ کیا ہماری بہنوں کے اندر وہ قوت ایمانی ہے کہ وہ ان ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں؟کیا مسلم لڑکیوں کی تربیت کا ہمارے پاس ایسا کوئی انتظام ہے کہ کوئی انہیں گمراہ نہ کر سکے؟مجھے نہیں معلوم کہ جس نوجوان سے میری ملاقات ہوئی اس کی باتوں میں کتنی سچائی تھی، ممکن ہے وہ خود بھی ’کسی منصوبہ‘ کے تحت کام کرتا ہو لیکن اُس کی باتوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا گھر سے باہر اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں ہماری بہنیں محفوظ ہیں؟
(مدیر اعزازی اردو نیٹ جاپان)