غزل دیر تلک کیوں روٹھے روٹھے رہتے ہو کیا ملتا ہے جان جلا کر شہزادے؟

غزل

لوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے
کیا ملتا ہے مجھ کو رلا کر شہزادے

بولو کیسے خود کو اب تم روکوگے
دل کی بے تابی کو بڑھا کر شہزادے

کب تک اک اک لمحہ یوں ہی کاٹیں گے
دیواروں کو درد سنا کر شہزادے

کتنا روئی کیا تجھ کو معلوم نہیں؟
آج میں تیرا ہجر منا کر شہزادے

دیر تلک کیوں روٹھے روٹھے رہتے ہو
کیا ملتا ہے جان جلا کر شہزادے؟

آج نکھار دیا ہے میری شب کا روپ
تُو نے میرے خواب میں آ کر شہزادے

اپنی آنکھوں کی قیمت نہ گرا لینا
ایسے میرا مول گھٹا کر شہزادے

آج پتہ ہے؟ میں نے پھر سے یاد کیا
تجھ کو کتنی بار بھلا کر شہزادے

تم نے میری ہستی کو پامال کیا
میری ہر اک ضد کو مٹا کر شہزادے

من کے نازک محل میں سخت اناؤں کی
کہاں گئے دیوار اٹھا کر شہزادے

پریم کی گنگا، جمنا من میں بہا دی ناں
تم نے اپنے خواب دکھا کر شہزادے

روپ سنوار کے تیری آس میں شہزادی
رستہ دیکھے سیج سجا کر شہزادے

مجھ کو لگا لو آج پھر اپنے سینے سے
کان میں وہ اک بات بتا کر شہزادے

بخت میں تیرا ساتھ میسر ہو جائے
تو بھی سوہنے رب سے دعا کر شہزادے

کس کو سنائے خاموشی کے بین رباب
دل روتا ہے درد چھپا کر شہزادے
فوزیہ رباب
گوا_9175521025

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں