Tag: غزل
-

غزل
زخموں سے پریشان ہیں سب درد کے مارے انسان پکارے تو بھلا کس کو پکارے اک دور ہوا صدمۂ گجرات کو ، لیکن آنکھوں میں ابھی تک ہیں لہو رنگ نظارے مسلم بھی ہے تہذیبِ برَہْمن سے ہم آغوش اب چشمۂ زمزم بھی ہے گنگا کے کنارے اس عہد میں ہر شخص…
-

غزل
غزل کاشف شکیل صنم کا آستانہ دیکھتا ہوں ولایت کا زمانہ دیکھتا ہوں خزاں آلود پتوں کی رگوں میں بہاروں کا فسانہ دیکھتا ہوں تمھارے ہجر کے لمحوں میں جاناں زمانے کا زمانہ دیکھتا ہوں ہزاروں حسن کے مالک یہاں ہیں مگر تم کو یگانہ دیکھتا ہوں سہام دید کو پہلو بدل کر میں سوئے…
-

غزل
پیار سے پوچھو کبھی ناراض ہو کیوں ہو یوں گم صم اجی ناراض ہو مجھ سے کچھ رہتی ہو کترائی ہوئی تم بھی کیا اے زندگی ناراض ہو تو ہے راضی تو ہو کیا دنیا کا غم کوئی مانے یا کوئی ناراض ہو یوسفی کرتی رہے گی درگزر کیا دھوئیں سے روشنی ناراض ہو سیدھے…
-
غزل
ترے خیال سے نکلیں تو داستاں ہو جائیں نصیب ہو جو ترا ساتھ، جاوداں ہو جائیں ہماری راکھ اڑانے کو آئے گا وہ شخص سو اس سے پہلے بھلا کیسے ہم دھواں ہو جائیں؟ تمہارے ملنے تلک قادر الکلام رہیں تمہارے سامنے آئیں تو بے زباں ہو جائیں ہمارا مسئلہ، دیکھو! ہمارا…
-
غزل
پاس ہر شخص کے زر ہو یہ ضروری تو نہیں ہر کوئی شاہ ظفر ہو یہ ضروری تو نہیں اپنی خودّاری کا رکھتا ہوں ہمیشہ احساس تیرے درپر مرا سر ہو یہ ضروری تو نہیں مانگتے رہتے ہیں دن رات دعائیں کچھ لوگ سب دعاؤں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں زیست فٹ…
-
غزل
غزل وفا کرنا، سِتم سہنا نہیں ہے مُجھے اَب اور کُچھ کَہنا نہیں ہے بَھلا میں کیوں تُمہارے خواب دیکھوں تُمہارے ساتھ جب رہنا نہیں ہے مری آنکھیں حقیقت آشنا ہیں خیالی موج میں بہنا نہیں ہے ِشِکایت کیوں تُجھے ہے دوسروں سے شرافت جب تِرا گہنا نہیں ہے نہیں ہو جِس میں رخشاں اُس…
-
غزل
غزل کبھی صورت دکھاتا ہے، کبھی پردہ گراتا ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے کہ میرا دل جلاتا ہے نہیں ممکن حقائق کا چھپا لینا محبت میں ہر اک اظہاریہ سچ بولتا نغمہ سناتا ہے ترے پہلو میں وہ تسکین قدرت نے عطا کی ہے جسے پاکر تہہ دل سے مرا غم مسکراتا ہے…
-
غزل حیراں ہوں کوزہ گر کے غمِ انہماک پر یوں رکھ دیا زمیں کو ہواؤں کی چاک پر طاقِ ابد پہ تھا مرا دیمک زدہ بدن ذرّوں میں انتشار ہوا اشتراک پر اتنا طویل تھا مرے وجدان کا سفر سورج کا جسم تان دیا شب کی خاک پر بخشوں گا کائنات کو تسکین کا لباس…
-
غزل
غزل عظمتِ رفتہ کا آئینہ دکھانے نکلے پھر مجھے لوگ مری یاد دلانے نکلے در بدر خاک اڑاتے ہیں وہ آشفتہ مزاج جو مری راہ میں دیوار اٹھانے نکلے جن کو ہم رند خرابات سمجھتے تھے بہت ان کے کشکول سے تسبیح کے دانے نکلے ہم سمجھتے تھے کہ وہ ویران جزیرہ ہوگا دل…
-
غزل
غزل امن کی ہر ہاتھ میں قندیل ہو روشنی میں روشنی تحلیل ہو خوبیاں خوبی رہیں خامی نہ ہوں قلب کا موسم اگر تبدیل ہو حکمرانی کس کی جسم و جاں پہ ہے اور کس کےحکم کی تعمیل ہو اُن کے سینے میں کبھی دھڑکے یہ دل حدّتِ وحشت اُنھیں بھی ’ فیل ‘ ہو…