غزل

حیراں ہوں کوزہ گر کے غمِ انہماک پر
یوں رکھ دیا زمیں کو ہواؤں کی چاک پر

طاقِ ابد پہ تھا مرا دیمک زدہ بدن
ذرّوں میں انتشار ہوا اشتراک پر

اتنا طویل تھا مرے وجدان کا سفر
سورج کا جسم تان دیا شب کی خاک پر

بخشوں گا کائنات کو تسکین کا لباس
آنے تو دو فصیلِ شبِ تابناک پر

کب تک نگاہ شب کی سیاہی کو چاٹتی
شعلوں کا رقص بھر دیا صحرا کی ناک پر

عامرؔ کسے ہے اوجِ مفاہیم کی طلب
الفاظِ بے نوا ہیں لب پُر تپاک پر

عامر نظر
دانش مرکز, پھلواری شریف, پٹنہ

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں