وہ خوشبو سی اردو زباں چھوڑ آئے

فوزیہ رباب

مٹائے گئے پر  نشاں ـــ چھوڑ آئے
تری جستجو میں جہاں چھوڑ آئے

وطن کی زمین سے محبت ہے اتنی
جو غیروں کا تھا آسماں چھوڑ آئے

محبت کی خوشبو تھی ذروں میں جسکے
ہم اپنا وہ کچا مکاں چھوڑ آئے

چلا قافلہ جب محبت کا  دل سے
تو ہم نفرتوں کا جہاں چھوڑ آئے

کشش اس قدر کاغذی پھول کی تھی
وہ خوشبو سی اردو زباں چھوڑ  آئے

پسِ پشت کرتے تھے نفرت کی کھیتی
محبت کے روحِ رواں چھوڑ آئے

وہ روتی بلکتی سسکتی تڑپتی
ہم آتے ہوئے اپنی ماں چھوڑ آئے

جو کرتے رہے ہم پہ شفقت کا سایہ
انھیں گاؤں میں بے مکاں چھوڑ آئے

رباب  ہم نے چھوڑی رہ  مغربیت
جہاں  تھی  اسے ہم وہاں چھوڑ آئے.

SHARE