ملائم سنگھ جی!مظلومین کے زخموں پر تیزاب مت چھڑکئے

خاص مضمون
قاسم سید
ہمیں تو یقین تھا مگر مظفر نگر فساد پر یک رکنی کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ نے ان لوگوں کو ضرو ر چونکا دیا جو مسلمانوں کی مسیحا کے لئے شہرت دوام رکھنے والے ملائم سنگھ یادو اور ان کی پارٹی سے غیر مشروط عقیدت رکھتے ہیں اور قدم قدم پر بے وفائی کا مظاہرہ اور زخم دینے کے باوجود عہد وفاداری نبھانے پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہماری گردنیں ویسے ہی ان کے احسانات وعنایات کے بوجھ تلے دبی رہتی ہیں ، ہمارے سران کے قدموں میں جھکے رہتے ہیں پرخواہ ٹھوکروں پر رکھیں پیشانی پر شکن نہیں آتی، انہوں نے بابری مسجد پر چڑھائی کرنے والے نام نہاد کا رسیو کوں پر گولی چلانے کیلئے معافی مانگی ہم نے اف تک نہیں کہا ، مودی جی کو اپنے در دولت پر دعوت دی پریشان نہیں ہوئے اشوک سنگھل سے لے کر امت شاہ مودی سے خفیہ میٹنگیں کیں ہمارا ایمان متزلزل نہیں ہوا۔ اڈوانی کی جی بھر کر تعریف کی منھ کا ذائقہ نہیں بگڑا ۔ خالد مجاہد پولیس کسٹڈی میں خون کی الٹیاں کرکے مرگیا ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ بے گناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی کا وعدہ ایفا نہیں کیا ہم نے شکوہ تک نہیں کیا، مسلم ریزرویشن دینے کا وعدہ کرکے فریب پر فریب دئے ہم جے ہوکا نعرہ پھر بھی لگاتے رہے ۔ ہمارے قائدین بسوں میں بھرکر ان کی خدمت میں لے جاتے رہے ہم لبیک کہتے رہے ۔ متحدہ محاذ سے دامن چھڑا کر بہار میں اسے نقصان پہنچانے اور بی جے پی کو بالواسطہ فائدہ پہنچانے کی روش اختیار کی ہم نے ان کے سیکولر زم پر انگلی تک نہیں اٹھائی۔ اخلاق احمد کو تڑپا تڑپا کر مار ڈالاگیا ، انہیں نام تک معلوم تھے اس کا اظہار بھی کیا بعد بچالے گئے اسے بھی نظر انداز کردیا ،چھوٹے بڑے فسادات میں اقلیتوں کے خون سے پیاس بجھا ئی جاتی رہی ہم نے دامن محبت نہیں چھوڑا۔ بی جے پی سے ساز باز کی خبریں آتی رہیں لوگ ثبوت دیتے رہے ، پوری ریاست میں انتہا پسند عناصر مسلمانوں کو سبق سکھانے گھروں سے نکال کر مارنے اور سرقلم کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے آپ نے کچھ بھی کارروائی نہیں کی پھر بھی صرف آنکھوں سے ہی شکوہ کیا، آپ سافٹ ہندوتو کھیلتے رہے زبان پر حرف شکایت نہیں آیا، بھیڑ نے فرض شناس افسر ضیا ء الحق کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیاکسی کو سزا نہیں ملی ہاشم پورہ کے فساد زدگان کو آج تک انصاف نہیں ملا آپ نے ان کے قاتلوں کو بچانے کی بھر پور کوشش کی ۔ لیکن ہم عہد وفا داری نبھاتے رہے۔ آپ اردو ٹیچروں کی بھرتی کا اعلان کرتے رہے ہم یقین کرتے رہے۔ آپ نے آرٹی سے آئی اردو کو نکال باہر کیا مجال ہے کہ احتجاج کیا ہو مظفر نگر کے فساد نے گجرات کی یاد دلادی۔ اپنے ہی ملک میں پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے اور بستی چھوڑنے کی نئی تاریخ لکھی گئی۔ معصوم بچوں تک کو نہیں چھوڑا گیا ۔ کھیتوں میں بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری ہوئی۔ پھر بھی بعض معزز علمائے کرام نے آپ کا ہاتھ نہیں چھوڑا، ایسے وقت جب مسلمانوں کے خونچکاں سواد اعظم کا دل زخمی تھا، مظفر نگر میں انار کی تھی اور اقلیت کشی کی ہی داستان لکھی جارہی تھی انہوں نے آپ کی دل گیری کی، سماجوادی پارٹی کے اسٹیج پر دنیا کے سامنے آپ کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اتحاد یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا خطرہ مول لیا۔ آپ کہیں بھی ہوں ملاقاتوں کا سلسلہ ختم نہیں کیا، آپ کو اپنے پرگراموں میں بلا کر مظفر نگر کی غلطیوں کو بھلانے کی کوشش کی اب بھلے ہی آپ کے موقر وزیر اپنے احسانات یاد دلارہے ہوں لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ جب سب ساتھ چھوڑ رہے تھے بعض ملی رہنماؤں نے آپ کی بے پایاں محبت کو دل سے نہیں نکالا ۔ حضور والا کتنے احسانات کریں گے ، دل میں کتنے خنجر اتاریں گے، ابھی کتنی آہوتی لیں گے، ابھی کتنے اور نذرانے مظفر نگر کی شکل میں پیش کرتے ہوں گے۔روم جلانے کی تیاری ہے اور نیروبانسری بجا رہا ہے، کیا ابھی سوادگی نہیں ہوئی ،آزمائشوں کیلئے پل صراط اور پار کرنے ہوں گے ہم نے تو اپنا دل نکال کر دے دیا ہے اب رگوں میں اتنا خون کہاں بچا کہ کسی کو پلائیں ۔یہ رپورٹ نہیں خنجر ہے جس نے کلیجہ چیر کر رکھ دیا ہے اور ہزاروں سسکیاں پھر سنائی دینے لگیں جنہیں صبر کی دبیز قالین کے نیچے چھپا دیا تھا، اتنا بھدا مذاق مظفرنگر کے مظلومین سے کیسے کرسکتے ہیں اب تو وہ لوگ بھی چیخ پڑے جنہوں نے مظفر نگر فساد میں بھی آپ کا دامن نہیں چھوڑا ،ابھی عشق کے کتنے امتحان باقی ہیں حضور والا ہم نے آپ کے وزیر کے اس بیان پر یقین نہیں کیا تھا کہ آپ دھوتی کے نیچے خاکی نیکر پہنتے ہیں لیکن ہمیں تو ان لوگوں سے بھی سوال پوچھنا ہوگا جو آپ کے باڑے میں دھکیلتے رہے ۔ آپ نے خود کو بچالیا،اپنے ساتھیوں کو محفوظ کر لیا، فساد بھڑ کانے والوں کو کلین چٹ دے دی اب کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں جب وکیل ہی سامنے والی پارٹی سے مل جائیں۔ فکر مت کریے ہماری کھال بہت موٹی ہے۔آپ مارتے رہیں ذلیل کرتے رہیں ہمیں آپ سے کوئی گلہ کرنے کا حق ہی نہیں کیونکہ کچھ لوگ ان احسانات کی وصولی کرتے رہتے ہیں۔ بس اتنا بتادیں کہ کیا آپ اب بھی ہم سے ناراض ہیں ۔ خداکیلئے ناراض مت ہونا ہم سچائی کیلئے کس کے دروازے تک جائیں گے۔ کیا انصاف کیلئے 2017 کا انتظار کرنا ہوگا۔
اب بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفاد ار نہیں
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں
(مضمون نگار سینئر صحافی اور روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ہیں )

SHARE