فن تجوید کے مشہور استاذ قاری ابوالحسن اعظمی کی چار نئی تصانیف کا اجراء فن تجوید کے مشہور استاذ قاری ابوالحسن اعظمی کی چار نئی تصانیف کا اجراء 

25

دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)

دارالعلوم دیوبند کے سابق صدر القراءقاری ابوالحسن اعظمیٰ کی چار نئی کتابوں ”تلخیص النشر فی القراءات العشرللمحقق ابن الجزریؒ“، ”القرآن الکریم، شاطبیہ درّہ ،طیبہ کا حامل“ اورالشواذ والانفرادات فی وجوہ القراءات“ کا رسم اجراءگزشتہ شب عمل میں آیا۔اس موقع پردارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث و ممتاز قلمکار مولانا نسیم اخترشاہ قیصرنے کہاکہ قاری ابوالحسن اعظمی فن تجوید وقراءت میں ممتاز ومنفرد حیثیت رکھتے ہیں، برصغیر میںان جیسا صاحب ِ فن کوئی دوسرا نہیں۔ انھوں نے نہایت محنت، جاں فشانی، عرق ریزی اور دیدہ وری کے ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی جاری رکھا اور اس فن کو جِلا بخشنے کا نمایاں کارنامہ انجام دیا ، بلاشبہ ان کے کارناموں کی لمبی فہرست ہے اور آج اس فہرست میں تین نئی کتابوں کا اضافہ ہوا ہے، واضح رہے کہ قاری صاحب کی اس سے پہلے ایک سو سترہ (۷۱۱) کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، فن قراءت وتجوید میں موجودہ مطبوعہ کتب جن کا اجراءعمل میں آیا ان میں ”القرآن الکریم “ میں اس کا اہتمام کیاگیا ہے کہ نہ صرف سبعہ بلکہ قرا¿ت عشرہ متواترہ کے اصولی اور فروعی اختلافات کے ساتھ اس قرآن کریم کی طباعت کا اہتمام کیاگیا ہے، ان کی تینتیس (۳۳)سال کی محنت شاقہ کے بعد یہ قرآن کریم زیور طباعت سے آراستہ ہوا ہے۔ محقق ابن الجزری کی کتاب ”النشر فی القراءات العشر“ جو دوضخیم جلدوں پر مشتمل تھی اس کی تلخیص آسان اور سہل زبان میں تمام اصولی تقاضوں کے ساتھ کی گئی ہے۔ ”الشواذ والانفرادات فی وجوہ القراءات “ النشر لابن الجزری کی روشنی میں کی گئی ہے اوراس کی انفرادیت بھی مسلم ہے۔ اس موقع پر مولانا عبدالرشید بستوی نے کہا کہ عمر کی (۰۷) سے زائد بہاریں دیکھنے والے مولانا قاری ابوالحسن اعظمی قلمی توانائیاں مصروف ِ عمل ہیں، اوران کے کاموں سے کہیں ضعف وتھکن کا احساس نہیں ابھرتا، وہ مسلسل کام انجام دے رہے ہیں یہ ان پر اللہ کا بڑا انعام ہے ۔ اس دوران مفتی ارشد فاروقی، قاری راغب حسن ، سید وجاہت شاہ، عبداللہ راہی، رضوان سلمانی ،عارف عثمانی،حافظ عمر الٰہی، راﺅ قاری ساجد، ذکی انجم،عبدالرحمن سےف وغےرہ موجودرہے۔نوٹ: تصویر منسلک ہے۔