ملت ٹائمز کی دوسری سالگرہ!

محمد عرفان ندیم (پاکستان)
ولیم جولیس امریکی مفکر تھا ۔ وہ بیک وقت مفکر ، مصنف،فلسفی اور شاعر تھا ،اس نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ سیر و تفریح میں گزارا ۔ وہ افریقہ کے جنگلا ت میں بھی گیا اور اس نے عرب کے صحراؤں کی خاک بھی چھانی، وہ مشرق وسطٰی کے ریگزاروں میں بھی گیا اور اس نے وسطی ایشیائی ریاستوں کی خاک بھی چھانی، اس نے برف سے ڈھکی یورپ کی بلندو بالا عمارتیں بھی دیکھی اور اس نے افغانستان ، ایتھوپیا اور یو گنڈا جیسے شورش زدہ علاقوں میں بھی زندگی کے دن گزارے ۔ دنیا بھر کے سفر نے اس کو ایک چیز سکھائی تھی اور وہ تھی ” گہری آبزرویشن “، وہ ہر چیز کو بڑی توجہ سے دیکھتا اور بڑی گہرا ئی سے اس کا تجزیہ کر تا تھا، اگر کو ئی اس سے اس کے پچیس سالہ سفر کا حاصل پو چھتا تو وہ بڑے اطمینان سے کہتا ” میرا تجزیہ “ ۔ یہ حقیقت تھی کہ اس کا تجزیہ ہی اس کے پچیس سالہ سفر کا حاصل تھا اور اسی تجزیے کی بنیاد پر اس نے دنیا میں لازوال شہرت حاصل کی ۔ اس نے دنیا کو نئے نظریا ت سے متعارف کروایا، مثلا اس نے کہا انڈیا کی بیو ٹی انڈسٹری دنیا بھر میں مشہور ہے ، اس نے دنیا کو امریکہ کے ” نظریہ جنگ “ سے بھی روشناس کرایا ، اس کا کہنا تھا کہ دنیا میں جنگ جاری رکھنا امریکہ کی مجبوری ہے کیوں کہ امریکا کی ساری معیشت امریکا کی اسلحہ انڈسٹری پر منحصر ہے ، اگر دنیا میں امن ہو جائے تو امریکی اسلحہ کے خریدار ختم ہو جائیں گے اور یوں ساری امریکی معیشت تباہ ہو جائے گی ۔ اس نے صحافت کے میدان میں بھی نئی نئی تھیو ریز کو جنم دیا ، مثلاً اس کا کہنا تھا کہ کسی اخبار ، رسالے، میگزین یا ویب سائٹ کا اپنے آغاز سے انتہا تک دس سال کا سفر طے کر لینا اس کی کامیابی کی ضمانت ہے، اس کا کہنا تھا اگر کوئی اخبار ، رسالہ یا میگزین اپنی عمر کے دس سال پورے کر لے تو یہ اس کی کامیابی کی ضمانت ہے ، دس سال کے بعد وہ اخبار ، رسالہ ، میگزین یا ویب سائٹ شائع ہو یا نا ہو اسے کامیابی کا ایوارڈ مل جانا چاہیئے اور اسے کامیاب اخبار ، رسالوں ، میگزینز اور ویب سائٹس کی صف میں شامل کر لینا چاہیئے ۔
ملت ٹائم اس وقت میڈیا کے میدان میں کیا کردار ادا کر رہا ہے اس کے لیئے آپ کو بین الاقوامی میڈیا پر نظر دوڑانی ہوگی ، آپ دیکھ لیں اس وقت ساری دنیا کا میڈیا یہودیوں کے کنٹرول میں ہے ، دنیا کی بڑی نیوز ایجسنسیاں اور بڑی میڈیا فرمیں یہودیوں کے قبضے میں ہیں ، دنیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی ” رائٹر “ ہے ، دنیا کے تمام اخبارات اور ٹی وی اس کی خبر پر بھروسہ کرتے ہیں حتٰی کہ بی بی سی ، وائس آف امریکہ اور وائس آف جرمنی بھی نوے فیصد خبریں اسی نیوز ایجنسی سے حاصل کرتے ہیں ، اس نیوز ایجنسی کا بانی موس جولیس 1816میں یہودی خاندان میں پیدا ہوا، اس نیوز ایجنسی نے 1851میں لندن سے اپنے کام کا آغاز کیا اور اس وقت اس کے کارکنوں کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے جن میں سے ایک ہزار ایڈیٹر اور صحافی و نامہ نگار ہیں ، اس وقت 75 مراکز کے ذریعے 150ملکوں کے اخبارات و رسائل ، ریڈیو اور ٹی وی کمپنیوں کو پندرہ لاکھ الفاظ پر مشتمل خبریں اور مضامین بھیجے جاتے ہیں جو 48 زبانوں میں شائع ہو تے ہیں ۔ یونائیٹڈ پریس دنیا کی دوسری بڑی نیوز ایجنسی ہے 1907میں دو یہودی خاندانوں نے مل کر اس کمپنی کی بنیاد ڈالی اور اس وقت امریکہ کے 1150 اخبارات ، پبلشنگ ادارے اور 3199 ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن اس سے وابستہ ہیں ۔فرانسیسی نیوز ایجنسی دنیا کی تیسری بڑی نیوز ایجنسی ہے ، فرانس کے ایک یہودی خاندان نے اس نیوز ایجنسی کی بنیاد ڈالی جو بعد میں فرانسیسی نیوز ایجنسی کے نام سے مشہور ہوئی ، اگرچہ فرانس میں سات لاکھ یہودی ہیں لیکن فرانس سے شائع ہو نے والے پچاس فیصد اخبارات و رسائل پر یہودیوں کا قبضہ ہے ، اس نیوز ایجنسی کے تحت بارہ نیوز ایجنسیاں کام کر رہی ہیں اور یہ نیوز ایجنسی 150ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں کو خبریں مہیا کرتی ہے ۔ ایسوسی ایٹڈ پریس دنیا کی چوتھی بڑی نیوز ایجنسی ہے ، امریکہ کے پانچ بڑے روزناموں نے مل کر اس نیوز ایجنسی کی بنیاد رکھی جو بعد میں ایک عالمگیر کمپنی کی صورت میں تبدیل ہو گئی ۔ ان نیوز ایجنسیوں کے علاوہ دنیا میں پانچ بڑی میڈیا فرمز ہیں اور وہ بھی مکمل طور پر یہودیوں کے قبضے میں ہیں ، میڈیا فرمز میں پہلے نمبر پر والٹ ڈزنی آتی ہے اور اس کے تمام ملازمین یہودی ہیں ، دنیا میں سب سے ذیادہ دیکھا جانے والا کیبل نیٹ ورک اس فرم کے پاس ہے اور صرف امریکہ میں اس کیبل نیٹ ورک کے ایک کروڑ اسی لاکھ کنکشن ہو لڈرز ہیں ، دنیا کی دوسری بڑی میڈیا فرم ٹا ئم وارنر ہے اس کمپنی میں کام کرنے والے تمام عہدیدار یہودی ہیں ، وایا کام پیرا ماوئنٹ دنیاکی تیسری بڑی میڈیا فرم ہے ، یہ سر ریڈ اسٹون نامی یہودی کی ملکیت ہے اور اسی کمپنی نے دنیا کو تہذیبوں کے درمیان تصادم کی تھیوری دی ، یہ فرم ہر سال پندرہ ارب ڈالر کماتی ہے ۔ نیوز کارپوریشن دنیا کی چوتھی بڑی میڈیا فرم ہے اس کا مالک بھی ایک کٹر یہودی ہے اور یہ بھی بے شمار اخبارات اور رسائل کی مالک ہے ، پانچویں نمبر پر جاپان کی کمپنی سونی ہے اگرچہ اس وقت اس میں زیادہ تر عملہ جاپانیوں کا ہے لیکن یہودی لابی اسے خریدنے کے لیئے پورا زور لگا رہی ہے۔
اب ایسی صورتحال میں کہ جب دنیا بھر کا میڈیا یہودیوں کے کنٹرول میں ہے ، ہمارا قومی اور بین الاقوامی میڈیا یہودی نیوز ایجنسیوں کے رحم و کرم پر ہے اور ہم سچ جاننے کے باوجود سچ نہیں جان پاتے تو ایسی صورتحال میں ملت ٹائمز کا بڑی مستقل مزاجی سے اپنے مشن پر ڈٹے رہنا بڑے حوصلے کی بات ہے ، یہ حقیقت ہے کہ ملت ٹائمز نے ایک ایسے معاشرے میں جنم لیا تھا جہاں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھیچنا فیشن اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایک ” فن “ سمجھا جاتا ہے ، جہاں غیر تو غیر اپنوں کی طرف سے بھی قدغنیں لگائی جاتی ہیں ، ایسے گھٹن زدہ ماحول اور معاشرے میں ملت ٹائمز کا کامیابی سے اپنی اشاعت کے دو سال مکمل کرنا واقعی حیرت کی بات ہے اور میں اس کامیابی پر شمس تبریز قاسمی اور ملت ٹائمز کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ ملت ٹائمز کو شروع ہوئے بمشکل دو سال ہوئے ہیں اور میں ان دو سالوں میں ملت ٹائمز کا دل سے ” معتقد “ ہو چکا ہوں ۔ میں ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی کو دل سے مبارک باد پیش کر تا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ برادرانہ مشورہ بھی کہ اس پلیٹ فارم کو عالم اسلام کی ترقی اور ایک مشنری جذبے کے تحت استعمال کریں ، اس وقت پوری دنیا میں مسلمان پٹ رہے ہیں ، ہمارے حکمران بے حس ، ہمارے سیاست دان مفاد پرست اور ہمارا میڈیا یہودیوں کے رحم و کرم پر ہے اس لیئے اب آپ کو مشنری جذبے کے تحت چلنا ہو گا اور اپنے نیٹ ورک کو وسیع کرتے ہوئے اسے پوری دنیا میں پھیلانا ہو گا، میری دعا ہے اور خواہش بھی کہ ملت ٹائمز اپنا یہ نیٹ ورک مزید پھیلائے اور یہودی نیوز ایجنسیوں کے پھیلائے ہو ئے جال کا مقابلہ کرتے ہوئے عالم اسلام کو پھر پور کوریج دے اور عالم اسلام کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دے ۔
(صاحب مضمون پاکستان کے نوجوان اسکالر اور روزنامہ نئی دنیا کے مستقل کالم نگار ہیں)
irfannadeem313@yahoo.com

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں