جنگ دروازے تک پہنچ گئی ہے

قاسم سید

مصنوعی قوم پرستی ایسا جن ہے اگر بوتل سے باہر آجائےتو پھر وہ الہ دین کے قبضہ میں بھی نہیں آتا۔ خوف اور نفرت کی دیواروں پر اٹھائی گئی یہ عمارت انسانوں کے گاڑھے خون سے بنائی جاتی ہے اور یہ خون سماج کے کمزور‘ دبے کچلے طبقات اور اقلیتی اکائی کی رگوں سے کشید کیاجاتا ہے اس کا عملی نظارہ دیکھنے کے لئے گؤ رکشا پدماوت اور اب کاس گنج کا رخ کرنا ہوگا جہاں اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ تانڈو کررہی ہے۔ جھوٹ کو سچ ‘ پروپیگنڈہ کو حقیقت اور افواہ کو صداقت ماننے کے لئے مجبور کیاجاتا ہے۔ میڈیا جو اس ناانصافی کی تاریکی میں امید کی طاقتور علامت ہوتا ہے رقص وحشی کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہم اس وقت ہندوستانی تاریخ کے انتہائی نازک صبر آزما اور آزمائش و چیلنجوں سے بھرے دور سے گزر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سودا اعظم کو اس کی سنگینی اور مستقبل پر پڑنے والے اثرات کا احساس تک نہیں ہے۔ وہ عورت کے پیچھے نماز نہ ہونے کے دلائل کے انبار لگانے میں ذہنی توانائی جھونک رہا ہے یا پھر میری قمیص تیری قمیص سے زیادہ اجلی ہے کے فریب میں مبتلا ہے۔
فاشزم کو ناپنے اور سمجھنے کا طریقہ بہت آسان ہے ۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وہ حب الوطنی کو اندھی قوم پرستی کی شکل دینے کے لئے پرچموں‘نغموں‘ نعروں‘ روایتوں‘ بے نام تاریخ اور اکثریتی مذہبی رسوم رواج کا اندھا دھند استعمال کرتا ہے تاکہ عوام کو ایک ہی دھن پر سرملانے پر متوجہ رکھ کر ان کا لہو گرم رکھا جاسکے۔ نادیدہ خوف اور قومی سلامتی کو خطرہ بناکر نیشنل سیکورٹی ایکٹ جسے قوانین کے استعمال‘ قتل‘ قید اور اذیت رسانی کے تمام ذرائع کام میں لانے کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ دلت سینا کے صدر چندر شیکھر راون کو عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد این ایس اے میں گرفتاری یا کاس گنج کے ملزموں پر یکطرفہ کارروائی کرکے این ایس اے لگانے کا اعلان اس کا ثبوت ہے جبکہ گؤ رکشا کے بہانے بے گناہ افراد کا پیٹ پیٹ کر قتل راجپوتانہ شان و شوکت کی خاطر قومی املاک کو آگ کے حوالے کردینا‘ کسی کی گردن اور ناک کاٹنے پر کروڑوں انعام کا اعلان‘ قانون کو یرغمال بنانے کی ہر ناجائز حرکت اس دائرے میں نہیں آتی کسی نے لکھا ہے کہ ’’فسطائیت ایک مشترکہ دشمن یا قربانی کے کمزور بکرے پر فوکس کرتی ہے۔ تاکہ لوگ قومی دیوانگی سے سرشار ہوکر مسلسل کنفیوژ اور مشکوک رہیں یہ مشترکہ دشمن کوئی نسلی‘ علاقائی‘ مذہبی اقلیت‘ لبرل کمیونسٹ‘ متبادل سماجی یا مذہبی بیانیہ حزب اختلاف یا غیر ملکی سازشوں سمیت کوئی بھی اور کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ میڈیا کا براہ راست یا اپنے کاسہ لیسوں کے ذریعہ بالواسطہ کنٹرول فسطائیت کی بقا کے لئے لازمی ہے تاکہ متبادل بیانیہ لوگوں کے ذہنوں میں کوئی سوال نہ اٹھاسکے۔ کاروبارو اختیار میرٹ سے زیادہ وفاداری اور تعلق کے گرد گھومتا ہے۔ احتساب بدعنوانی کا نہیں مخالفت کا ہوتا ہے‘‘ جہاں بھی ایسی نشانیاں دیکھیں سمجھ لیں کہ فسطائیت کا راج ہے یا اس کی آمد کے لئے ریڈ کارپٹ بچھایاجارہا ہے۔ فسطائیت ہمیشہ اندھی قوم پرستی اور لامحدود حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر آتی ہے مثلاً فوج پر انگلی اٹھانا حب الوطنی کے خلاف ہے۔ وندے ماترم نہ کہنا حب الوطنی کو مشکوک کرنے والا رویہ ہے۔ پاکستان مردہ آباد کے نعرے میں ساتھ نہ دینا آپ کو راشٹر دروہی ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ ریاست کا شہری بنے رہنے کے لئے کچھ شرائط پیش کی جاتی ہیں اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پڑوسی ملک جانے کے لئے تیار رہئے۔
عوام کو متحد کرکے سیاسی جدوجہد کرنا جمہوری ریاست کا حصہ ہے لیکن اپنی بات منوانے اور کمزوری کو دبانے کے لئے عوام کو ہجوم بنانے اور ہجوم کو خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا راستہ اس منزل کی طرف جاتا ہے جہاں اکثریتی طبقہ جمہوریت کو غیر ضروری اور ناقابل قبول تصور کرنے لگتا ہے پھر اس کے لئے عدالت آئین ‘ قانون کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔ گؤ رکشکوں کے نام پر غنڈوں کے ہجوم کی تشکیل‘ نسلی تکبر کے نام پر تشدد‘ آگ زنی اور عدالتی فیصلہ کو چیلنج کرنے کی ذہنیت کی حوصلہ افزائی اور قومی پرچم کے نام پر بھگوا انتہا پسندی کو ذہنی غذائی امداد کی فراہمی گذشتہ چند برسوں کی اس اسکرپٹ کا تانا بانا ہے۔ اس کا سب سے خطرناک اور ہلاکت خیز پہلو جان بوجھ کر سازش رچ کر ایسے واقعات کے لئے ماحول بنانا منصوبہ بندی کے ساتھ ہر طرح کے میڈیا کا استعمال کرکے پورے ملک میں زہر پھیلاکر تشدد پر اکسانا اور پھر ان کی قانونی و سیاسی پشت پناہی کرنا چندن گپتا جیسے نوخیز نوجوانوں کو چارہ کےطور پر کام میں لانا۔ بے روزگاری اور اندھے مستقبل سے بدحواس نوجوانوں کی غیر تربیت یافتہ بٹالین ان گائیڈو میزائل اور خود کش بارود کی سرنگیں تیار کرلی ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں کوئی مقبول رہنما آمر بننے میں دیر نہیں کرتا اور مصنوعی حب الوطنی کے نشہ سے سرشار اس کے عقیدت مند کچھ بھی کر گزرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور کوئی اس عظیم شخصیت سے اتفاق نہ کرے تو وہ غدار سمجھا جانے لگتا ہے۔ 40 کی دہائی میں جرمنی اور اٹلی میں یہی ہوا تھا اور 60 کی دہائی میں چین نے یہ دنیا دیکھی تھی جب ماؤزے تنگ نے ریاست کی طاقت ریڈ گارڈز کے حوالہ کردی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ماؤزے تنگ کا اثر عوام پر اتنا زیادہ تھا کہ جب انہوں نے یہ کہا کہ چین کی فصل کو پرندوں نے برباد کردیا تو لوگوں نے لاکھوں پرندوں کو مار ڈلا تھا۔ کیاہم جنت نشاں ہندوستان میں ایسے ہی حالات کروٹیں لیتے دیکھ رہے ہیں۔ آزاد ہندوستان میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہزاروں سکھوں کا قتل چہیتی وزیراعظم کے قتل کا انتقام تھا یا سیاسی سازش یہ ابھی طے نہیں ہوسکا اسی طرح 1992میں بابری مسجد کا انہدام ہجوم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی سب سے بڑی مثال سمجھی جاتی ہے کیونکہ انتظامیہ ‘مقننہ‘ عدلیہ سب بے بسی سے انصاف کا خون ہوتے دیکھتے رہے جبکہ اسٹیٹ نے خاموش حوصلہ افزائی کی۔ میرٹھ‘ ممبئی‘ گجرات اور مظفر نگر کے فسادات بپھرے ہجوم کو اکساکر سرکاری سرپرستی میں اقلیتی اکائی کے قتل عام کی ایسی ہی شہادتیں ہیں 1984 میں سکھوں کے خلاف کچھ دنوں کے لئے سب کچھ کرنے کی چھوٹ تاکہ سر اٹھانے والوں کو سبق سکھایا جاسکے۔ اب اس لڑائی میں دلتوں کے ساتھ اوبی سی کے بعض طبقات کو بھی جھونک دیا گیا ہے ۔ ذات پات کی بنیاد پر شناختی بحران کی تلاش میں زندگی کو ویران کیا جارہا ہے۔ آنے والے دنوں میں سماج کے اندر ہجوم کا عمل دخل اور بڑھ جائے گا۔ یہ صرف 2019 کا ٹریلر نہیں‘ یہ صرف بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی پالیسی ہی نہیں بلکہ نظریاتی انقلاب کو زمین پر اتارنے کے لئے غیر منظم فوج کو ہوم ورک دیا گیا ہے اس کا ایندھن بلاشبہ اقلتیں‘ دلت اور سماج کے دیگر کمزور طبقات ہیں۔ آئین اور منوسمرتی کے درمیان فیصلہ کن معرکہ شروع ہوچکا ہے۔ جو ہوشیاری‘ تحمل ‘ صبر و ضبط اور دانشمندی سے اپنے پتے کھیلے گا وہ شطرنج کی بساط پر خود کو باقی رکھ سکے گا۔ آئین اور جمہوری نظام کو چیلنج کرنے کے ساتھ بابائے قوم پر بھپتیاں کسنے‘ گوڈسے کا گن گان کرنے‘ آئین بدلنے کا عزم کا اظہار و غیرہ صرف اشتعال انگیز بیانات نہیں سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مسلم قیادت یقینا چوکنا ہوگی۔ اس کی خاموشی بتارہی ہے کہ وہ الجھن میں ہے اور سردست کوئی لائحہ عمل اس کے سامنے نہیں ہے اللہ خیر کا راستہ نکالے گا کم از کم ہم اصل منشا‘ ہدف اور مقصد کو سمجھیں۔ یہ نفسا نفسی کا دور ہے سب کو اپنی فکر ہے حالانکہ موجودہ اتھل پتھل کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ مسلکوں اور گروہوں میں منقسم ملت بیضا یقینا نوشتۂ دیوار پڑھ رہی ہوگی ۔۔

qasimsyed2008@gmail.com

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں