اوکھلا میں شہزاد علی نامی نوجوان کے ساتھ مارپیٹ ،حالت نازک ،دو دن گذرجانے کے باوجود ملزمین کی گرفتاری نہیں ہوسکی

10

نئی دہلی ،14مارچ (ملت ٹائمز، اشعر ساجد )
دہلی کے اوکھلا علاقے میں تخریب پسند عناصر کی تخریب انگیز سرگرمیاں زوروں پر ہیںاور ان کی الٹی سیدھی اور غیر اخلاقی حرکتوں کا سامنا علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کو کرنا پڑ رہاہے ۔ ایسا ہی ایک معاملہ گزشتہ دنوں اوکھلا کے ابوالفضل انکلیوکے این بلاک علاقے میں دیکھنے کو ملا ، جب گاڑی پارک کرنے کے معاملے کو لیکر چند غنڈوں نے شہزاد نامی نوجوان کی زبردست طریقے سے پٹائی کر دی ۔زخمی شہزاد علی کا اوکھلا واقع الشفااسپتال میں علاج چل رہاہے ۔اس معاملے میں شہزاد علی کی جانب سے پولس میں رپورٹ درج کرائی گئی ہے ،لیکن ابھی تک پولس کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے ۔جبکہ واقعہ کو ہوئے دودن گذر چکے ہیں۔اس معاملے میںدرج ایف آئی آر کے مطابق مرزا جنید ، عادل بیگ و تیسرے پر مارپیٹ کا الزام ہے جبکہ ان کے بھائی محبوب پر پولس میں شکایت کی تو دیکھ لینے کی دھمکی دینے کا الزام ہے ۔شہزاد علی کے ساتھ مارپیٹ کے واقعہ کے بعدسے اب یہ سوال اٹھنے لگا ہیکہ کیا اوکھلا میں عام شہریوں کی زندگی خطرناک غنڈوں کے خوف کے سایے میں بسر ہونگی

۔بتا دیں کہ اس سے قبل بھی اوکھلا میں جرم کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں ۔ اس معاملے میںعلاقے کی معزز شخصیات کا کہناہیکہ اوکھلا کے لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہیکہ اوکھلا ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور اس وجہ سے متعصب افسران اور حکومت پہلے سے ہی اس علاقے پر اپنی گہری نظر رکھ رہی ہے اگر اس طرح کی وارداتیں ہوتی رہیں تو نہ صرف اوکھلا بلکہ پوری مسلم قوم بدنام ہوگی ۔شہزاد علی نے ملزمین کے خلاف جامعہ نگر تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی ہے اور ابھی تک کسی بھی ملزمین کی گرفتاری نہ ہونے کی وجہ سے مایوس اورخائف ہیں ۔اس معاملے میں جب جامعہ نگر تھانہ ایس آئی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بات نہیں ہوسکی ۔ ویسے انہوں نے ملزمین کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ،لیکن یہ گرفتاری کب ہوگی یہ ایک بڑا سوال ہے ۔اوکھلا کی موجودہ حالت پر قوم کی فکرکرنے والے قوم پرست افراد نے یہاں پر مقیم مسلمانوں بالخصوص مسلم نوجوانوںسے امن و امان کے ساتھ رہنے کی اپیل کی ہے ۔لوگوں کا کہنا ہیکہ علاقے میں جرم کی وارداتیں ہونے سے نہ صرف اوکھلا کے مسلما ن بلکہ پوری مسلم قوم بدنام ہوگی ۔ اس لئے ہم لوگ مل کر اور پیار و محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو کر زندگی بسر کریں۔

SHARE