وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب

پس آئینہ:شمس تبریز قاسمی
وزیر اعظم نریندر مودی 24 ماہ میں 35ملکوں کا سفر کرچکے ہیں ،ان میں چار ممالک وہ ہیں جہاں اب تک دو مرتبہ سفر ہوچکاہے جبکہ ایک ملک میں تین مرتبہ وہ جاچکے ہیں ،اتنے قلیل عرصے میں اتنے ملکوں کا سفر کرنے والے یہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں ،گذشتہ ہفتہ وہ تین ملکوں کے دورہ سے واپس لوٹے ہیں جن میں قابل ذکر سعودی عرب ہے۔
ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات برسوں پرانے ہیں ،تاریخ کے اوراق میں ثقافتی ،تجارتی اور سماجی تعلقات کا وسیع باب ہے ، طلوع اسلام سے کئی سو سال قبل سے ہندوستان اور عرب کے درمیان تجارتی روابط تھے ،عرب تاجرسندھ آیا کرتے تھے، بعثت نبوی کے بعد بھی یہ سلسلہ بر قراررہاہے اور تجارت کے ساتھ تبلیغ اسلام کیلئے بھی اہل عرب نے ہندوستان کا سفر کیا ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں صحابہ کرام کا پہلا قافلہ ہندوستان میں وارد ہوا ،مورخین کے مطابق سترہ صحابہ کرام نے اپنی تشریف آوری کا شرف بخشا،خلافت بنوامیہ کے زمانے میں ایک عرصہ تک ہندوستان عربوں کے ماتحت رہ چکاہے۔
باضابطہ طور پر ہندوستان ۔سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام 1948 میں عمل میں آیاہے اور1956 میں یہ پایہ تکمل کو پہونچاہے ، 1954 میں مملکت سعودیہ کے فرماں روا شاہ عبد العزیز کے شہزاد ے شاہ فیصل نے ہندوستان کا دورہ کیا ،ملک کے وزیر اعظم پنڈٹ جواہر لال نہرو سمیت مختلف لیڈران کے ساتھ ان کی بات چیت ہوئی ، اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو اعلی سطحی بنانے پر خاص توجہ دی گئی ،کچھ ہی دنوں بعد سعودی فرماں روا سعود بن عبد العزیز نے ہندوستا ن کا سترہ رزہ دورہ کیا ،26 نومبر 1995 سے 12 دسمبر 1995 تک وہ ہندوستان میں قیام پذیر رہے،اس طویل سفر کے دوران انہوں نے دہلی ،ممبئی ،میسور ،حیدر آباد علی گڑھ سمیت ملک کے مختلف شہروں کا معائنہ کیا ،اسی سفر میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی ،ثقافتی ،اقتصادی امور میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے اور معاونت کیلئے معاہدہ نامہ پر اتفاق ہوا ۔ایک سال بعد 1956 میں ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈٹ جواہر لال نہرو نے سعودی عرب کا دورہ کیا،جہاں ان کا پرزور استقبال کیا گیا اور جدہ کے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں ایک مجمع عام سے خطاب کرنے کا موقع دے کرنمایاں اعزاز سے نوازا گیا ۔ پنڈٹ جواہر لال نہرو کے اس دورہ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم بنادیا اور ثقافتی ،اقتصادی ،سیاسی اور ملازمت کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات پر اتفاق رائے قائم کیا گیا ۔
2006 میں ہند۔سعوی تعلقات کو ایک نئی رفتار ملی جب شاہ عبد اللہ نے ایک وفد کے ساتھ صدر جمہوریہ کے موقع پر بطور مہمان خصوصی ہندوستان کا دورہ کیا ،اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پروٹوکول کو توڑتے ہوئے ایئر پورٹ پر جاکر سعودی فرماں روا کا استقبال کیا۔ 2010 میں منموہن سنگھ نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا ،ان دوروں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو سست رفتاری آگئی تھی وہ ختم ہوئی ،کئی نئے معاہدوں پر دستخط ہوا ،سیکوریٹی کے حوالے سے سعودی عرب نے ہندوستان کا بہت زیادہ تعاون کیا ،ابوجندال اور فصیح محمود سمیت کئی لوگوں کو ہندوستان کے مطالبہ پر انہیں سپر دکردیا ،یہ الگ بات ہے کہ فصیح محمود کو ایک سازش کے تحت ہندوستان بلاکر جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا گیا ہے اور اب تک یہ معمہ حل نہیں ہوسکاہے ۔
گذشتہ 2/3 اپریل کو وزیر اعظم نریند مودی سعودی عرب کے دو روزہ دورہ پر تھے ،حسب روایت اس مرتبہ بھی سعودی حکومت نے ہندوستانی وزیر اعظم کا پر جوش استقبال کیا، ان کے خیر مقدم میں کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں بر تی گئی،ہر طرح کا سرکاری اعزاز دیا گیا، شاہ سلمان نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں سعودی عرب کے اعلی ترین شہری اعزاز شاہ عبد العزیز ایوارڈ سے بھی نوازا،،اس دوران دونوں سربراہان کے درمیان بات چیت کا اختتام 5معاہدوں پر دستخط کے ساتھ ہوا۔ یہ معاہدے دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی اور منی لانڈرنگ سے متعلق انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے، لیبر اور نجی سیکٹر میں دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری سے متعلق ہیں ۔ دوسری طرف نریندر مودی نے شاہ سلمان بن عبد العزیز کو عرب مسلمانوں کے ہاتھوں ہندوستان میں تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد کا حقیقی ماڈل پیش کیا جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔
اس پس منظر میں یہ واقعہ یہاں بیان کرنا مناسب ہوگا کہ آج سے تیرہ سوسال قبال سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے مالک بن دینار نے کیرالہ میں ایک مسجد بنائی تھی ،تاریخ میں یہ واقعہ بھی مذکور ہے کہ اس وقت ریاست کیرالہ کے بادشاہ چیرامان پیرومال کی بعض عرب تاجروں سے ملاقات ہوئی جن کے ایمانی کردار سے وہ بہت متاثر ہوئے ، اور مدینہ پہونچ کر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔العربیہ میں شائع ایک رپوٹ کے مطابق’’سوشل اسٹرکچر اینڈ چینج‘‘ نامی کتاب میں یہ مذکور ہے کہ چیرامان پیرومال نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام تبدیل کرکے تاج الدین رکھ لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ چیرامان ہندوستان واپسی کے سفر کے دوران راستے میں فوت ہوگیا تھا۔ اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے مالک بن دینار رحمت اللہ علیہ جو تابعی ہیں، انہوں نے یہ مسجد تعمیر کی۔
وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کے تعلق سے یہ بات سب سے زیادہ موضوع بحث ہے کہ خادم الحرمین الشرفین نے نریند رمودی کو کن او صاف و کمالات اور زریں خدمات کی بناپر اعلی ترین ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے؟ ،یہ بات ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان کے وزیر اعظم کو سعودی عرب نے اعلی ترین ایوارڈ سے نوازا ہے، یہ اعزاز اور اکرام صرف مودی کا نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کا ہے لیکن دوسری طرف ہمارے رہنما کا ایک ماضی بھی ہے جس کی بناپر دنیا کے اکثر ملکوں میں وہ ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں،وزیر اعظم بننے سے قبل کئی ملکوں کے دورہ پر پابندی عائد تھی ، وزیر اعظم بننے کے بعد کئی ممالک میں میڈیا نے ان سے ان کے ماضی کا حساب مانگ لیا اور گجرات فسادات کا تذکر ہ چھیڑ دیا ،برطانیہ دورہ کے دوران ایک صحافی نے یہاں تک کہ دیا کہ آپ اس لائق نہیں ہیں کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میںآپ کو زیر اعظم جیسا منصب دیا جائے ، ایسے میں عالم اسلام کے مرکز اور خادم الحرفین الشرفین کی جانب سے اس طرح کا ایواڈ دیا جانا مسلمانوں کے درمیان بے چینی کا سبب بن گیا ہے اور شاہ سلمان کے اس اقدام سے انہیں قلبی طور پر تکلیف پہونچی ہے۔
بہت ممکن ہے کہ سعودی عرب نے یہ سب کسی خاص مقصد کے پیش نظر کیا ہو کیوں کہ سعودی عرب اس وقت خارجی سطح پر سخت مشکلات سے دوچارہے ،وہ خطے میں اپنی برتری ثابت کرنے کیلئے کئی ملکوں کی واضح حمایت کا محتاج ہے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان سعودی عرب کی توقعات پر کہاں تک کھڑا اترتاہے ،اور کس کا ساتھ دیتاہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب منصوبہ بند ہو کیوں کہ وزیر اعظم نریند ر مودی کی شبیہ دنیابھر مسلم مخالف کے طور پر ہے ،ایسے میں یہ ڈیل کرائی گئی ہو کہ سعودی عرب میں ہمیں کسی خاص اعزاز سے نوازا جائے تاکہ دنیابھر میں یہ پیغام جائے کہ عالم اسلام کے سربراہ ، سعودی فرماروا مودی کی شخصیت اور خدمات سے بے پناہ متاثر ہیں ،وہ انہیں ہندوستان کے ایک عظیم وزیر اعظم کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جنہوں نے یہاں کے 25 کڑور مسلمانوں کی ترقی ،خوشحالی اور ان کی معاونت میں تاریخ ساز کارنامہ انجا م دیا ہے !۔وزیر اعظم کی جانب سے مسجد کا ماڈل پیش کیا جانا اس شک کو مزید تقویت بھی پہونچاتاہے اور ایسا لگتاہے یہ سب تیاری بہت پہلے سے چل رہی تھی ۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کی زبان میں اس صورت حال کی منظر کشی کچھ یوں کی جاسکتی ہے
مثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئے
بت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے
شوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئے
بے عمل تھے ہی جواں ،دین سے بدظن بھی ہوئے

(ملت ٹائمز)
stqasmi@gmail.com

( مضمون نگار ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہیں )