کون جیتے گا ترک صدارتی انتخابات ؟

26

 ڈاکٹر فرقان حمید۔ انقرہ 

24جون 2018ء کو ترکی میں صدارتی   اور قومی اسمبلی کے انتخابات بیک وقت ہو رہے ہیں ۔ یہ انتخابات ترکی کی تاریخ میں نئے دور  کے آغاز کی بھی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ان انتخابات کے بعد ترکی میں مکمل طور پر صدارتی نظام پر عمل درآمد شروع  ہو جائے گا ۔ صدارتی انتخابات میں “ری پبلیکن پیپلز پارٹی “کے “محرم اِنجے” ، “گڈ پارٹی” کی چئیرپرسن ” میرال آقشینر”  ، “جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی” کے چئیرمین “رجب طیب ایردوان “، “پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی ” کے زیر حراست چئیرمین “صلاح الدین  دیمیر تاش” ، “سعادت پارٹی” کے چئیرمین “تے میَل قارا مولا اولو” اور ” وطن پارٹی” کے چئیرمین “دعو پریِنچیک” حصہ لے رہے ہیں۔  صدارتی انتخابات میں ” اتحادِ جمہور” اور ” اتحادِ ملت” کے نام سے دو بڑے اتحاد ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔ اتحادِ جمہور میں برسر اقتدار اتحاد یعنی  ” جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی” (آق پارٹی )اور نیشلسٹ موومنٹ پارٹی” شامل ہیں اور صدر ایردوان اس اتحاد کےواحد صدارتی امیدوار ہیں جبکہ اس اتحاد کے مردِ مقابل  “اتحادِ ملت” میں شامل ری پبلیکن پیپلز پارٹی، گڈ پارٹی، سعادت پارٹی نےاپنا الگ الگ اور اسی اتحاد میں شامل ڈیمو کریٹ پارٹی نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ہےتاہم  اتحادِ ملت” میں “محرم اِنجے ” ہی صدر ایردوان کا مقابلہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انتخابی مہم کے آغاز کے موقع پر گڈ پارٹی کی چئیرپرسن میرال آق شینر کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی تھی  لیکن ری پبلیکن پیپلز پارٹی نے اچھا کارڈ کھیلتے ہوئے پارٹی چئیرمین ” کمال کلیچدار اولو ” کی بجائے پارٹی میں ہر دلعزیز رکن پارلیمنٹ ” محرم اِنجے” کو صدارتی امیدوار کھڑاکردیا جس نے میرال آق شینر کو اپنے پیچھے چھوڑتے ہوئے بڑی تیزی سے  اپنی مقبولیت کا گراف بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ روزنامہ جنگ کے گزشتہ چند ایک کالموں میں ” ترکی کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار” اور ” ترکی کی سیاست میں نیا چہرہ” کے زیر عنوان اپنے کالموں ان دونوں صدارتی امیدواروں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرچکا ہوں جبکہ صدر ایردوان  کے بارے میں اپنے کئی ایک کالموں میں بڑی تفصیل سے پہلے ہی بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ ان دونوں اتحاد سے باہر آزادانہ طور پر ” خدا پار پارٹی ” اور ” پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی” بھی حصہ لے رہی ہیں جبکہ ” پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی” کے شریک چئیرمین “صلاح الدین دیمر تاش”جیل سے صدارتی امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں ۔ ان دونوں جماعتوں کو آئین کی رو سے عائد دس فیصد شرحِ حدThrashold کو عبور کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جیتی ہوئی نشستیں بھی ان کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور علاقے میں دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کو جو کہ دس فیصد کی قانونی شرحِ حد کو عبور کرچکی ہوگی کو مل جائیں گی یعنی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جیتی ہوئی نشستیں آق پارٹی کی جھولی میں آن گریں گی۔  گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے آق پارٹی کو بڑے پیمانے پر اورخاص طور پر جنوب مشرقی اناطولیہ میں نشستوں کو جیتنے سے روکنے کے لیے اپنے ووٹروں کو پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی جس کے دس فیصد کی شرحِ حد عبور نہ کرنے سے متعلق سروئیز پیش کیے جا رہے تھے کو پارلیمنٹ تک رسائی دلوانے کے لیےاس جماعت کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی  اور یوں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس بار بھی ان تمام جماعتوں نےاپنے اپنے ووٹروں سے جنوب مشرقی اناطولیہ میں پیپلز ڈیمو کریٹک ہی کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تاکہ اس بار بھی آق پارٹی پارلیمنٹ میں بہت زیادہ نشست نشستیں حاصل کرنے سے روکا جاسکے تاکہ ایردوان کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی کی ذریعے چیک اینڈ بیلنس قایم  رکھا جاسکے ۔
قومی اسمبلی کی چھ سو نشستوں پر ہونے والے انتخابات   میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے علاوہ آزاد امیدوار بھی حصہ لے سکیں گے۔ سیاسی جماعتیں جو اتحاد بنا چکی ہیں ان میں شامل کسی بھی جماعت کو دس فیصد کی قانونی حد عبور کرنے  کی راہ میں کسی قسم کو کوئی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ دونوں اتحاد با آسانی یہ شرحِ حد عبور کرلیں گے۔ در اصل قومی اسمبلی کے انتخابات میں چھوٹی جماعتوں نے اپنی  عافیت کسی اتحاد میں شامل ہونے ہی میں سمجھی ہے۔ مثال کے طور پر “سعادت پارٹی” جو صرف ایک یا دو فیصد ہی کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرنے کی سکت رکھتی ہے اور دس فیصد کی حد عبور کرنا  اس کے لیے ناممکن ہے، اس طریقے سے قومی اسمبلی کی چند ایک نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ بیلٹ پیپر پر اتحاد کے دو گروپ ” اتحادِ جمہور” اور “اتحادِ ملت” بنائے گئے ہیں میں شامل جماعتوں کو نام اور  نشان کے ساتھ جگہ دیتے ہوئے ان تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار کر دیے گئے ہیں تاہم اتحاد سے باہر جماعتوں کو دس فیصد کی قانونی شر حِ حد کو لازمی طور پر عبور کرنا ہوگا۔
اب آتے ہیں  صدارتی انتخابات کے نتائج کی جانب ۔ گزشتہ سولہ سالوں سے ترکی کے انتخابات کی کوریج کرتا چلا آرہا ہوں اور پاکستان میں سب سے پہلے جیو  ٹی وی اور روزنامہ جنگ کے توسط سے ان نتائج کو پاکستانی قارئین اور ناظرین تک پہنچائے ہیں۔ راقم دو بار ان نتائج کو سو فیصد تک درست  پیش کرنے کی بنا پر ترک حکام سے ایوارڈ بھی حاصل کرچکا ہے۔ اس بار صدر ایردوان کو اپنے حریفوں سے پہلے سے بھی زیادہ سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑرہا  ہے خاص طور پر ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ملک کی اقتصادی صورتِ حال کی بدولت دوسرے راؤنڈ میں صدر ایردوان کے لیے مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ محرم اِنجے نے اس بار مذہبی حلقوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے  ری پبلیکن پیپلز پارٹی کی پالیسی سے ہٹ کر بالکل مختلف پالیسی اپنا کر اور مذہبی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے ، تمام فرقوں کے درمیان کسی قسم کو تفرق نہ کرنے، سب کو گلے لگانے، ہیڈ اسکارف کے معاملے کو پھر سے نہ اٹھانے بلکہ اس پر جوں کا توں عمل درآمد کرنے ،اما م خطیب اسکول بند نہ کرنےکا وعدہ کرتے ہوئے مذہبی حلقوں کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ محرم اِنجے کے پوسٹرز ، بینرز اخبارات اور ٹی وی چینلز پر نماز پڑھتے ہوئے پیش کی جانے والی تصاویر سے متعلق صدر ایردوان نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ” آج تک مسجد کا رخ اختیار نہ کرنے والے محرم اِنجے کو انتخابات کے وقت مسجد کیسے یاد آگئی ہے؟ ” محرم اِنجے نے انتخابی مہم کے دوران  اپنے آپ کو صرف مسجد تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ ہمیشہ سے ہیڈ اسکارف کی مخالفت کرنے والی ری پبلیکن پیپلز پارٹی سے 180 درجے مختلف راہ اختیار کرتے ہوئے اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو ہیڈ اسکارف پہنے ہوئےجلسوں اور ریلیوں میں اسٹیج پر لا کر مذہبی حلقوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہےلیکن صدرایردوان نے محرم اِنجے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے  کہا ہے کہ ” آپ مذہبی لبادہ اوڑھ کر ووٹروں کو الو نہیں بناسکتے کیونکہ عوام ری پبلیکن پیپلز کے برسر اقتدار دور میں مذہبی حلقوں پر کیے جانے والے ظلم و ستم کو بھلا کیسے بھول سکتے ہیں؟ اگرچہ اس وقت تک کے تمام سروئیز میں صد ر ایردوان کو پہلے اور محرم اِنجے کو دوسرے نمبر پر جگہ دی گئی ہے لیکن ان دونوں کے درمیان ابھی بھی بیس فیصد کے لگ بھگ  گیپ موجود ہے اوراگر پہلے راؤنڈ میں صدر ایردوان پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرسکے تو پھر آٹھ جولائی 2018ء کو پہلی دو پوزیشنز حاصل کرنے والے دو امیدواروں کو درمیان مقابلہ ہوگا اور اگلے راؤنڈ میں “پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی” کے ووٹرز صدارتی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں بڑا اہم کردار ادا کریں گے۔ اس وقت تک تمام ہی سروئیز صدر ایردوان کے 45 سے 48 فیصد تک ووٹ حاصل  کرنے کا ذکر کر رہے ہیں لیکن وہ یہاں پر غیر ممالک اور خاص طور پر یور پ میں آباد ترک ووٹروں کو نظر انداز کررہے ہیں حالانکہ غیر ممالک سے صدر ایردوان کو ملنے والے دو سے تین فیصد ووٹ اور صدارتی انتخابات میں سعادت پارٹی ( بے شک وہ ایردوان کے مخالف اتحاد میں شامل ہے کے ووٹر اپنے صدارتی امیدوار “تے میَل قارا مولا اولو ” کی جگہ ) سے ملنے والے ایک فیصد ووٹ صدر ایردوان  کو پہلے ہی راؤنڈ میں 53 فیصد کے لگ بھگ ووٹ دلوا کر کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں ۔تمام سروئیز کا جائزہ لینے اور ایردوان کےاستنبول میں ڈیڑھ ملین افراد سے خطاب کو دیکھتے ہوئےکہا جاسکتا ہے کہ ایردوان پہلے ہی راؤنڈ میں با آسانی اکیاون سے باون فیصد تک ووٹ حاصل کرتے ہوئےکامیاب ہو جائیں گے۔ انشاللہ ترکی کے صدارتی اور قومی اسمبلی کے انتخابات سے ایک روز قبل جیو ٹی وی اورروزنامہ  جنگ کے توسط سے تازہ ترین صورتِ حال سے آگا کرنے کی کوشش کروں گا۔
furqan61hameed@hotmail.com

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں