برخاست آئی پی ایس آفیسر سنجیو بھٹ ایک پرانے معاملے میں آج گرفتار

احمد آباد: گجرات میں پولس کی کرائم ریسرچ برانچ (سی آئی ڈی-کرائم) نے برخاست آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو تقریباً دو دہائی پرانے ایک معاملہ میں آج گرفتار کر لیا۔
سی آئی ڈی-کرائم پولس ڈائرکٹر جنرل آشیش بھاٹیہ نے ’یو این آئی‘ کو بتایا کہ بھٹ کو ایک اور پولس اہلکار کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پانچ دیگر سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انہیں راجستھان کے ایک وکیل کے اغوا کے معاملہ میں گرفتار کیا گیا ۔
راجستھان کے پالی کے وکیل شمشیر سنگھ راج پروہت کو مئی 1996 میں گجرات کے بناس كانٹھا کی پولس نے پالن پور کے ایک ہوٹل سے ایک کلو افیون کی برآمدگی کے معاملہ میں پکڑا تھا۔لیکن ہوٹل کے منیجر نے انہیں پہچانے سے انکار کر دیا جس کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ راج پروہت نے بعد میں راجستھان میں معاملہ دائرکرکے الزام لگایا کہ گجرات ہائی کورٹ کے اس وقت کے جج آر آر جین کے اشارے پر پولس نے انہیں اغوا کیا تھا ، تاکہ جج کی بہن کی دکان کو خالی کرایا جا سکے جسے ان کے ایک رشتہ دار نے لے رکھا تھا۔ راجستھان کی عدالت نے اس معاملہ میں گجرات پولس کی کارروائی کو غلط بتایا تھا۔
بعد میں رٹائر ہونے والے جج جین نے 1998 میں گجرات ہائی کورٹ میں ایک کیس دائر کرکے پورے معاملہ کی تفتیش کرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے راجستھان کی عدالت اور پولس پر وہاں کے اس وقت کے وزیر اعلی اور ایڈووکیٹ کونسل کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام لگایا تھا۔
گجرات ہائی کورٹ کے جج آر بی پارڈيوالا نےگذشتہ جون میں اس معاملہ کی تیزی سے جانچ کرنے کا حکم سی آئی ڈی کرائم کو دیئے تھے، واضح رہے کہ اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی پر گجرات فسادات میں پولس کو فسادیوں کے تئیں نرم رویہ اپنانے کے حکم دینے کے الزام لگانے والے سنجیو بھٹ کو پولس نے آج ہی حراست میں لیا ہے۔ گزشتہ ماہ ان کے یہاں واقع رہائش کے غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ حصے کو عدالت کے حکم پر گرایا گیا تھا۔