ْکرکرے کا قتل آر ایس ایس اور آئی بی کی ملی بھگت کا نتیجہ: ایس آئی او کے پروگرام میں سابق چیف جسٹس کا اظہار خیال

حیدر آباد: ( سیف الرحمن /ملت ٹائمز ) ایس.آئی.او تلنگانہ کے ذریعہ حیدرآباد میں منعقد یک روزہ ریاستی کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے حصہ لیا تو وہیں مختلف دانشوروں نے انسانیت کو درپیش مسائل اور اس کے حل پر اپنی بات رکھی
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے الائنس فار جسٹس اینڈ پیس کے قومی سکریٹری اور ممبئی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس بی.جے کولسے پاٹل نے کہاکہ ہمیں ہیمنت کرکرے کو نہی بھولنا چاہئے جنہوں نے گاندھی جی کے قتل سے متعلق بڑی شازش کا پردہ اٹھایا اور قتل کردیئے گئے انکا قتل قصاب یا کسی اور نے نہی کیا بلکہ سنگھ اور آئی.بی کی ملی بھگت سے انکا قتل ہوا اسی طرح بہت سے بے قصور لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں ان بہت سے مظلوموں کے خون سے انکے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ نجیب ہو روہت ویمولا ہو یا کسی اور کی کہانی ان تمام کہانیوں کا اسکرپٹ اس ملک کے ڈیڑھ فیصد لوگ ہی لکھتے ہیں مجھے بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن ہم موت سے ڈرنے والے نہیں ہے واضح ہوکہ کولسے پاٹل صاحب ہمیشہ فسطائیت کے خلاف بیداری کا کام کرتے رہتے ہیں لیکن یہ 05 نومبر 2017 سے خاص طور پر فسطائیت کے نشانے پر ہیں پر جب انہوں نے مرکزی راجدھانی میں پاپولر فرنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آر.ایس.ایس چیف کے آئی.ایس.آئی سے پیسے لینے کا دعویٰ کرتے ہوئی اپنے دعوے پر سی.بی.آئی جانچ بٹھانے کا چیلنج کردیا تھا
جے. این.یو اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد نے کہاکہ موجودہ حکومت حکومت میں آنے سے پہلے بولی کی انڈیا از فرسٹ لیکن بعد میں ثابت ہواکہ انکے لئے انڈیا فرسٹ نہی امبانی.اڈانی فرسٹ ہے اڈانی کے دھن میں 125 فیصد کا اور امبانی کے دھن میں 100 فیصد کا اضافہ ہوگیا بھاجپا کے فنڈ میں بے تحاشا اضافہ ہوا دوسری طرف کالادھن واپسی کے نام پر نوٹ بندی ہوا لیکن آر.بی.آئی کے مطابق 99 فیصد پیسے واپس آگئے اور کالادھن نہی آیا انہیں باتوں کو چھپانے کیلئے ہندو,مسلم کو آپس میں بانٹا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ یہ لوگ راشٹرواد کا نعرہ لگاتے ہیں درحقیقت اس کے پیچھے انکا اپنا منصوبہ چھپا ہوا ہے
ایس. آئی. او تلنگانہ کے ریاستی صدر لئیق احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے اپنی مہم کے ذریعہ سلگتے ہوئے مسائل کو اجاگر کیا اور نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان مسائل سے پاک معاشرہ کی تعبیر بھی پیش کرنے کی کوشش کی انہوں نے کہاکہ اس امت کا زوال صرف اس کا زوال نہی بلکہ پوری انسانیت کا زوال ہے اس کیلئے سب سے پہلے ہمیں اپنے کردار کو بہترین معیار پر لانا چاہئے اس کے بعد سماج کی تشکیل نو کیلئے کوشش کرنی چاہئے
ان کے علاوہ نجیب کی ماں فاطمہ نفیس.روہت ویمولا کی ماں رادھیکا ویمولا,مجلس مشاورت کے قومی صدر مجتبٰی فاروق,جماعت اسلامی کے قومی نائب امیر سعادت الللہ حسینی و دیگر دانشوروں نے ہزاروں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے سامنے اپنے خیالات پیش کئے