جائز مطالبات کو لیکر احتجاج کرنے والے کسانوں پر طاقت کا استعمال قابل مذمت: ایس ڈی پی آئی




نئی دہلی : ا( ملت ٹائمز ) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے کسانوں پر لاٹھی چارج،آنسو گیس اورپانی کی بوچھاریں چھوڑکر پولیس کا کسانوں کی وحشیانہ پٹائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے طاقت کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔بھارتیہ کسان یونین کے زیر اہتمام ” کسان کرانتی پادایاترا” کے ذریعے کسان قرض معافی،کم قیمت پر بجلی فراہم کرنے اورسوامی ناتھن کمیشن کے سفارشات کو پر عمل در آمد کرنے کے جائز مطالبات کو لیکر دہلی آرہے کسانوں کو روکنا درست نہیں ہے۔اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ با بائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری جنہوں نے جئے جوان جئے کسان کا نعرہ کا لگایا تھا ان دو عظیم رہنماؤں کے سالگرہ پر کسانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا حکومت کے لیے باعث شرم کی بات ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے موجودہ حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا حکومت عوام کا پیسہ لیکر فرار ہونے والے مفرور کارپوریٹس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرے گی جس طرح اس نے کسانوں کے ساتھ سلوک کیا ہے۔غیر موثر کارپوریٹ کمپنیوں کے مالکان کو ضمانت اور موثرکسانوں پر لاٹھی برسانا کہاں کا انصاف ہے؟۔انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 5سالوں میں ملک بھر میں 50ہزار سے زائد کسانوں نے خود کشی کی ہے اور جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے ان ریاستوں میں ہی سب سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے سوال کیا ہے کہ مرکزی حکومت کسانوں کی پرامن احتجاج کی مخالف کیوں کررہی ہے ؟۔ کسانوں کو احتجاج کرنے کا پورا حق ہے اور یہ تمام شہریوں کا آئینی حق ہے۔کسانوں پر طاقت کا استعمال کرکے حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک کے زرعی شعبے کو بچانے اور کسانوں کو تباہی سے بچانے کیلئے کچھ نہیں کرنے والے ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہئے تھا کہ پانچ دن قبل نکلی کسان ریلی سے کم از کم تین دن قبل بات چیت کرے ۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات پر زور دیکر کہا ہے کہ ملک کسانوں کے جو بھی مطالبات ہیں و ہ جائز ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے ہی ان سے جھوٹا وعدہ کیا تھا کہ پانچ سال میں وہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کردیں گے۔لیکن وزیر اعظم نے اپنے وعدوں کو پورا نہ کرکے کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کیا ہے اور انہیں مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *