بنارس ۔ گجرات میں ہندی زبان بولنے والوں پر ہو رہے حملوں کی مخالفت اتر پردیش میں تیز ہو گئی ہے۔ اس ایشو پر وزیر اعظم نریندر مودی خاموش ہیں۔ لیکن پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ان کے خلاف مخالفت کی لہر شروع ہو گئی ہے۔
وارانسی شہر میں پی ایم مودی کے خلاف پوسٹر لگائے گئے ہیں جس پر لکھا ہے ’’گجراتی نریندر مودی وارانسی چھوڑو‘‘۔ یہ پوسٹر ’یو پی ایکتا منچ‘ کی طرف سے شہر میں لگوائے گئے ہیں۔’یو پی ایکتا منچ‘ نے گجرات میں اتر پردیش اور بہار کے لوگوں پر ہو رہے حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ ’یو پی ایکتا منچ‘ نے گجرات حکومت سے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ادارہ نے شہر میں پوسٹر لگانے کے ساتھ ہی گجراتی اور مراٹھی لوگوں سے ایک ہفتے میں وارانسی چھوڑنے کے لیے بھی کہا ہے۔
غور طلب ہے کہ گجرات کے بناس کانٹھا میں 14 مہینے کی بچی کے ساتھ عصمت دری کے بعد تشدد پھیل گیا تھا۔ اس دوران کئی ہندی بولنے والوں پر حملے ہوئے۔ ان حملوں کے بعد ایک اندازہ کے مطابق اب تک 20 ہزار سے زیادہ لوگ گجرات چھوڑ چکے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تشدد کے بعد گجرات کے الگ الگ حصوں سے پولس نے اب تک 450 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولس ڈائریکٹر جنرل شیوانند جھا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’6 اضلاع تشدد سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مہسانہ اور سابرکانٹھا سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان اضلاع میں 42 معاملے درج کیے گئے ہیں۔‘‘

Leave a Reply