زبانوں کے مطالعہ کے لئے تین زبانوں کا فارمولا 1968 میں وزارت تعلیم کی طرف سے ریاستی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کرکے تیار کیا گیا تھا۔ اس فارمولے کے تحت ہندی بولنے والے ریاستوں میں ہندی، انگریزی اور جدید ہندوستانی زبان (مین خصوصیات جنوبی بھارت کی زبان) پڑھانے پر زور دیا گیا تھا
نئی دہلی،یکم جون (آئی این ایس انڈیا)
جنوبی بھارت میں ہندی زبان کی ایک بار پھر مخالفت نظر آرہی ہے ۔ ڈی ایم اور کمل ہاسن کی پارٹی نے کہا ہے کہ تمل ناڈو میں ہندی پڑھائے جانے کی مرکز کی تمام طرح کی کوشش کی پرزور مخالفت کی جائے گی۔ ڈی ایم کے رہنما ٹی شیوا نے کہا کہ تمل ناڈو میں ہندی زبان کو نافذکئے جانے کی کوشش کرکے مرکزی حکومت آگ سے کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔واضح ہو کہ قومی تعلیمی پالیسی بنانے کے لئے قائم ماہرین کی کمیٹی نئے انسانی وسائل ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک کو ڈرافٹ کمیٹی نے مقرر کیاہے۔ شروعات سے ہی ہندی زبان کے خلاف سیاست کرنے والی ڈی ایم کے نے کہا ہے کہ ڈرافٹ کمیٹی کے ذریعے مرکز تمل ناڈو پر ہندی مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹی شیوا نے کہا کہ تامل ناڈو پر ہندی زبان مسلط کرنے کی کوشش یہاں کے لوگوں کی جانب سے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم لوگ ہندی کو روکنے کے لئے کچھ بھی کرگزرنے کو تیار ہیں۔ کئی فلموں میں کام اداکار سے لیڈر بنے کمل ہاسن نے بھی کہا کہ کسی کے اوپر بھی ہندی زبان نہیں تھوپی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کئی ہندی فلموں میں کام کیا ہے، میرے خیال سے کسی پر بھی ہندی زبان نہیں تھوپی جانی چاہئے۔ زبانوں کے مطالعہ کے لئے تین زبانوں کا فارمولا 1968 میں وزارت تعلیم کی طرف سے ریاستی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کرکے تیار کیا گیا تھا۔ اس فارمولے کے تحت ہندی بولنے والے ریاستوں میں ہندی، انگریزی اور جدید ہندوستانی زبان (مین خصوصیات جنوبی بھارت کی زبان) پڑھانے پر زور دیا گیا تھا، جبکہ غیر ہندی بولنے والی ریاستوں میں ہندی، انگریزی اور ایک علاقائی زبان پڑھانے پر زور دیا گیا تھا ۔






