طلاق سے متعلق قانون تضادات کا مجموعہ،  شدید ضرورت کے بغیر طلاق دینے سے گریز کریں : مولانا خالد سیف الله رحمانی




حیدرآباد: (پریس ریلیز) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ تین طلاق سے متعلق حکومت نے اکثریت کے بل پر جو قانون بنایا ہے وہ جمہوری قدروں کا قتل ہے ؛ کیونکہ جس طبقہ کے لیے قانون بنایا جارہا ہے اس کی رائے لیے بغیر ان پر جبراً ایک قانون مسلط کیا جارہا ہے‘ دستور میں اقلیتوں کو جو مذہبی آزادی اور تہذیبی شناخت کے بقاء کا حق دیا گیا ہے‘ یہ قانون واضح طور پر اس کے مغائر ہے اور اپنے آپ میں تضادات کا مجموعہ ہے‘ ایک طرف کہا گیا ہے کہ تین طلاق واقع ہی نہیں ہوتی ‘ دوسری طرق اس پر غیر معمولی سزا مقرر کی گئی ہے ‘ ایک طرف مرد پر نفقہ عائد کیا جارہا ہے ‘ دوسری طرق اس کو جیل میں ڈالا جارہا ہے ‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کو رسوا کرنے اور ان کو ان کے مذہبی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہے‘ نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو پارٹیاں آپ کو سیکولر کہتی ہیں‘ انہوں نے بھی واک آؤٹ کرکے یا ووٹنگ میں حصہ نہیں لے کر حکومت کے منصوبہ کو تقویت پہنچائی ہے‘ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو راجیہ سبھا سے یہ بل پاس نہیں ہو پاتا‘ مولانا رحمانی نے کہا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اگلے اقدام کے بارے میں غور کرے گاکہ کیا اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں چارہ جوئی کی جائے؛ کیونکہ یہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق میں دخل اندازی ہے‘ آپ نے اس پس منظر میں مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ شریعت میں اُس وقت طلاق دینے کی اجازت ہے جب اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ رہے؛ لہذا بلا وجہ طلاق دینے سے بچیں اور اپنے باہمی اختلافات کو دارالقضاء کے ذریعے طئے کریں‘ کہ یہی شریعت کا حکم ہے اور اس طرح مسلمان اپنے آپ کو خلافِ شریعت قوانین کی زد میں آنے سے بچا سکتے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *