عصر حاضر میں مکمل داعی بننے کے لیے انگریزی زبان سیکھنا نہایت ضروری




کولکاتا: (پریس ریلیز) جمعیتِ علماء مغربی بنگال اور رابطہ مدارس اسلامیہ کے ناظم عمومی مفتی عبدالسلام صاحب نے جمعیت کے ضلعی صدر جناب حافظ عبد الخالق صاحب کے ہمراہ مشہور و معروف ادارہ شالوک پاڑہ مدرسہ اشرف العلوم تشریف لاۓ ۔ ان کی آمد پر جامعہ کے ناظم مولانا موسی کلیم اللہ صاحب قاسمی، ناظم تعلیمات مولانا حبیب اللہ صاحب قاسمی ، رابطہ کے ذمہ دار مفتی وسیم الباری صاحب قاسمی اور دیگر اساتذہ کرام نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اور دیر تک اساتذۂ کرام کے ساتھ مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا اور ادارہ کے نظم و نسق اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کی جسے ادارہ کے مؤقر ناظم عمومی جناب موسی کلیم اللہ صاحب نے تمام شعبہاۓ تعلیم کے بارہ میں تفصیل سے بتایا جسے سن کر مہمان محترم نے اطمنان کا اظہار کیا، اور ادارہ کی ترقی کے لیے مفید مشوروں کے ساتھ ساتھ اپنی دعاؤں سے نوازا، ناظم مدرسہ نے ادارہ میں کھلے نیا شعبہ شعبۂ انگریزی کا بھی تعارف کرایا جسے سن کر انہوں نے قلبی مسرت کا اظہار کیا اور ڈپارٹمنٹ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور پھر مدرسہ کے سینیر اساتذۂ کرام کے ساتھ انگلش ڈپارٹمنٹ اشرف العلوم ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کا معاینہ کیا جہاں شعبہ کے ہیڈ مولانا محمد فیضان ندوی صاحب اور شعبہ کے استاد مولانا محمداسعد اقبال صاحب نے مہمان مکرم کا پرجوش استقبال کیا، اور جناب موسی کلیم اللہ صاحب نے شعبۂ کے طلبہ کے سامنے مہمان محترم کا مختصر تعارف پیش کیا اسکے بعد طلبہ نے انگریزی زبان میں اپنا اپنا تعارف کرایا اور ایک طالب علم نے (Round the clock routine) یعنی چوبیس گھنٹے کی سرگرمیاں بیان کی۔

اس کے بعد مہمان موصوف نے کچھ ناصحانہ کلمات ارشاد فرمائے اور انگریزی زبان کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ عصر حاضر میں ایک مکمل داعی بننے کے لیے انگریزی زبان کو سیکھنا بہت ضروری ہے۔ اللہ جزاۓ خیر دے مولانا بدرالدین اجمل صاحب اور مرکز المعارف کے ذمہ داروں کو کہ یہ لوگ ہمارے اسلاف کے خوابوں کی تعبیر کررہے ہیں میں آپ لوگوں سے محنت و لگن کے ساتھ اس کورس کو مکمل کر نے کی گزارش کرتا ہوں ،ساتھ ہی میں اس مدرسہ کے ذمہ داران کو بھی مبارک باد دیتاہوں کہ ان لوگوں نے یہ شعبہ کھول کر ایک بہت بڑی کمی کو پورا کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے اللہ تعالیٰ آپ سب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ اور ترقی کے مزید وسائل مہیا فرماۓ، اور میں امید کرتا ہوں کہ ان شاءاللہ اگلے دس پندرہ سال میں علماء کی ایک ایسی بڑی تعداد تیار ہوجائے گی جو اس زبان کے ذریعہ پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کا کام کرے گی۔

پروگرام کے بعد مہمان موصوف نے (hostel) یعنی دارالاقامہ کا بھی معاینہ کیا جسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام مدارس میں اسی طرح کا نظام ہونا چاہیے، اور حکومت کی طرف سے بھی اس پر زور دیا جارہا ہے۔ اس موقع پر ادارہ کے ناظم تعلیمات مولانا مفتی حبیب اللہ قاسمی صاحب رابطہ کے ذمہ دار مفتی وسیم الباری صاحب، مفتی کرامت صاحب، مولانا امتیاز صاحب، مولانا مصعب صاحب انکے علاوہ شعبہ کے اساتذۂ و طلبہ بڑی تعداد میں موجود تھے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *