مفتی اسماعیل قاسمی این سی پی چھوڑ کر ایم آئی ایم میں شامل، امتیاز جلیل نے خیر مقدم کیا




مالیگاؤں: مالیگاؤں کے معروف سیاست داں مفتی محمد اسماعیل نے، جو دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کے رکن بھی ہیں، آج این سی پی چھوڑ کر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم) میں اپنے این سی پی کے ساتھیوں کے ساتھ شمولیت اختیار کرلی۔ مشاورت چوک پر منعقد ایک جلسے میں ایم اائی ایم کے اورنگ آباد رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے ان کی شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر مفتی محمد اسماعیل نے کہا کہ انہو ںنے سیاسی پارٹی بنانے کے باوجود اس لیے این سی میں شمولیت اختیار کی تھی کہ شرد پوار او ران کی پارٹی نے اس موقع پر مالیگائوں کے بم دھماکوں کے سلسلے میں مالیگائوں کے ملزمین کی مدد کی تھی لیکن اب طلاق ثلاثہ کے خلاف بی جے پی سرکار نے جو بل پیش کیا اس موقع پر این سی پی کے رکن پارلیمان ایوان سے غائب رہے، اس طرح بی جے پی کو طلاق ثلاثہ مخالف قانون بنانے میں آسانی ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہاکہ این سی پی کے اس رویے مذمت کرتے ہوئے انہو ںنے این سی پی چھوڑ کر ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے مفتی محمد اسماعیل نے، جو مالیگائوں کے سابق رکن اسمبلی ہیں، مزید کہا کہ انہوں نے ایم آئی ایم پر لگے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے او ریہ پایا ہے کہ یہ محض الزامات ہیں، اسدالدین اویسی او ران کی پارٹی مسلمانوں او راقلیتوں کی فلاح وبہبودگی کےلیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’اب میں مالیگائوں میں ایم آئی ایم کو آگے بڑھانے کےلیے سرگرمی سے کام کروں گا‘‘۔ ایم پی امتیاز جلیل نے کہاکہ وہ لوگ جو یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ایم آئی ایم آر ایس ایس او ربی جے پی کی بی ٹیم ہیں آنکھیں کھول کر دیکھ لیں کہ آر ایس ایس او ربی جے پی کی بی ٹیم کون ہے۔ یہ این سی پی او رکانگریس والے آج بی جے پی میں ایک کے بعد ایک شامل ہورہے ہیں، ایم آئی ایم توڈٹ کر آر ایس ایس او ربی جے پی کے مقابل کھڑی ہوئی ہے۔ انہو ںنے مفتی محمد اسماعیل او راین سی پی کے مقامی ذمے داران کی ایم آئی ایم میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ پارٹی مالیگائوں میں کامیابی کی نئی منزل پر پہنچے گی۔ آج مشاورت چوک کے جلسے میں ایم آئی ایم کے مقامی عہدیداران بھی موجود تھے۔ مفتی اسماعیل کی ایم آئی ایم میں شمولیت سے مالیگائوں کی سیاسی فضا میں ایک ہلچل مچی ہے، ایسا سمجھاجاتا ہے کہ آئندہ اسمبلی الیکشن میں وہ مالیگائوں سے ایم آئی ایم کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو مالیگائوں میں این سی پی ، کانگریس اور ایم آئی ایم کے درمیان تو مقابلہ ہوگا ہی سماج وادی پارٹی او رمقامی پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں اترسکتے ہیں۔
بشکریہ ممبئی اردو نیوز

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *