سری نگر: جموں و کشمیر کے موسم گرما کے دارالحکومت سری نگر میں محرم کا جلوس نکالنے سے روکنے کے لئے کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سری نگر میں سیکورٹی اسباب سے 1990 سے محرم کا جلوس نکالنے پر پابندی عائد ہے۔
ان پابندیوں کی وجہ سے میڈیا کے لوگ اپنی اسٹوری فائل کرنے کے لئے ڈل گیٹ علاقہ میں واقع اپنے دفتر نہیں جاسکے۔ سلامتی دستوں نے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں بھی محرم کا جلوس نکالنے سے روکنے کیلئے بیشتر سڑکوں کو بند کردیا ہے۔ بڈگام ضلع میں اس سے پہلے لوگ بغیر کسی پابندی کے محرم کا جلوس نکالتے تھے۔
سری نگر میں تمام سڑکوں کو آج صبح صبح کانٹے دار تاروں سے گھیر دیا گیا اور کرفیو لگائے جانے کے بعد لوگوں کو اپنے گھر واپس جانے کے لئے کہا گیا۔
صحافیوں کو اپنی اسٹوری فائل کرنے کے لئے ڈل گیٹ سے آگے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ تمام سڑکوں کو کانٹے دار تاروں سے گھیر دیا گیا تھا۔ ریڈیو کشمیر پر تعینات ایک پولیس اہلکار نے یو این آئی کو بتایا کہ ہمیں میڈیا کے لوگوں سمیت کسی کو بھی ڈل گیٹ سے آگے نہیں جانے دینے کی سخت ہدایت ہے۔ یہاں تک کے سینئر پولیس حکام کو بھی اس پوائنٹ سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
سلامتی دستوں نے جہانگیر چوک اور رام باغ پل کو دونوں طرف سے بند کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رام باغ، بخشی اسٹیڈیم، اقبال پارک، جہانگیر روڈ اور ڈل گیٹ میں بھی تمام سڑکوں کو کانٹے دارتاروں سے گھیر دیا گیا ہے۔

Leave a Reply