دہلی: (عابد انور) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کشمیر کی ایک طالبہ نیلم فاروق کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نیلم نے دعوی کیا کہ ان کے ساتھ اس وقت بدسلوکی کی گئی جب میں داخلہ کے لئے گئی تو جامعہ کے آفس میں ان سے کہا گیا کہ یہاں داخلہ واخلہ نہیں ہوگا کشمیر جاؤ پتھر بازی کرو اور دیگر کشمیری طلبہ و طالبات کو دھکے مار کر نکال دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ جب وہ ایرپورٹ پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی داخلہ فہرست میں ان کا نام آگیا تھا اور داخلہ کا آخری دن 24ستمبر تھا اور میں 23 ستمبرکو ایرپورٹ سے سیدھے جامعہ کی گئی اور ان کو صورت حال سے آگاہ کیا تو جامعہ کے لوگوں نے کہاکہ داخلہ ہوجائے گا اور کل آجانا، لیکن جب وہ 24 ستمبر کو گئی تو ان سے کہا گیا ہے داخلہ تو 15 اگست تک لینا تھا۔ نیلم نے جواب دیا کہ کشمیرمیں انٹرنیٹ سروس بند ہے تو مجھے کیسے معلوم ہوتا کہ داخلہ کی تاریخ کیا ہے اور کب تک لینا ہے۔جامعہ والوں نے کہاکہ مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لڑکی نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ پہلی فہرست جاری ہوئی تو اس میں بھی نام تھا اور تیسری فہرست میں ان کا نام ہے۔
لڑکی نے بتایا کہ جامعہ کے لوگوں کے انتہائی غیر مہذب اور سخت لہجے میں (جس لہجے میں لڑکیوں سے بات نہیں کی جاتی) کہا کہ یہاں داخلہ نہیں ہوگا آفس سے دھکے دیکر نکال دیا اور کہا کہ کشمیر جاؤ پتھر بازی کرو۔ لڑکی نے بتایا کہ میں وائس چانسلر نجمہ اختر کے پاس گئی تو کہا گیا کہ ڈین کے پاس جاؤ اور جب ڈین کے پاس گئی تو ان سے کہا گیا کہ وائس چانسلر کے پاس جاؤ،۔ لڑکی نے کہاکہ سیٹ خالی ہے لیکن انہیں داخلہ نہیں دیا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اسپاٹ میں رجسٹریشن نہیں کرایا اس لئے داخلہ نہیں ہوگا۔ میں ان سے انٹرنیٹ کنیکشن نہ ہونے کی بات کی اور کہاکہ جب انٹرنیٹ تھا ہی نہیں تو اسپاٹ میں کیسے رجسٹریشن کرواتی۔ لڑکی نے بتایا کہ ایڈوائرر نے کہا کہ زیادہ چلاؤ نہیں جامعہ میں بھی داخل نہیں ہونے دوں گا۔ لڑکی نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہورہا ہے بلکہ بہت سارے کشمیری طلبہ و طالبات کے ساتھ ایسا ہورہا ہے۔ سات آٹھ کشمیری تو میرے ہی رابطے میں ہیں۔ لڑکی نے کہاکہ سارے کشمیری طلبہ ڈین آفس کا چکر لگا رہے ہیں اس سے داخلہ لینے کے بارے میں کہہ رہے ہیں تو انہیں دھکے مار کر نکالا جارہا ہے۔ لڑکی نے دعوی کیا کہ کم نمبر والوں کو داخلہ دیا گیا ہے۔ لڑکی نے کہاکہ ہم نے اپنے فون نمبر چھوڑے ہیں تاکہ ہمیں اس کی اطلاع مل جائے لیکن کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سری نگر کی رہنے والی نیلم فاروق نے کہاکہ وائس چانسلر صاحبہ کسی کشمیری طلبہ سے نہیں مل رہی ہیں اور اپنے ایڈوائر کو رکھا ہوا ہے اور جب ایڈوائزر سے بات کی جاتی ہے تو چلاکر کہتے ہیں زیادہ بولا تو جامعہ میں گھسنے نہیں دوں گا۔ این ڈی ٹی وی کے ایک سوال کے جواب میں نیلم فاروق نے کہاکہ مودی جی کہتے ہیں کہ ہم ’وکاس’کریں گے جب کہ کشمیری طلبہ کو پڑھنے نہیں دیا جارہا ہے۔ انٹرنیٹ بند ہے، موبائل بند، لینڈ لائن بند ہے، تمام ادارے بند ہیں۔ جب تمام ادارے اور رابطے کے تمام ذرائع بند ہیں تو کشمیری طلبہ کو کیسے پتہ چلے گا کہ ان کا کہاں داخلہ ہوا ہے اور نوکری میں کہاں سلیکشن ہوا ہے۔ انہوں نے اپنا ذاتی تجربہ کا اشتراک کرتے ہوئے کہاکہ مجھے پین کلر کی ضرورت تھی لیکن مجھے یہ دوائی دستیاب نہیں ہوسکی کیوں کہ وہاں تمام چیزیں بند ہیں۔ تمام مارکیٹ، دکانیں،ادارے اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ تمام چیزیں ٹھپ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کو لیکر بی جے پی آفس کے اقلیتی سیل میں گئی اور وہاں صورت حال سے واقف کرایا تو وہاں سے وائس چانسلر کے نام ایک خط لکھ کر دیا گیا جو میں جامعہ میں وی سی آفس میں دے دیا۔ اس پر کیا کارورائی ہوئی مجھے نہیں معلوم اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی اطلاع اب تک دی گئی ہے۔
پانچ اگست سے کشمیر میں پابندی لگنے اور عملاً جیل میں تبدیل کرنے کے بعد وہاں کے لوگ تمام ضرورریات زندگی کے لئے ترس رہے ہیں اور کشمیر سے باہر رہنے والا طلبہ اپنے خاندان سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ بہت سے کشمیری طلبہ جو تعلیم کے سلسلے میں وادی سے باہر ہیں وہ اپنی فیس جمع نہیں کرپارہے ہیں کھانی پینے کی دقت ہے۔پیسے کی قلت کی وجہ سے مختلف طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہیں لیکن حکومت کہہ رہی ہے وہاں سب خیریت سے ہیں۔

Leave a Reply