لکھنو: (ایم این این ) ندوة العلماءمیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آج میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں بابری مسجد تنازع، طلاق ثلاثہ، یکساں سِول کوڈ اور مسلم خواتین کے مسائل کیسے حل کیے جائیں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق میٹنگ میں چار نکات پر خاص طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
1- بابری مسجد کے مسئلے پر بورڈ نے سپریم کورٹ میں کس طرح سے اپنی بات رکھی ہے اور پورے کیس میں ابھی تک کیا کیا ہوا؟ اس کی تفصیلات سے اراکین کو آگاہ کیا گیا۔
2- طلاق ثلاثہ بل، امید ہے کہ بورڈ سپریم کورٹ میں جلد ہی اپیل کرے گا۔
3- یکساں سِول کوڈ پر بورڈ کا کیا موقف ہونا چاہیے؟ اس پر کھل کر بات چیت کی گئی۔
4- شریعت نے مسلم خواتین کو کیا حقوق دیے ہیں؟ اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
ان سبھی ایشوز پر بات چیت ہوئی ہے۔
گزشتہ دنوں مسلم دانشوران کی ایک میٹنگ انڈین مسلم فار پیس کے بینر تلے ہوئی تھی، جس میں مسلم دانشوروں نے یہ بات رکھی کہ بابری مسجد کی متنازعہ اراضی بادشاہ بابر کے زمانے سے ہی سرکاری زمین ہے۔
لہذا اسے سنی سنٹرل وقف بورڈ کے ذریعے سرکار کے حوالے کر دی جائے۔ اس کے بعد اگر ہمیں دوسری جگہ پر مسجد بنانے کی جگہ مل جاتی ہے تو بہتر ہے۔
ایودھیا سمیت دیگر مقامات میں جہاں مساجد، امام باڑے ہیں، وہاں کی مرمت، تزئین کاری نیز تعمیر نو کا کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے اس کی اجازت دی جائے۔
سنہ 1991 کے مذہبی مقامات ایکٹ میں تین ماہ کی سزا کو بڑھا کر تین برس یا عمر قید کیا جائے۔ آثار قدیمہ کے ماتحت آنے والی مساجد میں مذہبی رسوم ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
بابری مسجد منہدم کرنے والے ملزمین کے خلاف سخت سزاﺅں کا التزام کیا جائے۔ بابری مسجد فسادات کی ایس آئی ٹی جانچ کرائی جائے اور ملزمین کو سزا دی جائے۔ مسلم دانشوران کی اس میٹنگ کے بعد انہوں نے نے ایک تجویز بنا کر مسلم پرسنل لا بورڈ کو کل شام میٹنگ سے قبل بھیج دیا تھا تاکہ وہ اس پر غور کرسکیں۔
حالانکہ، کچھ روز پہلے ہی ای ٹی وی بھارت سے بات چیت کے دوران ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ 1992 کے بعد سے لگاتار بات چیت ہوتی آرہی ہے جس میں مسلم فریق سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ رام مندر کو لیکر کروڑوں ہندو¿ں کی آستھا کا سوال ہے۔ لہذا آپ بابری مسجد سے اپنا دعوی ترک کردیں۔ اسی وجہ سے کبھی بھی آپسی بات چیت پر ایک خیال نہیں بن سکا۔
مولانا توقیر رضا خاں بریلوی نے صحافیوں کے سامنے نے کہا تھا کہ بابری مسجد مسئلہ آپسی بات چیت کے ذریعہ ہی حل کرنا مناسب ہے کیونکہ اگر فیصلہ مسلم فریق کے حق میں آتا ہے تو ملک میں خون خرابہ ہوسکتا ہے ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے۔
آج کی میٹنگ بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی کی صدارت میں ہوئی جس میں مولانا بورڈ ے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی ۔ جمعیت العلماءکے صدر مولانا ارشد مدنی، قاسم رسول الیاس، مولاناخالد سیف اللہ رحمانی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، بورڈ کے سیکریٹری ظفریاب جیلانی اور کمیٹی کے دیگر ممبران میٹنگ میں شامل ہیں۔
معلوم رہے کہ دو روز قبل ہی تنظیم انڈین مسلم فار پیس نے بابری مسجد کو ہندو فریق کے حوالے کرنے کا اعلان کر چکی ہے اور اس کے بدلے سپریم کورٹ مسجد کے لیے کہیں اور زمیں دے۔ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر بابری مسجد دے دیا جائے تو ملک میں امن و امان قائم رہے گا اور بڑی تعداد میں دوسری مساجد محفوظ ہوجائیں گی۔

Leave a Reply