احمد آباد: (ایم این این) کمشیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کیے ہوئے دوماہ سے زائد ہوگئے ہیں، لیکن آج تک وہاں کے لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ ایسے میں احمدآباد سے کشمریوں کے حق کے لئے آواز بلند کی گئی اور کشمیریوں کے ساتھ ہورہی نا انصافی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ احمدآباد میں کشمیریوں کےحق میں ایک بڑے پیمانے پر لوگ سڑکوں پر اترے ۔
احمدآباد کے مشہور ادارے آئی آئی ایم کے باہر پورے گجرات سے مختلف تنظیموں اور شعبوں سے جڑے لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور موم بتی لے کر کشمیر کے درد کو اجاگر کیا اوران کے ساتھ ہورہی نا انصافی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔کشمیریوں کی حمایت میں احتجاج، دیکھیں ویڈیواس تعلق سےمائناریٹی کوآرڈینیشن کمیٹی گجرات کے کنوینر مجاہد نفیس نے کہا کہ ‘تمام لوگوں کے دلوں میں کشمیریوں کے لئے درد ہے، دو ماہ سے زائد ہونے کے باوجود وہاں کی عوام پریشان حال ہیں۔ ایسے میں گجرات کے تمام لوگ ان کے ساتھ ہیں اور جمہوریت کو بچانے کا مطالبہ کر رہے ہیں’۔اس موقع پر احمدآباد کی تمام انصاف پسند تنظیموں سے جڑے لوگوں نے حصہ لے کر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی، اس پر گجرات ہائی کورٹ کے وکیل شمشاد خان پٹھان کا کہنا ہےکہ ‘حکومت کشمیر میں سب ٹھیک ہونے کا دعویٰ کررہی ہے، لیکن وہاں کچھ بھی ٹھیک نظر نہیں آ رہا’۔
ایسے میں سرکار کو چاہئے کہ کشمیر میں امن بحال کرے اور حالات معمول کے مطابق کرے۔ویلفیئر پارٹی آف انڈیا گجرات کے صدر اکرام بیگ مرزا نے کشمیریوں پر ہورہے ظلم و ستم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘دفعہ 370 ہی کمشیر کو بھارت سے جوڑتی تھی، لیکن حکومت نے اسے ہی نیست و نابود کردیا، حکومت اس سے کشمیریوں کے حقوق کو مارنے کی شازش کررہی ہے، جس کے خلاف آج احمدآباد کے لوگ سڑکوں پر ہیں’۔ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والا آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد سے زیادہ تر بازار بند ہیں اور عوامی آمد و رفت بھی ٹھپ ہیں۔

Leave a Reply