مسجد کی زمین مندر کے لئے دے دی گئی ہمیں بے حد تکلیف ہے بورڈ نے دلائل و شواہد کی روشنی میں کورٹ کے سامنے یہ بات واضح کر دی تھی کہ بابری مسجدکسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی: مولانا سید ولی رحمانی 




نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نے بابری مسجد کے سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمی کے فیصلے کا کچھ حصہ ہمارے حق میں ہے اور کچھ ہمارے خلاف ہے، مسلم فریق کی جانب سے بابری مسجد کیس کی مضبوط اور مؤثر پیروی کی گئی تھی اور بورڈ کے وکلاء نے دلائل وشواہد کی روشنی میں کورٹ کے سامنے یہ بات واضح کر دی تھی کہ بابری مسجدکسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی تھی، اور ۱۵۲۸؁ء سے دسمبر ۱۹۴۹؁ء تک ہمیشہ اس مسجد میں نماز باجماعت ہوتی رہی ہے۔ جس رات مسجد میں مو رتی رکھی گئی اس رات بھی عشاء کی نماز ادا کی گئی۔ خود حکومت نے بھی ۱۹۵۰؁ء میں جو دعویٰ دائر کیا اس میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ،نرموہی اکھاڑہ نے ۱۸۸۵؁ء اور ۱۹۴۱؁ء میں عدالت کے سامنے جو نقشہ پیش کیا اس میں اس جگہ پر مسجد ہونے کو تسلیم کیا گیا اور چبوترہ پر جنم استھان ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پہلی دفعہ ۱۹۸۹ ء میں کورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گنبد کے نیچے رام جی کی پیدائش ہوئی تھی۔ خود کورٹ نے یہ تسلیم کیا کہ ۲۲؍دسمبر کی درمیانی شب میں مسجد کے اندر مورتیاں رکھی گئیں۔ ۱۹۸۹؁ء تک ہندو فریق نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مسجدکے بیچ کے گنبد کے نیچے رام جی کی جائے پیدائش ہے۔ سخت افسوس ہے کہ اس تاریخی پس منظر اور زمین کے مالکانہ حق کے باوجود۱۹۴۹؁ء میں مسجد میں مورتی رکھنے کے مجرمانہ فعل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۲؁ء میں مسجدشہید کردی گئی، کورٹ نے خود ملکیت کے مقدمہ میں یہ تسلیم کیا تھا کہ فیصلہ کی بنیاد آستھا نہیں بنے گی اور نہ ہی آثارِ قدیمہ کی رپورٹ، لیکن اس کے برعکس دونوں ہی بنیادوں کوکورٹ نے اپنے فیصلہ میں تسلیم کرلیا۔ اسی طرح کورٹ نے ہماری یہ بات بھی مانی تھی کہ سیاحوں کے سفرناموں کو فیصلہ کی بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔ اسی طرح نرموہی اکھاڑا نے اپنے کیس ۱۸۸۵؁ء اور ۱۹۴۱؁ء میں مسجد کی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنی طرف سے قانونی و تاریخی دلائل و شواہد پیش کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کی، اور کورٹ میں بھرپور طریقہ سے اس کیس کی پیروی کی، اس مقدمہ کا ریکارڈ دیکھ کر بخوبی اس کا اندازہ ہوتاہے، اس کے باوجود بابری مسجد کی زمین مندر کے لئے دے دی گئی جس پرہمیں بے حد تکلیف ہے، تاہم بورڈ اس فیصلہ کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔ اس کے بعد نظرثانی (REVIEW PETITION) کی درخواست داخل کرنے کے بارے میں غور کرسکتا ہے یا اگلے قدم کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ اﷲ کے گھر کی حفاظت کی جو ذمہ داری مسلمانوں پر ہے بورڈ نے آپ سب کی طرف سے پوری طرح اس ذمہ داری کو ادا کیا ہے۔ آپ مایوس اور بد دل نہ ہوں اور اپنی طرف سے ہرگز ایسے رد عمل کا اظہار نہ کریں، جس سے ملک کا امن و امان متأثر ہو، مسلمانوں کے لیے محفوظ اور مناسب طریقہ کار یہ ہے کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی ہدایات کا انتظار کریں اور بورڈ کی طرف سے جو بھی ہدایات دی جائیں اس پر عمل کریں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *