اے ایم یو کو ملی بڑی کامیابی، اسرو لگائے گا وہاں ایک موسمی غبارہ






علی گڑھ (ایم این این) ریاست اترپردیش کے ضلع علی گڑھ میں واقع معروف علمی دانشگاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ میں بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم اسرو ایک موسم غبارہ لگائے گا۔ جو موسم اور آب و ہوا سے متعلق تمام جانکاریاں فراہم کرے گا۔

شعبہ جغرافیہ کے ایچ او ڈی پروفیسر عتیق احمد نے بتایا کہ یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے خوشی کا مقام ہے کہ اعلی تحقیقی ادارہ اسرو یہاں پر ایک ایسے آلے کو لگانے جا رہا ہے، جس سے موسم سے متعلق تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ اس آلے کو ریڈیو ساؤنڈ آبزرویشن کہتے ہیں یہ اسٹیٹ آف آرٹ آف ٹیکنالوجی ہے۔اے ایم یو کو ایک اور بڑی کامیابی، دیکھیں ویڈیواس نظام کے تحت 35 کلومیٹر کی اونچائی پر ایک غبارہ چھوڑا جائے گا جس میں جی پی ایس چپ لگا ہوگا یہ موسم سے متعلق تمام طرح کی تفصیلات بھیجے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ درجہ حرارت کی ریکارڈنگ، نمی، سینسر اور اس پورے موسم سے متعلق ڈیٹا کو جمع کرکے یہ گراؤنڈ بیس پر منتقل کریگا ۔ اس کا ڈیٹا آن لائن سے لنک ہوگا اور وہی ڈیٹا تحقیقی مرکز کو اطلاعات ترسیل کرے گا۔تحقیق کے لیے، انوویشن کے لیے، پیشن گوئی کے لئے ہم ایک ماڈیولر فورمولیٹ کریں گے جس سے معلوم ہو گا آنے والے دنوں میں موسم کیسا ہوگا؟پروفیسر عتیق نے بتایا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پہلے غبارہ میں ہیلیم کا استعمال ہوتا تھا، لیکن اب اسرو نے فیصلہ کیا ہے کہ اس میں ہائیڈروجن کا استعمال کیا جائے گا۔ جس سے معاشی فائدہ بھی ملے گا۔ ایک سوال عام ذہنوں میں آ رہا ہوگا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہی کو اس کے لیے کیوں منتخب کیا گیا؟ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ علی گڑھ ہوائی ٹریفک سے دور ہے جس سے ماحول اور ہوائی آلودگی کے عناصر کو جمع کرنے میں پریشانی نہیں آئے گی۔موسم غبارہ سو کلومیٹر ریڈیاس میں پورے دہلی اور این سی آر کے موسم اور آب و ہوا سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔یہ آلہ 35 کلو میٹر اونچائی پر آسمان میں جو ٹراپوسفیئر اور اسٹرا ٹوسفیئر کے اندر جتنی تبدیلیاں آرہی ہیں بتائے گا۔ ٹراپوسفیئر میں جتنے موسم سے متعلق رجحانات ہوتے ہیں اسے کا مشاہدہ ہم ریڈیو سونگ تکنیک سے کریں گے۔ملک کے شمالی بھارت میں صرف اے ایم یو کو یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ جہاں یہ آلہ لگنے جا رہا ہے۔پروفیسر عتیق احمد نے اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کا شکر ادا کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں وائس چانسلر کا بہت بڑا کردار اور رول ہے۔ میں ان کا بہت ممنون اور مشکور ہوں کہ انہوں نے اس مشن کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *