غریبوں کو سستا اناج دینے والے ’ پی ڈی ایس منصوبہ ‘ میں بدعنوانی، یوپی – بہار سرفہرست






ملک کے غریبوں کو سستا اناج دستیاب کرانے کے لیے شروع کیے گئے عوامی نظام تقسیم یعنی پی ڈی ایس منصوبہ میں بدعنوانی جاری ہے اور اس معاملے میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والا اتر پردیش نمبر ایک پر ہے۔

اتر پردیش میں پی ڈی ایس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی جاری ہے۔ منگل کو لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں امور صارفین اور خوردنی کے ریاستی وزیر مملکت راؤ صاحب پاٹل دانوے نے بتایا کہ اس سال 31 اکتوبر 2019 تک پی ڈی ایس میں بدعنوانی کی کل 807 شکایتیں ملی ہیں جن میں سب سے زیادہ 328 شکایتیں اتر پردیش سے آئی ہیں۔ غور طلب ہے کہ عوامی نظام تقسیم میں گھوٹالے کے لیے اتر پردیش پہلے بھی کئی بار سرخیوں میں رہا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت نے یہ جواب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے علاقے گورکھپور سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ روی کشن اور آگرہ سے رکن پارلیمنٹ رام شنکر کٹھیریا کے سوال پر دیا ہے۔ ان اراکین پارلیمنٹ نے پوچھا تھا کہ کیا خوردنی اشیاء تقسیم کے معاملے میں آئی شکایتوں میں اتر پردیش بھی شامل ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے ان شکایتوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ اس پر لگام لگانے کے لیے اٹھائے گئے قدموں کی جانکاری مانگی۔ ساتھ ہی انھوں نے حکومت کے ذریعہ اس کے مستقل حل کے لیے لائے گئے منصوبہ کے بارے میں بھی جانکاری مانگی۔

حکومت نے ان سوالوں کے جواب میں بتایا کہ اتر پردیش میں پی ڈی ایس میں بدعنوانی کے سب سے زیادہ 328 شکایتیں آئی ہیں جب کہ دوسرے مقام پر بہار ہے جہاں سے 108 شکایتیں آئی ہیں۔ دھیان رہے کہ بہار میں بھی بی جے پی-جنتا دل یو کی ملی جلی حکومت ہے۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایس میں بدعنوانی کے معاملے میں دہلی تیسرے مقام پر ہے جہاں سے 78 شکایتیں آئی ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ جن ریاستوں سے پی ڈی ایس میں بدعنوانی کی کوئی شکایت نہیں ملی ہے ان میں منی پور، اروناچل پردیش، میزورم، سکم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کے ماتحت ریاستوں انڈمان نکوبار جزیرہ، چنڈی گڑھ، دادر ناگر حویلی اور لکشدیپ سے بھی کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔

صارف معاملوں کے ریاستی وزیر نے بتایا کہ پی ڈی ایس (کنٹرول) حکم 2015 کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے جرم کے لیے ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے مطابق سزا کا انتظام ہے۔ اس حکم کے تحت ریاست و مرکز کے ماتحت ریاست کو سزا کی کارروائی کرنے کی طاقت حاصل ہے۔

وزیر نے بتایا کہ عوامی نظام تقسیم میں اصلاح لانے کے لیے وزارت سبھی ریاستوں اور مرکز کے ماتحت ریاستوں کے تعاون سے پی ڈی ایس آپریشن کو کمپیوٹرائزڈ کر رہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت راشن کارڈ/نفع حاصل کرنے والوں کا ڈیجیٹلائزیشن کر کے سپلائی چین مینجمنٹ کا کمپیوٹرائزیشن کیا جا رہا ہے اور اس میں شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل (ای-پی او ایس) ڈیوائس کا استعمال کر کے راشن کی دکانوں کا آٹومیشن کیا جا رہا ہے۔

دھیان رہے کہ اتر پردیش میں کروڑوں روپے کے خوردنی اشیاء گھوٹالے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 2014 میں سی بی آئی کو ریاست کے سابق کابینہ وزیر رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کے کردار کی جانچ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *