دربھنگہ: صدر تھانہ حلقہ کے ایک گاؤں میں جمعہ کی شام گھر کے باہر کھیل رہی پانچ سالہ نابا لغ بچی کو بہلا پھسلا کر ای رکشا چلانے والے ٹیمپو ڈرائیور تیتر سہنی ولد لال بچن سہنی کے ذریعہ عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹیمپو ڈرائیور نے بچی کو اغوا کر کے باغیچہ میں لے گیا اور عصمت دری کے واقعہ کو انجام دیا۔ ملزم کی شناخت صدر تھانہ حلقہ کے بھگوان پور گاؤں باشندہ ٹیمپو ڈرائیور تیتر سہنی ولد لال بچن سہنی کی شکل میں کی گئی ہے۔ دیر رات پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ بچی گھر کے سامنے سڑک پر کھیل رہی تھی۔ اسی دوران ٹیمپو ڈرائیور اپنی گاڑی میں بیٹھا کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اس کہ ساتھ کھیل رہی دوسری بچی نے شور کیا تو کچھ دیر بات بچی کے والد نے اسی کی تلاش شروع کی اور ٹیمپو کا پیچھا کیا۔ گاؤں کے باہر ایک گاچھی کے پاس ٹیمپو سڑک پر کھڑا پایا گیا وہیں گاچھی سے بچی کے رونے کی آواز آئی۔ وہاں جا کر دیکھا تو وہ بچی کافی لہو لہان حالت میں تھی یی دیکھ والد گھبرا گئے اس کی اطلاع ملتے ہی صدر تھانہانچارج گر جا بیٹھا اور خاتون تھانہ کی پولیس کی مدد سے بچی کو علاج کے لیے ڈی ایم سی ایچ کے گائینک وارڈ میں داخل کرایا۔گیا بچی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
وہیں سیٹی ایس پی یوگندر کمار نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی صدر اور خاتون تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے زخمی بچی کو علاج کے لیے ڈی ایم سی ایچ میں داخل کرایا۔ سیٹی ایس پی یوگندر کمار نے پریس کانفرنس میں گرفتار ملزم ای رکشا ڈرائیور کو مڈیا کے سامنے پیش کر۔ انہوں نے کہ ملزم کو سزا دلائے جانے کو لے کر فارنسک ٹیم نے دربھنگہ پہنچ کر سائنسی تفتیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپڈ ی ٹرائل چلاکر سزا دلائ جا ئے گی ساتھ ساتھ کورٹ کو بھی کہا جائے گا کہ اس کس کی تیزی سے سماعت کر کے ملزم کو سزا دے تاکہ متاثرہ کو انصاف مل سکے اور عوام کو بھی یہ پیغام جائے کہ پولیس چاک چوبند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس بھی جلد ہی چارج شیٹ داخل کرے گی۔ ادھر ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ملزم اپنی بیوی کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا اس لیے دو سال قبل ہی اس کی بیوی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اس کا دو بیٹا اور ایک بیٹی بھی جو تیتر کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ شاید اسی وجہ کر تیر سہنی نے اتنا برا قدم اٹھایا ہے۔

Leave a Reply