لکھنؤ: اردوکے جید صحافی حفیظ نعمانی کا کچھ دیر پہلے لکھنؤ کے سہارا اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ پچھلے چند دنوں سے شدید بیمار تھے۔ حفیظ نعمانی اردو صحافیوں کی اس نسل کے آ خری چراغ تھے جس نے آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ انھوں نے سچ لکھنے کی پاداش میں قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی تحریک کے دوران ” ندائے ملت” کا مسلم یونیورسٹی نمبر شائع کرنے کی پاداش میں انھیں گرفتار کیا گیا اور وہ کئی مہینے جیل میں رہے۔
حفیظ نعمانی معروف عالم دین مولانا منظور نعمانی کے فرزند ارجمند تھے۔ انھوں نے کئی اخبارات و جرائد کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔ پچھلے کئی برسوں سے ملک کے اہم روزناموں میں ان کے بے لاگ مضامین تواتر کے ساتھ شائع ہورہے تھے۔ زبان وبیان کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کی تاریخ پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
ان کے انتقال پراپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مشہور صحافی معصوم مرادآبادی نے کہاکہ حفیظ نعمانی صاحب کا انتقال میرا ذاتی نقصان بھی ہے۔ وہ مجھ سے محبت اور شفقت کا سلوک کرتے تھے۔ میں جب بھی لکھنؤ جاتا تو ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا اور ان کی دعائیں لیتا تھا۔ اللّہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ دیگراہم شخصیات خصوصا صحافت سے وابستہ افراد نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Reply