سی اے اے اور این آر سی کے خلاف پپو یادو نے بیڑیاں پہن کر مظاہرہ کیا ، کنہیا کمار ، جیتن رام مانجھی اور مکیش سہنی بھی رہے موجود  






پٹنہ: (ملت ٹائمز / فضل المبین ) رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ کے یوم شہادت کےموقع پر یکساں وراثت یکسان شہادت اور یکساں شہریت اور لے کر ہیں آزادی کے نعروں کے ساتھ آج پٹنہ کی ہر چھوٹی بڑی سڑکوں پر عوامی سیلاب سیاہ قانون سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں امڈ آیا۔ ہزاروں کی تعداد میں ہاتھ میں ترنگا اور مختلف جھنڈے لئے لوگ سی اے اے جیسے ظالمانہ قانون کو واپس لینے کا مطالطہ کرتے ہوئے نعرے بازیاں کررہے تھے۔احتجاج کرنے والوں میں ہر عمر اور ہر طبقے کی نمائندگی دیکھی گئی۔ لیکن بڑی تعداد میں آئین اور جمہوریت کی حفاظت کے نعرے کے ساتھ نو جوان سڑکوں پر اتر آئے۔ گرفتاریوں اور پولس کے ذریعہ لگائے گئے دفع 44کی پرواہ کئے بغیر عوام کا پر امن احتجاج آج صبح 8بجے سے ہی شروع ہوچکا تھا،سڑکیں سن سان اور ریل آمد و رفت پوری طرح متاثر رہی۔

بہارمیں شہریت ترمیمی قانون( سی اے اے ) اور قومی شہریت رجسٹر(این آر سی ) کے خلاف بایاں محاذ، جن ادھیکار پارٹی، اور وکاس شیل انسان پارٹی ( وی آئی پی)آل انڈیا ملی کونسل بہاراور کچھ مسلم تنظیموں کی اپیل پر آج بہاربند کے دوران بڑی تعدادمیںلوگوں نے سڑکوںپر اتر کر مظاہرہ کیا اور ریل گاڑیوں کی آمد ورفت متاثر رہی ہے ۔سابق ممبر پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو نے بیڑیاں پہن کر یہاں ڈاک بنگلہ چوراہا پر مظاہرہ کیا۔ ان کے ساتھ پارٹی کارکنان نے سڑکوں پر اترکر ٹائر جلا کر آمد ورفت کو جام کر دیا۔ مسٹر یادو نے کہاکہ حکومت نے پہلے ہی بیٹیوں کو قید کردیاہے ۔ وہیں نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے گھروں میں قید ہیں اور اب حکومت کالا قانون لاکر ایک بڑے طبقے کو قید کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس قانون سے سب سے زیادہ پریشان غریب ، دلت، پسماندوں کو ہونا ہے ۔ جن کے پاس کھانے کیلئے دووقت کی روٹی نہیںہے وہ کہاں سے زمین یا دیگر کوئی دیگر دستاویزدکھا کر اپنے کو ہندوستانی شہری ثابت کر پائیںگے ۔مسٹر یادو اور ان کے حامیوں کو بعدمیںپولیس نے حراست میں لے کر سڑک سے جام ختم کرایا ۔ بعدمیںپولیس نے مسٹر یادو اور ان کے حامیوںکو چھوڑ دیا۔ بند کی حمایت میں بایاں محاذ کے لیڈران کے ساتھ کانگریس اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( آر ایل ایس پی) کے لیڈر بھی سڑکوںپر اترے ۔ بندحامیوں نے این آ ر سی اور سی اے اے کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ لیڈران نے کہاکہ ملک کے مفاد میں حکومت کو یہ قانون واپس لینا پڑے گا۔ حکومت کے غلط فیصلوںکی وجہ سے آج پورا ملک جل رہا ہے ۔جگہ ۔ جگہ طلباء مظاہرہ کر رہے ہیں اور حکومت انکے خلاف سختی سے پیش آرہی ہے ۔ حکومت کا قدم ملک کو پسماندگی میں لے جانے والا ہے ۔پھلواری شریف میںبہار۔ جھارکھنڈ ۔ اڑیسہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا ادارہ امارت شرعیہ بھی مظاہرے میں شامل ہوا۔ لوگوںنے سڑکوں پر کئی جگہ ٹائر جلا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ اس موقع پر امارت شرعیہ کے کارگذار ناظم مولانا شبلی القاسمی نے کہاکہ جمہوریت کے حق کے خلاف ملک میں مذہب ، فرقہ واریت کی بنیاد پر لوگوںکو تقسیم کرنے والے حکومت کے فیصلوں اور نئے قانون کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔ غریبوں، دلتوں ، اقلیتوں سمیت دیگر مذاہب کے مابین ، فرقہ کے لوگوں کے مابین تفریق پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کی امارت شرعیہ جمہوری طریقے سے مخالفت کرتی ہے ۔ انہوں نے لوگوںسے اپیل کی کہ امن پسند اور جمہوریت کے حق وحقوق کی آواز بلند کرنے کیلئے حکومت کے نئے قانون کے احتجاج میں پر امن طریقہ سے مظاہرہ کریں۔ادھر مظاہرین نے پٹنہ ، دربھنگہ اور کھگڑیا میںریل پٹریوں پر دھرنا دیا، جس کی وجہ سے ریل آمدورفت پوری طرح متاثر رہاہے ۔ بند حامیوںنے دربھنگہ میں کملا ۔ گنگا انٹر سیٹی ایکسپریس اور سمپرک کرانتی ایکسپریس اورموہنیاں ، سمستی پور ، کھگڑیا ، جہان آباد اور کٹیہار میں سواری ریل گاڑیوں کو روک دیا ۔ اسی طرح بند حامیوںنے نیشنل ہائی وے کو بھی متعددجگہوںپر جام کر یا ۔وہیں ،بہار بند کو دیکھتے ہوئے دارالحکومت پٹنہ کے سبھی اہم اسکولوں نے آج تعطیل کا اعلان کر دیا تھا۔ اسکول انتظامیہ نے بچوںکی حفاظت اور ٹریفک جام رہنے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا۔دریں اثناءبھاگلپور سے موصولہ خبر کے مطابق ، ضلع کے ناتھ نگر تھانہ علاقہ کے چمپا نالہ پل کے قریب آج شام بند حامیوںاور مقامی لوگوںکے مابین جھڑپ اور پتھراؤ میں تین افراد زخمی ہوگئے ۔ بند حامیوںنے ایک صحافی کا موبائل چھین کر اس کے ساتھ بدسلوکی کی ہے ۔پولیس نے یہاں بتایاکہ بند کے دوران کچھ لوگوں کی پیٹائی کرنے والے بندحامیوںکی مقامی لوگوںنے مخالفت کی ۔ اس کے بعد بند حامیوں نے پتھراؤ شروع کر دیا جس میں تین لوگ زخمی ہوگئے ۔ اس دوران بند حامیوں نے مقامی نامہ نگارسرویش کمار کے ساتھ بھی بدسلوکی کرتے ہوئے اسکاموبائل چھین لیا۔ اس سلسلے میں پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے ۔ادھر پتھراؤکے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ اور سنیئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے جائے وقوع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور امن و امان بنائے رکھنے کی اپیل کی ۔سمستی پور سے ملی رپورٹ کے مطابق شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں بائیں بازو کی جماعتوں کے بہار بند کا سمستی پور ضلع میں ملاجلا اثر دیکھنے کو ملا ۔ بائیں بازو کے علاوہ راشٹریہ لوک سمتا پارٹی اور ہندوستانی عوام مورچہ ( ایچ اے ایم ) کے کارکنا بھی بندکی حمایت میںسڑکوں پر اترے ۔ بند حامیوںنے سمستی پور ۔ پٹنہ اور سمستی پور ۔ دربھنگہ سمیت مختلف شاہراہوںکو جام کر دیا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *